تازہ ترین
• شبلی کا تصورِ تعلیم اور عصرِ حاضر کے علمی و تہذیبی تقاضے • مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ میں قاضیان شرع کااجلاس اورفقہی ویب سائٹ کے قیام پر اہم فیصلے • ڈالر کی بالادستی کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟ • جنتر منتر احتجاج کی منسوخی پر ملت میں مایوسی • ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کے شعری مجموعے ’’دل مضراب‘‘ کا اجرا • ترنمول کانگرس کی شکست کے اسباب! • غوث اعظم سید الاولیاء رضی اللہ عنہ:علم و عرفان کے تاجدار اور اصلاح امت کے عظیم پیشوا • جمعہ مسلمانوں کے لیے عید کیوں ہے؟ • حضرت غوث الاعظم کی زندگی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ: مفتی غلام حسین ثقافی • حضرت سیدنا قادر قمیص رحمتہ اللہ علیہ کا عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

ڈالر کی بالادستی کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

PostMail 📅 28-09-2026 👁 8 views 💬 1 comments 🔁 1 shares
تحریر: ریاض فردوسی۔9968012976

ہنری کسنجر کون تھا؟
سابق امریکی وزیرِ خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر(Henry
Kissinger)(جس کو اردو میں بعض اوقات حینرک کسنجر بھی لکھا جاتا ہے)نے اپنی
سفارتی تاریخ اور"شٹل ڈپلومیسی"کے ذریعے کئی اہم اور تاریخی بین الاقوامی
معاہدات طے کروائے۔ہنری کسنجر یہودی تھا۔اس کا تعلق ایک جرمن یہودی خاندان سے
تھا۔ہنری کسنجر 1923ءمیں جرمنی کے علاقے باویریا میں ایک روایتی یہودی خاندان
میں پیدا ہوا تھا۔اس کا اصل نام ہائنز الفریڈ کسنجر (Heinz Alfred Kissinger)
تھا۔1930ءکی دہائی میں جب جرمنی میں ہٹلر اور نازیوں نے یہودیوں پر ظلم و ستم
شروع کیا،تو اس کا خاندان اپنی جان بچانے کے لیے 1938ءمیں جرمنی سےہجرت کرکے
امریکہ منتقل ہو گیا۔وہ امریکہ کا پہلا وزیرِ خارجہ تھا،جو پیدائشی امریکی
نہیں تھااور یہودی پس منظر رکھتا تھا۔اگرچہ وہ خود کا مذہبی ہونا ظاہر نہیں
کرتا تھا،لیکن اس کی پالیسیوں اور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ(اسرائیل اور عرب
ممالک)کے حوالے سے کی جانے والی سفارت کاری پر اس کے یہودی پس منظر کے اثرات
کو ہمیشہ زیرِ بحث لایا جاتا رہا ہے۔
ہنری کسنجر نے 1974ءمیں سعودی عرب کے ساتھ جو تاریخی معاہدہ طے کروایا تھا،اسے
عالمی معیشت اور سیاست کی زبان میں"پیٹرو ڈالر سسٹم"(Petrodollar System) کا
آغاز کہا جاتا ہے۔1973ءکی عرب اسرائیل جنگ کے بعد جب عرب ممالک نے امریکہ پر
تیل کی پابندی(Oil Embargo)لگائی توتیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور
