ترنمول کانگرس کی شکست کے اسباب!
ہر الیکشن میں عموماً الیکشن کے دوران انتخابی حلقوں میں پارٹیوں کی شکست اور جیت کے اثار نظر آتے ہیں۔مغربی بنگال میں اپریل اور مئی کے مہینے میں جو بدھان سبھا کا انتخاب ہوا،اس انتخاب میں ترنمول کانگرس کو یہ یقین نہیں تھا کہ اس کی پارٹی کی حکومت ختم ہو جائے گی اور بی جے پی اقتدار میں آئے گی،اگرچہ یہ خدشہ تھا کہ ترنمول کانگریس اچھی خاصی تعداد میں سیٹیں کھو دے گی لیکن بالآخر پارٹی چوتھی بار ضرور حکومت بنائے گی۔الیکشن کے بعد جو نتیجہ سامنے آیاوہ سب سے حیران کن تھا۔کیونکہ الیکشن میں بی جے پی نے جتنے سیٹیں حاصل کیں وہ توقعات سے بہت زیادہ تھیں۔بی جے پی کی جیت اور ٹی ایم سی کی شکست کے بعد جب تجزیہ کیا گیا تو کئی عوامل سامنے آئے۔
ووٹروں کی ذہنیت کی زعفرانیت:2014 میں مودی جی کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد عوام کی ذہنیت کا زعفرانی ہونا شروع ہو گیا۔لوگ مودی جی کی شخصیت،ان کی تقریر کا انداز،قوم پرستی پر ان کا زور، ہندوستان کو وشو گرو بنانے کا وعدہ اور بدعنوانی کے خاتمے اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے کھوکھلے وعدے کی طرف متوجہ ہونے لگے۔لوگ آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریات اور عقائد سے متاثر ہونے لگے۔ 2014 کے بعد ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح بنگال کے عوام کا بھی بھگواکرن ہوا اور لوگ بی جے پی کے طرف مائل ہونے لگےاور اس طرح 2026 کےآتےآتے بنگال میں بی جے پی کے ووٹروں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا۔ترنمول کانگریس کی شکست کی ایک اور وجہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کا مسلم برادری کی جانب جھکاؤ تھا۔انہوں نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت کام کیے۔ان کے دورِ حکومت میں بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں ملیں اور انہوں نے اقلیتوں کو وظائف بھی دیے۔مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی ایک بڑی تعداد کو اقلیت کے زمرے میں شامل کیا گیا۔روایتی مسلم لباس زیب تن کیے،وہ مسلمانوں کے دو بڑے تہواروں۔عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔کے موقع پر ہمیشہ'ریڈ روڈ'پر منعقدہ اجتماعات میں شرکت کرتیں اور مسلم برادری سے خطاب کرتیں۔انہوں نے فرہاد حکیم کو کولکتہ میونسپل کارپوریشن کا میئر مقرر کیا۔ممتا بنرجی کے ان اقدامات کو سخت گیر ہندوؤں نے پسند نہیں کیا۔انہی وجوہات کی بنا پر انہیں'ممتا بانو'کہا جانے لگا اور ان پر اقلیتوں کی خوشنودی حاصل کرنے(Appeasement) کا الزام لگایا گیا۔ممتا بنرجی کے مسلمانوں کے حق میں اس رویے کی وجہ سے بنگال کے لوگوں کے ایک حصے نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔بنگال اسمبلی انتخابات میں ممتابنرجی کی شکست کی ایک وجہ سرکاری ملازمین کے تئیں ان کا بے اعتنائی پر مبنی رویہ تھا۔انہوں نے سرکاری ملازمین کو'ڈیئرنس الاؤنس'(مہنگائی الاؤنس) کی واجب الادا رقوم ادا نہیں کیں،جس کی وجہ سے ملازمین کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔اپنا یہ حق حاصل کرنے کے لیے ملازمین کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔عدالتی مقدمہ ہارنے کے باوجود،ممتا بنرجی نے ڈیئرنس الاؤنس کی ادائیگی کے معاملے میں ٹال مٹول کی پالیسی اپنائے رکھی۔ممتا کی اس پالیسی نےسرکاری ملازمین میں شدید غم و غصہ پیدا کیا،اور جب انہیں بدلہ لینے کا موقع ملا تو انہوں نے انتخابات میں ترنمول کانگریس کے خلاف ووٹ دیا۔