تازہ ترین
• شبلی کا تصورِ تعلیم اور عصرِ حاضر کے علمی و تہذیبی تقاضے • مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ میں قاضیان شرع کااجلاس اورفقہی ویب سائٹ کے قیام پر اہم فیصلے • ڈالر کی بالادستی کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟ • جنتر منتر احتجاج کی منسوخی پر ملت میں مایوسی • ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کے شعری مجموعے ’’دل مضراب‘‘ کا اجرا • ترنمول کانگرس کی شکست کے اسباب! • غوث اعظم سید الاولیاء رضی اللہ عنہ:علم و عرفان کے تاجدار اور اصلاح امت کے عظیم پیشوا • جمعہ مسلمانوں کے لیے عید کیوں ہے؟ • حضرت غوث الاعظم کی زندگی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ: مفتی غلام حسین ثقافی • حضرت سیدنا قادر قمیص رحمتہ اللہ علیہ کا عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ میں قاضیان شرع کااجلاس اورفقہی ویب سائٹ کے قیام پر اہم فیصلے

مسلمان اپنے شرعی مسائل کے حل کے لیے دارالقضاادارہ شرعیہ سے رجوع کریں: مولانا غلام رسول بلیاوی

بہار و بنگال 📅 28-09-2026 👁 19 views 💬 0 comments 🔁 2 shares
پٹنہ: ادارہ شرعیہ کے استاذ غلام رسول اسماعیلی نے پریس ریلیز رپورٹنگ بیان
دیاکہ مورخہ28 ستمبر 2026،بروز پیرمرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ بہار کے رئیس القلم
سیمینار ہال میں ادارہ شرعیہ کے صدر غازی ملت مولانا غلام رسول بلیاوی سابق
ممبر آف پارلیمنٹ کی صدارت میں قاضیان دارالقضا ادارہ شرعیہ کاسالانہ اجلاس
نہایت پروقار، سنجیدگی اور فقہی و شرعی بصیرت کے ساتھ منعقد ہوا۔ اجلاس میں
ملک کے مختلف صوبوں اور شہروں میں قائم ادارہ شرعیہ کی شاخوں سے وابستہ قاضیان
شرع، مفتیان کرام، علماء اوراکابرنےبڑی تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس میں غازی ملت مولانا غلام رسول بلیاوی، صدر مفتی، مفتی محمد حسن رضا
نوری، صدر قاضی ڈاکٹر مفتی امجد رضا امجد، نائب قاضی مفتی غلام حسین ثقافی،
ناظم اعلی ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ مولانا قطب الدین رضوی،مفتی رفیق الاسلام
بنگال،مفتی علی رضا مصباحی،مفتی مظفر حسین رضوی،مفتی زبیر عالم صدیقی، مفتی
شمیم القادری،مفتی نور الہدی، مفتی اسلم القادری، مفتی امیرالدین مصباحی،سید
جمال صابر،مولاناذاکر علی،مولانا محبوب اختر،مولانا قمر الزماں،مفتی محمد رضا
امجدی،مفتی رضا اللہ نقشبندی،مولانا تنویر عالم اشرفی،مولانا محمد صدر عالم
اشرفی،مولانا تبارک حسین رضوی،مفتی فیضان سرور مصباحی ،مفتی عبدالجلیل سعدی،
مفتی محب اللہ قادری، مفتی اختر رضا کے علاوہ ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ، ادارہ
شرعیہ بنگال، ادارہ شرعیہ کرناٹک، ادارہ شرعیہ مہاراشٹر، ادارہ شرعیہ مدھیہ
پردیش، ادارہ شرعیہ راجستھان، ادارہ شرعیہ اڑیسہ، ادارہ شرعیہ چھتیس گڑھ،
ادارہ شرعیہ بنارس، ادارہ شرعیہ پورنیہ، ادارہ شرعیہ سیوان، ادارہ شرعیہ سمستی
پور، ادارہ شرعیہ نوادہ، ادارہ شرعیہ جبل پور، ادارہ شرعیہ لکھنؤ، ادارہ شرعیہ