امریکی معیشت شدید بحران کا شکار ہو گئی۔اس بحران کو حل کرنے کے لیے ہنری
کسنجر نے سعودی شاہی خاندان(شاہ فیصل اور شہزادہ فہد) کے ساتھ مل کر ایک
انتہائی اہم اور خفیہ تزویراتی(Strategic) معاہدہ طے کیا۔
اہم پہلو!
تیل کی فروخت صرف ڈالر میں:سعودی عرب نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ وہ دنیا
بھر کو اپنا خام تیل صرف اور صرف امریکی ڈالر(US Dollar)کے عوض ہی فروخت کرے
گا اور کسی دوسری کرنسی کو قبول نہیں کرے گا۔
اضافی ڈالرز کی واپسی:سعودی عرب تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے اضافی
ڈالرز(Petrodollars)کو امریکی بینکوں اور امریکی ٹریژری بانڈز(US Treasuries)
میں سرمایہ کاری کے طور پر واپس امریکہ بھیجے گا۔
امریکی سکیورٹی کی ضمانت:اس کے بدلے میں،امریکہ نے سعودی عرب کے تیل کےکنوؤں
اور شاہی خاندان کو مکمل فوجی تحفظ اور جدید ترین امریکی اسلحہ فراہم کرنے کی
ضمانت دی۔
معاہدے کے اثرات!
ڈالر کی بالادستی:چونکہ پوری دنیا کو تیل خریدنے کے لیے ڈالرز کی ضرورت تھی،اس
لیے ہر ملک کے لیے امریکی ڈالر کو بطور"ریزرو کرنسی"اپنے پاس رکھنا مجبوری بن
گیا۔اس سے ڈالر دنیا کی مضبوط ترین کرنسی بن گیا۔
امریکہ کی اقتصادی طاقت میں اضافہ:
امریکہ اپنی کرنسی چھاپ کرسستاتیل خریدنے اور دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرنے کے
قابل ہوگیا۔مختصراً یہ کہ ہنری کسنجر کا یہ معاہدہ براہِ راست تیل خریدنے کا
روایتی سودا نہیں تھا،بلکہ تیل کی قیمت کوامریکی ڈالر سے جوڑنے کا ایک عالمی
نظام تھا،جس نے اگلی کئی دہائیوں تک امریکی سپر پاور کی حیثیت کو برقرار
رکھا۔(واضح رہے کہ اب بھی دنیا کا بیشتر تیل ڈالر ہی میں خریدا اور
بیچاجاتاہےاور امریکہ و سعودی عرب کے دفاعی تعلقات قائم ہیں،لیکن جون
2024ءکےبعد سے "صرف ڈالر میں تیل بیچنے"کی لازمی شرط اب باضابطہ طور پر ختم ہو
چکی ہے۔یہ تبدیلی عالمی معیشت کو یک قطبی(Unipolar)سےکثیر قطبی(Multipolar)
نظام کی طرف لے جا رہی ہے)
عالمی معیشت کے تناظر میں ایک متبادل مالیاتی نظام کی تشکیل!
دوسری جنگِ عظیم کے بعد عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر نےوہ مرکزی مقام
حاصل کیاجوآج تک بڑی حد تک برقرار ہے۔عالمی تجارت،بین الاقوامی قرضوں،
زرمبادلہ کے لین دین،مرکزی بینکوں کے ذخائر اور مالیاتی منڈیوں کا ایک بڑا حصہ
براہِ راست یا بالواسطہ ڈالر سے منسلک ہے۔اسی وجہ سے دنیا کے کسی ایک ملک کی
مالیاتی پالیسی،خصوصاً امریکی شرحِ سود اور ڈالر کی قدر،کے اثرات پوری عالمی
معیشت تک پہنچ سکتے ہیں،لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے،ڈالر کی
طاقت کم کرنا اور ڈالر کی بالادستی کم کرنا ایک ہی چیز نہیں۔اگر ڈالر کی قدر
مصنوعی طور پر کم کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے نتیجے میں عالمی افراطِ زر،
مالیاتی عدم استحکام اور تجارت میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔اس کے برعکس اگر
مقصد یہ ہو کہ دنیا کی معیشت کسی ایک کرنسی پر غیر ضروری طور پر منحصر نہ
رہے،تو اس کا راستہ زیادہ متنوع، کثیرالمحوری اور باہمی طور پر قابلِ استعمال
مالیاتی نظام کی تعمیر ہے۔یہ تبدیلی کسی ایک نئی کرنسی کو ڈالر کا متبادل
بنانے سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
ڈالر آج بھی اتنا طاقتور کیوں ہے؟
2026ءکی پہلی سہ ماہی میں عالمی سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں امریکی ڈالر کا
حصہ57.13 فیصدتھا،جبکہ 2025ءکی چوتھی سہ ماہی میں یہ 56.42 فیصد تھا۔ یعنی
حالیہ اعدادوشمار ڈالرکی فوری اورڈرامائی پسپائی نہیں دکھاتے۔زرمبادلہ کی
تجارت میں ڈالر کی حیثیت اس سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔بینک فار انٹرنیشنل
سیٹلمنٹس(BIS)کے 2025ءکے سروے کے مطابق اپریل2025ء میں دنیا کے تمام زرمبادلہ
کے لین دین میں ڈالر89.2 فیصدمعاملات کے ایک فریق کے طور پر موجود تھا۔عالمی
FX مارکیٹ کا یومیہ کاروبار تقریباً 9.6 ٹریلین ڈالر تھا۔یہ برتری محض امریکی
معیشت کے حجم کی وجہ سے نہیں ہے۔اس کے پیچھے کئی باہم جڑے ہوئے عوامل ہیں:
امریکی مالیاتی منڈیوں کی گہرائی اور حجم۔امریکی ٹریژری بانڈز کی وسیع اور
نسبتاً انتہائی مائع مارکیٹ۔عالمی تجارت میں ڈالر کا تاریخی استعمال۔
بین الاقوامی بینکنگ اور قرضوں میں ڈالر کی اہمیت۔
دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کا ڈالر ذخائر رکھنا۔
ڈالر کے لیے وسیع اور کم لاگت والی زرمبادلہ مارکیٹ۔
کئی ممالک کی اشیا اور مالیاتی معاہدوں کی قیمتوں کا ڈالر میں طے ہونا۔اس طرح
ایکNetwork effectپیدا ہوتا ہے:جتنے زیادہ لوگ ڈالر استعمال کرتے ہیں،اتنا ہی
دوسروں کے لیے بھی ڈالر استعمال کرنا آسان اور کم خطرناک ہو جاتا ہے۔
کیا ڈالر کی بالادستی واقعی کم ہو رہی ہے؟
طویل مدت میں کچھ تبدیلی ضرور ہوئی ہے،لیکن اسے ’’ڈالر کے خاتمے‘‘سے تعبیر
کرنا اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا۔IMF کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں
عالمی سرکار ذخائر میں ڈالر کا حصہ کم ہوا ہے،لیکن اس کمی کا بڑا حصہ صرف یورو