بنگلور، ادارہ شرعیہ کشن گنج، ادارہ شرعیہ جہان آباد، ادارہ شرعیہ کوڈرما،
ادارہ شرعیہ گیا، ادارہ شرعیہ چھپرا، ادارہ شرعیہ مدھوبنی،ادارہ شرعیہ بوکارو،
ادارہ شرعیہ مکرانہ، ادارہ شرعیہ کٹیہار، ادارہ شرعیہ مظفرپور، ادارہ شرعیہ
جموئی، ادارہ شرعیہ غازی پور، ادارہ شرعیہ گریڈیہ، ادارہ شرعیہ رام گڑھ اور
ادارہ شرعیہ راج محل سمیت مختلف شاخوں کے جملہ قاضیان شرع، علماء و ذمہ داران
نے بھرپور شرکت کی۔
ساتھ ہی مرکزی ادارہ شرعیہ کے اساتذہ ڈاکٹر مفتی غلام اختر رضا نوری، مفتی
غلام سرور مصباحی،مفتی عبدالباسط رضوی، مولانا راشد حسین، مفتی وسیم اختر،
مفتی غلام رسول اسماعیلی، ماسٹر مولانا غلام سرور پورنوی، مولانا شان محمد
رضوی اور مولانا قاری اکمل حسین نعیمی کے علاوہ ادارہ شرعیہ تربیت افتا کے
علما کرام زینت اجلاس رہے۔
تلاوت کلام پاک اور نعت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجلاس کا اغاز ہوا،
اجلاس کے صدر غازی ملت مولانا غلام رسول بلیاوی نے تمام شرکائے اجلاس کا
پرتپاک استقبال کرتے ہوئے ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور دارالقضا کی اہمیت،
افادیت اور موجودہ دور میں اس کی ضرورت پر نہایت قیمتی، فکر انگیز اور بصیرت
افروز گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ دارالقضا مسلمانوں کے شرعی، عائلی اور سماجی مسائل کے حل کا
ایک مؤثر اور معتبر ذریعہ ہے۔ نکاح، طلاق، خلع، میراث، فسخ نکاح اور دیگر
معاملات میں جب مسلمان شرعی رہنمائی اور منصفانہ حل چاہتے ہیں تو انہیں
دارالقضا کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ دارالقضا کے ذریعے نہ صرف پیچیدہ مسائل کا
شرعی حل تلاش کیا جاتا ہے بلکہ مسلم معاشرے میں باہمی نزاعات کے خاتمے،
خاندانوں کے تحفظ اور معاشرتی اصلاح کی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی وہ ضرورت تھی جس کے پیش نظر رئیس القلم علامہ ارشد
القادری علیہ الرحمہ نے تاجدار اہل سنت حضرت مفتی اعظم ہند رضی اللہ تعالی عنہ
اور دیگر اکابر علماء کی موجودگی میں ادارہ شرعیہ کا قیام فرمایا اور اس کے
ساتھ دارالقضا کی بنیاد رکھی۔ الحمدللہ آج ادارہ شرعیہ کا دائرۂ کار وسیع ہو
چکا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں اس کی شاخیں قائم ہیں، جہاں سے قاضیان شرع
مسلک اہلسنت کی شرعی رہنمائی اور خدمت انجام دے رہے ہیں۔
غازی ملت نے اس بات پر زور دیا کہ دارالقضا کو مزید مضبوط، منظم اور فعال
بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ مسلمانوں کو اپنے معاملات کے لیے غیر ضروری
طور پر دیگر ذرائع کی طرف نہ جانا پڑے اور ان کے مسائل کتاب و سنت اور فقہ
اسلامی کی روشنی میں حل ہوں۔
صدر مفتی محمد حسن رضا نوری نے دارالقضا کے فیصلوں، استغاثات، مدعی،مدعی علیہ
اور مختلف شرعی مقدمات کے طریقۂ کار پر نہایت مفصل اور مفید گفتگو کی۔ بالخصوص
مفقود الخبر کے مقدمے سے متعلق اہم فقہی نکات، مقدمہ قبول کرنے کے اصول، اس کی
شرعی صورتیں اور مسئلے کے حل کے طریقۂ کار کو نہایت لطیف، واضح اور فقہی اسلوب
میں بیان کیا۔
انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ دارالقضا سے وابستہ قاضیان کے لیے
ضروری ہے کہ وہ شرعی اصول و ضوابط، فقہی جزئیات اور عدالتی تقاضوں کو سامنے
رکھتے ہوئے فیصلے صادر کریں۔
صدر مفتی نے کہا کہ الحمدللہ ادارہ شرعیہ کے متعدد فیصلوں کو مختلف عدالتوں کے
جج صاحبان نے تسلیم کیا ہے اور ادارہ شرعیہ کے فتاوی کو بھی متعدد مواقع پر
عدالتوں میں اہمیت اور قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے قاضیان کو مزید احتیاط،
تحقیق، اصول شریعت کی پابندی اور دستاویزی مضبوطی کے ساتھ اپنے فرائض انجام
دینے کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے تحقیق و تفتیش کے لیے دہلی تک کا سفرکیا ہے۔
صدر قاضی ادارہ شرعیہ ڈاکٹر مفتی امجد رضا امجد نے اجلاس کی کارروائی کو منظم
انداز میں آگے بڑھایا اور مختلف شاخوں سے آئے ہوئے قاضیان و علماء کو اپنے
اپنے علاقوں میں دارالقضا کی کارکردگی، مسائل، مشکلات اور تجربات پیش کرنے کا
موقع فراہم کیا۔بعد ازاں انہوں نے اپنی جامع گفتگو میں دارالقضا کے نظام کو
مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے مختلف عملی تجاویز اور لائحۂ عمل پیش کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دارالقضا کے نظام میں باہمی ربط، تجربات کا
تبادلہ،ریکارڈ کی بہتر حفاظت،مقدمات کے منظم اندراج اور شرعی فیصلوں میں
یکسانیت و معیار کو مزید مستحکم کیا جائے۔
نائب قاضی مفتی غلام حسین ثقافی نے دارالقضا اور عدالت شرعیہ کی اہمیت پر
گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ماشاءاللہ دارالقضا کے ذریعے مسلمانوں کے خاندانی اور
نجی معاملات میں شرعی رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ بالخصوص میاں بیوی کے باہمی
اختلافات اور ازدواجی مسائل کو شرعی اصولوں کے مطابق حل کرکے متعدد خاندانوں
کو ٹوٹنے سے بچایا جا رہا ہے اور گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کی کوشش کی جا
رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی ادارہ شرعیہ کی طرح اس کی تمام شاخیں بھی اس عظیم خدمت
میں سرگرم ہیں اور معاشرے کو صالح، پرامن اور باہمی محبت و اعتماد پر قائم
رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔
ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلی مولانا قطب الدین رضوی نے اپنے خطاب میں
ادارہ شرعیہ اور دارالقضا کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جس طرح ادارہ شرعیہ
اپنے تمام تر شاخوں کے ساتھ ملت کی شرعی رہنمائی اور اصلاح کے میدان میں سرگرم
عمل ہے، یقینا اس سے رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی روح خوش
ہوتی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ دارالقضا موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے اور اگر اس نظام کو مزید
منظم اور مضبوط کیا جائے تو مستقبل میں اس کے نہایت مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے ادارہ شرعیہ کی اس تحریک کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