یاچینی یوآن کی طرف منتقل نہیں ہوا۔مرکزی بینکوں نے آسٹریلوی ڈالر، کینیڈین
ڈالر،سوئس فرانک،چینی رینمنبی اور دیگر کرنسیوں سمیت اپنے ذخائر کو زیادہ
متنوع بنایا ہے۔
2025ءکے اختتام پرIMFکےمطابق ڈالر کاحصہ56.77 فیصد،یورو کا
تقریباً20.25فیصداورچینی رینمنبی کا صرف1.95فیصد تھا۔یہ اعداد ایک اہم حقیقت
کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دنیا ڈالر کا ایک ہی متبادل تلاش نہیں کر رہی،بلکہ
ممکنہ طور پر زیادہ کثیرالمحوری مالیاتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
متبادل کیا ہو سکتا ہے؟یہ سوال اصل مضمون کا مرکزی نقطہ ہے۔اگر دنیا ڈالر پر
انحصار کم کرناچاہتی ہےتوکیا اس کی جگہ چینی یوآن،یورو،سونا،کوئی عالمی کرنسی
یا ڈیجیٹل کرنسی لائی جائے؟
حقیقت میں زیادہ قابلِ عمل جواب ایک کثیر سطحی متبادل نظام ہے۔یورو کو ایک بڑے
ستون کے طور پر مضبوط کرنا۔یورو اس وقت ڈالر کے بعد عالمی مالیاتی نظام کی سب
سے اہم کرنسیوں میں شامل ہے۔2025ءمیں عالمی سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں یوروکا
حصہ تقریباً 20 فیصد رہا۔اسی عرصے میں یورو میں بین الاقوامی قرضوں اور بانڈز
کےاجرامیں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔لہٰذا اگر عالمی نظام میں ڈالرکاحصہ کم کرنا
ہو تو یورو ایک قدرتی ستون بن سکتا ہے،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یورو کے پیچھے ایک
واحد قومی ریاست نہیں بلکہ متعدد ممالک پر مشتمل یوروزون ہے،اور یورپی مالیاتی
منڈیوں کی ساخت امریکی مالیاتی نظام سے مختلف ہے۔اس لیے یورو کو ڈالر کا مکمل
متبادل بنانے کے بجائے اسےایک بڑے عالمی Reserve Currency Pillar کے طور پر
مضبوط کرنا زیادہ حقیقت پسندانہ تصور ہے۔
چینی رینمنبی کا کردار!
چین دنیا کی بڑی تجارتی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ اس لیےیہ منطقی ہےکہ چین اپنی
تجارت میں رینمنبی کا استعمال بڑھانا چاہے۔چین نے سرحد پار ادائیگیوں، مرکزی
بینکوں کے Swap Arrangements اور اپنے مالیاتی انفراسٹرکچر کے ذریعے رینمنبی
کے بین الاقوامی استعمال کو فروغ دیا ہے۔تاہمIMFکےاعدادوشمارکے مطابق عالمی
سرکاری ذخائر میں رینمنبی کاحصہ ابھی بھی تقریباً2فیصد کے آس پاس ہے۔اس کی ایک
بڑی وجہ یہ ہےکہ بین الاقوامی کرنسی صرف تجارت کے حجم سے نہیں بنتی،سرمایہ
کاری کے لیے کھلی،گہری اور قابلِ اعتماد مالیاتی منڈی بھی ضروری ہوتی ہے۔لہٰذا
رینمنبی کا کردار مستقبل میں بڑھ سکتا ہے،مگر اسے فوری طور پر ڈالر کا مکمل
متبادل سمجھنا معاشی حقائق کو بہت سادہ بنا دینا ہوگا۔
SDR:ایک حقیقی عالمی متبادل کا امکان

زیادہ دلچسپ تصور IMF کاSpecial Drawing Rights (SDR) ہے۔
SDR
خود کوئی عام کرنسی نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی Reserve Asset ہے،جس کی قدر
پانچ بڑی کرنسیوں امریکی ڈالر، یورو،چینی رینمنبی،جاپانی ین اور برطانوی
پاؤنڈ۔کی ایک Basket سے متعین ہوتی ہے۔
یہ تصور اس لحاظ سے اہم ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کو کسی ایک قومی ریاست کی
کرنسی پر مکمل انحصار سے نکالنے کے لیےایک غیر جانب دار کثیر کرنسی اکائی
استعمال کی جا سکتی ہے۔
مثلاً مستقبل میں:ڈالر،یورو،رینمنبی،ین،پاؤنڈ،دیگر بڑی کرنسیاں!
پر مبنی ایک زیادہ وسیع عالمی Reserve Unit تیار کی جا سکتی ہے۔اس طرح کسی
ایک ملک کی کرنسی عالمی نظام پر مکمل اثرانداز نہیں ہوگی۔
سونے کا کردار:واپسی نہیں،جزوی سہارا!
سونے کو بھی متبادل کے طور پر زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ مرکزی بینکوں کی جانب سے
سونے کے ذخائر میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے،لیکن سونے کو مکمل عالمی کرنسی
بنانا عملی طور پر مشکل ہے۔سونے کا فائدہ یہ ہے کہ اسے کسی حکومت کے وعدے یا
کسی ایک مرکزی بینک کی Balance Sheet پر مکمل انحصار نہیں ہوتا۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ:
عالمی تجارت کا حجم بہت بڑا ہے،سونے کی دستیاب مقدار محدود ہے،قیمت میں نمایاں
اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے،روزمرہ عالمی ادائیگیوں کے لیے اسے براہِ راست استعمال
کرنا مہنگا اور پیچیدہ ہے۔لہٰذا سونے کو مکمل متبادل بنانے کے بجائےReserve
Diversification کا ایک حصہ بنانا زیادہ قابلِ عمل ہے۔اصل انقلاب کرنسی
نہیں،ادائیگی کا نظام ہو سکتا ہے۔یہ شاید سب سے اہم نکتہ ہے۔دنیا کو لازماً
’’ڈالر کے بجائے ایک نئی کرنسی‘‘ کی ضرورت نہیں۔
اسے ایسےPayment Infrastructureکی ضرورت ہو سکتی ہے،جس میں مختلف ممالک اپنی
اپنی کرنسیوں میں تجارت کر سکیں۔مثلاً فرض کریں:بھارت روس سے خریداری کرے،قیمت
بھارتی روپے اور روسی روبل کے درمیان براہِ راست طے ہو،چین برازیل سے اپنی
کرنسی میں تجارت کرے،یورپی اور ایشیائی ممالک مقامی یا علاقائی کرنسیوں میں
Settlement کریں،صرف وہ لین دین ڈالر میں ہو،جہاں ڈالر کی حقیقی ضرورت ہو۔
اس صورت میں ڈالر ختم نہیں ہوگا،لیکن ہر بین الاقوامی لین دین کے درمیان
’’لازمی Intermediary Currency‘‘ ہونے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔یہ ایک زیادہ
حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔
علاقائی کرنسی اتحاد!
ایک اور حل یہ ہے کہ مختلف خطے اپنے درمیان مالیاتی تعاون
بڑھائیں۔مثلاً:ایشیا۔ایشیائی کرنسیوں میں تجارت!یورپ۔یورو۔
خلیج۔علاقائی Settlement Mechanism
افریقہ۔افریقی ادائیگیوں کا مربوط نظام۔
جنوبی امریکہ۔مقامی کرنسی Settlement
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خطے کو اپنی نئی کرنسی بنانی ہوگی۔اصل مقصد یہ ہے کہ
دو ممالک کے درمیان تجارت کے لیے ہر بار ڈالر کو درمیان میں لانا ضروری نہ
ہو۔اس نظام کے لیے مرکزی بینکوں کے درمیان Currency Swaps، Clearing Houses
اور مشترکہ Settlement Infrastructure اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ڈیجیٹل
کرنسیاں اور Central Bank Digital Currencies۔مستقبل میں مرکزی بینکوں کی
ڈیجیٹل کرنسیاں(CBDCs)بھی بین الاقوامی ادائیگیوں کے ڈھانچے کو تبدیل کر سکتی
ہیں۔اگر دو ممالک کے مرکزی بینک ایسے Interoperableنظام قائم کر لیں جہاں ان
کی ڈیجیٹل کرنسیاں براہِ راست Settle ہو سکیں،تو روایتی Correspondent
Bankingکی کچھ تہیں کم کی جا سکتی ہیں،لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ڈیجیٹل
کرنسی خود بخود کسی کرنسی کو عالمی Reserve Currency نہیں بناتی۔اس کے لیے
اعتماد،قانونی تحفظ،مالیاتی گہرائی،رازداری،سائبر سکیورٹی اور مرکزی بینک کی
ساکھ بھی ضروری ہیں۔