مختلف شاخوں کے قاضیان نے پیش کی اپنی کارکردگی
مختلف شاخوں سے تشریف لائے ہوئے قاضیان شرع نے اپنے اپنے علاقوں میں قائم
دارالقضا کی کارکردگی، سرگرمیوں، کامیابیوں، مشکلات اور مختلف نشیب و فراز سے
شرکائے اجلاس کو آگاہ کیا۔
قاضیان نے دارالقضا کی آمدنی، اخراجات، مالی ضروریات اور آئندہ کے تخمینے بھی
پیش کیے اور اپنے تجربات کی روشنی میں نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے مفید
تجاویز اور آرا پیش کیں۔ اس موقع پر مختلف شاخوں کے درمیان باہمی تعاون،
تجربات کے تبادلے اور مرکزی ادارہ شرعیہ سے مزید مضبوط رابطے کی ضرورت پر بھی
زور دیا گیا۔
اجلاس کے ایجنڈے کے دوسرے اہم مرحلے میں فقہی ویب سائٹ کے قیام کے موضوع پر
نہایت بصیرت افروز اور دور رس گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر علماء و قاضیان نے
موجودہ ڈیجیٹل دور کی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس امر پر اتفاق کیا کہ
ادارہ شرعیہ کی جانب سے ایک مستند اور جامع فقہی ویب سائٹ کا قیام عمل میں
لایا جائے۔
شرکاء نے کہا کہ آج نئی نسل اپنے دینی اور شرعی مسائل کے جوابات بڑی تعداد میں
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے تلاش کرتی ہے، لیکن وہاں عقائد و نظریات کے
اعتبار سے گمراہ کن مواد بڑی مقدار میں موجود ہے۔ ایسے ماحول میں ضرورت ہے کہ
ادارہ شرعیہ ایک ایسا مستند علمی و فقہی پلیٹ فارم قائم کرے جہاں مسلمانوں کو
ان کے شرعی مسائل کے معتبر، مدلل اور مستند جوابات دستیاب ہوں۔
اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ فقہی ویب سائٹ کے لیے جید مفتیان کرام اور
مستند علماء پر مشتمل ایک باقاعدہ علمی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو جدید مسائل کی
تحقیق، تخریج، تسہیل اور فقہی اصولوں کی روشنی میں ان کے جوابات مرتب کرے اور
انہیں ویب سائٹ پر عام کیا جائے۔
اس اقدام کا مقصد یہ قرار دیا گیا کہ نئی نسل کو سوشل میڈیا کے فاسد عقائد
اورغیر مستند مواد سے محفوظ رکھتے ہوئے انہیں صحیح عقیدہ اورمستند شرعی
رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے ایمان، عقیدے اور دینی زندگی کی حفاظت کے
ساتھ اپنے روزمرہ مسائل کا شرعی حل حاصل کر سکیں۔
فقہی ویب سائٹ کی تجویز کی تمام علماء و قاضیان نے بھرپور تائید و حمایت کی
اور اس اہم علمی منصوبے کے لیے اپنی مالی معاونت اور خطیر رقم پیش کرنے کا
اعلان بھی کیا۔
فقہی ویب سائٹ کے منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے آئندہ نشست کلکتہ میں منعقد
کرنے کی ذمہ داری مفتی رفیق الاسلام صاحب بنگال نے قبول کی۔ آئندہ نشست کی
تاریخ باہمی مشاورت کے بعد اعلان کی جائے گی۔
اجلاس کے شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ادارہ شرعیہ کے زیر اہتمام قائم
ہونے والی یہ فقہی ویب سائٹ موجودہ ڈیجیٹل دور میں مسلمانوں، بالخصوص نئی نسل
کے لیے ایک معتبر علمی و شرعی رہنما ثابت ہوگی اور ملک و بیرون ملک رہنے والے
مسلمانوں کو مستند فقہی رہنمائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اس طرح دارالقضا کی کارکردگی، اس کے استحکام، شاخوں کے باہمی ربط، شرعی مقدمات
کے بہتر نظام، قاضیان کی عملی مشکلات، مالی معاملات اور مستقبل کے منصوبوں
سمیت متعدد اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو اور غور و خوض کے بعد اجلاس اپنے
اختتامی مرحلے میں پہنچا۔
اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے ادارہ شرعیہ کی دینی ،ملی، شرعی، علمی اور
سماجی خدمات کا اعتراف کیااور مزید مؤثر بنانے اور دارالقضا کے نظام کو ملک کے
مختلف علاقوں میں مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
آخیر میں مفتی زبیر صاحب قبلہ نے دعا فرمائی۔ دعا کے ساتھ اس اہم اور بامقصد
اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔
اجلاس کو کامیاب، منظم اور باوقار بنانے میں مرکزی ادارہ شرعیہ کے اساتذہ،
طلبہ اور انتظامیہ نے نمایاں کردار ادا کیا۔

Reaction dein (0)

Share karein (2)

WhatsApp Facebook X

Comments (0)

पोस्ट के लेखक

🌱 New Reporter ★★★★★

News Home

📍 Gorakhpur

📰 4 posts 👁 55 views 📊 13.8 avg/post

News Home ke reporter

Isi Category Me Aur

ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کے شعری مجموعے ’’دل مضراب‘‘ کا اجرا

حضرت غوث الاعظم کی زندگی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ: مفتی غلام حسین ثقافی

حضرت سیدنا قادر قمیص رحمتہ اللہ علیہ کا عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

Popular Posts

पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय

👁 41 views

नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान

👁 40 views

सहारनपुर और बाराबंकी के बाद अब इटावा - सैयद बाबा मजार पर चला बुलडोजर, वक्फ बोर्ड खामोश?

👁 15 views

भारी बारिश के चलते गोरखपुर में 26 सितंबर को कक्षा 1 से 12 तक के सभी स्कूल बंद

👁 15 views

नगर पंचायत इटवा बनी ‘नरक पंचायत’! राजपूत डीहवा रोड पर जलजमाव से ग्रामीण परेशान

👁 14 views