BRICS
یا کسی ایک سیاسی گروپ کی کرنسی؟
BRICS وغیرہ کے تناظر میں ایک مشترکہ کرنسی کا تصور بھی زیرِ بحث آتا رہا
ہے۔مگر یہاں بھی بنیادی معاشی سوال یہی ہے:
کیا مشترکہ کرنسی کے پیچھے اتنی گہری مالیاتی منڈی، اعتماد،مرکزی بینک کا
ادارہ جاتی ڈھانچہ اور آزادانہ سرمایہ کی نقل و حرکت موجود ہے کہ دنیا اپنے
بڑے ذخائر وہاں منتقل کرے؟
صرف کئی ممالک کا ایک گروپ بنا لینا عالمی Reserve Currency بنانے کے لیے کافی
نہیں۔ایک عالمی کرنسی کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کے سرمایہ کار بحران کے وقت بھی
اس کے اثاثوں کو محفوظ،مائع اور قابلِ اعتماد سمجھیں۔یہی وہ مقام ہے
جہاں’’سیاسی اتحاد‘‘ اور ’’مالیاتی اتحاد‘‘ کے درمیان فرق سامنے آتا ہے۔
ڈالر کی بالادستی کم کرنے کا عملی خاکہ۔
اگر دنیا واقعی ایک زیادہ متوازن عالمی مالیاتی نظام چاہتی ہے تو ایک ممکنہ
مرحلہ وار حکمتِ عملی یہ ہو سکتی ہے:
پہلا مرحلہ:تجارت میں تنوع۔
دوطرفہ تجارت میں جہاں ممکن ہو مقامی کرنسیوں میں Settlement بڑھایا جائے۔
دوسرا مرحلہ:مرکزی بینک تعاون!
مختلف ممالک Currency-Swap Arrangements اور Regional liquidity Mechanisms کو
مضبوط کریں۔
تیسرا مرحلہ:براہِ راست Currency Markets
روپیہ۔روبل،روپیہ۔ین،یوآن۔روپیہ،یورو۔روپیہ وغیرہ جیسی براہِ راست مارکیٹوں کی
liquidity بڑھائی جائے تاکہ ہر لین دین میں پہلے ڈالر اور پھر دوسری کرنسی کی
ضرورت کم ہو۔
چوتھا مرحلہ:عالمی Reserve Diversification
مرکزی بینک اپنے ذخائرکوڈالر،یورو،رینمنبی،ین،پاؤنڈ، سوئس فرانک،آسٹریلوی و
کینیڈین ڈالر اور سونے سمیت متعدد Assets میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
IMF کی تحقیق بھی اس وسیع تر Diversification کے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔
پانچواں مرحلہ:SDR کی اصلاح!
طویل مدت میںIMF کےSDRنظام کو زیادہ فعال بین الاقوامی Reserve Asset بنایا جا
سکتا ہے۔
چھٹا مرحلہ:
مشترکہ ڈیجیٹل Payment Infrastructure
مرکزی بینک ایسے Interoperable نظام بنا سکتے ہیں، جن میں مختلف قومی کرنسیاں
کم لاگت کے ساتھ سرحد پار منتقل اور Settle ہو سکیں،لیکن ایک بنیادی خطرہ بھی
ہے۔ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوشش اگر جلد بازی یا سیاسی بنیاد پر کی گئی تو
اس کے الٹ نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔اگر کوئی ملک صرف ’’ڈالر سے نکلنے‘‘ کے مقصد
سے ایسی کرنسی یا Asset میں اپنے ذخائر منتقل کرے جس کی مارکیٹ کم گہری ہو، تو
اسے زیادہ Exchange-Rate risk اور liquidity Risk کا سامنا ہو سکتا ہے۔اسی طرح
اگر تجارت کو زبردستی مقامی کرنسیوں میں منتقل کیا جائے جبکہ ان کرنسیوں کے
درمیان براہِ راست مارکیٹ موجود نہ ہو،تو Transaction ostsبڑھ سکتے ہیں۔اس لیے
کامیاب متبادل کا اصول یہ ہونا چاہیے:ڈالر کو زبردستی ختم کرنا نہیں،بلکہ اس
کی اجارہ دارانہ ضرورت کو کم کرنا۔
اصل حل:ایک Multipolar Monetary System
مستقبل کا زیادہ قابلِ عمل عالمی مالیاتی نظام شاید ایسا نہیں ہوگا،جس میں آج
کا ڈالر ختم ہو کر کل کوئی ایک نئی کرنسی اس کی جگہ لے لے۔زیادہ ممکنہ
منظرنامہ ایکMultipolar Monetary Systemہے،جس میں:ڈالر ایک اہم Reserve اور
Transaction Currencyرہے،یورو کا عالمی کردار بڑھے،رینمنبی کا علاقائی اور
تجارتی استعمال وسیع ہو،
ین،پاؤنڈ،سوئس فرانک،کینیڈین اور آسٹریلوی ڈالر سمیت دیگر Currencies
Diversification فراہم کریں،سونا Reserve Asset کےطور پر اپنا کردار برقرار
رکھے۔
- SDR کو زیادہ اہم بین الاقوامی Reserve Asset بنایاجائے،مقامی کرنسیوں میں
براہِ راست تجارت بڑھے،
- ڈیجیٹل Payment Networks مختلف کرنسیوں کو ایک دوسرے سے جوڑیں۔یہ نظام ڈالر
کو ختم نہیں کرے گا،بلکہ دنیا کو ایک ہی کرنسی پر غیر ضروری انحصار سے نکالے
گا۔عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی طاقت امریکی معیشت کے حجم سے کہیں زیادہ
گہری چیز ہے۔ اس کے پیچھے مالیاتی منڈیوں کی گہرائی،امریکی ٹریژری
مارکیٹ،عالمی تجارت،بین الاقوامی بینکاری،liquidity اور کئی دہائیوں کا اعتماد
موجود ہے۔ اسی لیے اسے محض سیاسی فیصلے سے تبدیل کرنا ممکن نہیں۔2026ء کے
اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ ڈالر ابھی عالمی ReserveاورFX نظام میں واضح
طور پر غالب ہے:عالمی سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں اس کا حصہ پہلی سہ ماہی میں
57.13 فیصد تھا اور 2025ء میں عالمیFX لین دین کے89.2 فیصد میں وہ ایک فریق
تھا۔لہٰذا دانشمندانہ حکمتِ عملی’’ڈالر کو گرانا‘‘نہیں بلکہ عالمی مالیاتی
نظام کو متنوع بناناہے۔ایک بہتر عالمی نظام وہ ہوگاجس میں کسی ملک کو تجارت
کرنے،توانائی خریدنے،قرض لینے یا اپنے ذخائر محفوظ رکھنے کے لیےلازماًایک ہی
قومی کرنسی پرانحصار نہ کرنا پڑے۔مستقبل کا متبادل شاید’’ڈالر کے مقابلے میں
ایک نئی عالمی کرنسی‘‘نہیں،بلکہ متعدد کرنسیوں،SDR،سونے،علاقائیSettlement
Systemsاور جدید ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر پر مبنی ایک متوازن عالمی نظام
ہو۔یہی راستہ عالمی مالیاتی خودمختاری اور مالیاتی استحکام کے درمیان
نسبتاًبہتر توازن پیدا کر سکتا ہے۔

Reaction dein (0)

Share karein (1)

WhatsApp Facebook X

Comments (1)

باحث 28 Sep 2026

خوب لکھا۔

✍️ Mohd Shuaib Raza का जवाब

شکریہ

पोस्ट के लेखक

✍️ Active Reporter ★★★★★
M

Mohd Shuaib Raza

📍 Gorakhpur

📰 11 posts 👁 50 views 📊 4.5 avg/post

News Home ke reporter

Isi Category Me Aur

شبلی کا تصورِ تعلیم اور عصرِ حاضر کے علمی و تہذیبی تقاضے

نیوز ہوم رابطہ - شعیب

Popular Posts

पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय

👁 41 views

नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान

👁 40 views

مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ میں قاضیان شرع کااجلاس اورفقہی ویب سائٹ کے قیام پر اہم فیصلے

👁 18 views

सहारनपुर और बाराबंकी के बाद अब इटावा - सैयद बाबा मजार पर चला बुलडोजर, वक्फ बोर्ड खामोश?

👁 15 views

भारी बारिश के चलते गोरखपुर में 26 सितंबर को कक्षा 1 से 12 तक के सभी स्कूल बंद

👁 15 views