ممتا بنرجی کا انحصار بڑی حد تک خواتین ووٹرز پر ہے۔بلاشبہ وہ خواتین ووٹرز میں بہت مقبول تھیں۔ان کی سماجی بہبود کی اسکیم'لکشمی بھنڈار'نےخواتین کو زبردست معاشی مدد فراہم کی،اس کے تحت ہر خاتون کو پندرہ سو روپے مل رہے تھے،لیکن اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران بی جے پی نے وعدہ کیا کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو'انّپورنا یوجنا'اسکیم کے تحت ہر خاتون کو تین ہزار روپے دے گی۔اس اعلان نے خواتین میں لالچ پیدا کیا اور یہ سوچ کر کہ انہیں پندرہ سو کے بجائے تین ہزار روپے ملیں گے،خواتین ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔یقیناً یہ ممتا کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ بنگال کی خواتین محض زیادہ رقم کی خاطر ان کا ساتھ چھوڑ دیں گی۔اسمبلی انتخابات سے چھ ماہ قبل،مرشد آباد سے تعلق رکھنے والے ٹی ایم سی(TMC) کے رکنِ اسمبلی ہمایوں کبیر کے ایک اقدام سے پارٹی کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچا۔بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ مرشد آباد میں بابری مسجد کی ایک نقل(ماڈل)تعمیر کی جائے گی۔اس پر ٹی ایم سی کی سربراہ نے انہیں پارٹی سے نکال دیا۔ ہمایوں کبیر بابری مسجد کی تعمیر پر بضد رہے اور لوگوں سے عطیات دینے کی اپیل کی۔مرشد آباد کے عوام نے تعمیراتی سامان کے لیے دل کھول کر عطیات دیے۔ ہمایوں کبیر کے اس غیر دانشمندانہ اقدام نے بی جے پی کو ٹی ایم سی کے خلاف مہم چلانے کا ایک بڑا موقع فراہم کیا۔مزید برآں،ہمایوں کبیر کی اشتعال انگیز تقریر نے ماحول میں تفریق پیدا کی اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج پیدا کر دی۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرشد آباد کے ملحقہ اضلاع،جیسے کہ نادیہ اور مالدہ وغیرہ کے ہندو ووٹرز ترنمول کانگریس سےدور ہوگئے اور انہوں نے بی جے پی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ مبینہ طور پر ہمایوں کبیر کو اس کام اور بی جے پی کے مفاد میں سرگرمی دکھانے کے لیے رشوت دی گئی تھی۔بنگال میں اسمبلی انتخابات سے کچھ ہی عرصہ قبل بنگلہ دیش میں ہندو۔مسلم فسادات پھوٹ پڑے،جن کے دوران ایک ہندو نوجوان کو نذرِ آتش کرنے اور اس کی لاش کو پھانسی پر لٹکانے کا واقعہ پیش آیا۔بی جے پی نے انتخابات کے دوران اس واقعے کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اسے خاطر خواہ نتائج حاصل ہوئے۔انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے اعلان کیا کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو بنگال کی سرزمین سے غیر قانونی طریقے سے رہنے والے بنگلہ دیشیوں کو جو ملک کے وسائل سے فائدہ اٹھا رہےہیں جن پر صرف اور صرف ملک کے شہریوں کا حق ہے نکال باہر کرےگی۔بی جے پی جیسا چاہتی تھی لوگوں کی ذہن سازی کرنے میں کامیاب رہی اور عوام نے اس کے انتخابی مہم کے دوران کیے گیے تمام وعدوں اور فیصلوں کو صحیح ٹھرایا۔ترنمول حکومت کی شکست میں ایک اہم عنصر'ایس آئی آر' (SIR) کا نفاذ تھا۔'اسپیشل انٹینسیو ریویژن' (SIR) کے نتیجے میں ووٹروں کی فہرست سے تقریباً نوے لاکھ ووٹروں کےنام خارج کر دیے گئے اور اسمبلی انتخابات میں اتنی ہی تعداد میں ووٹ نہیں ڈالے جا سکے۔مغربی بنگال میں اسمبلی کی 294 نشستیں ہیں اور نوے لاکھ ووٹروں نے اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا۔ریاضیاتی اعتبار سے،اسمبلی کے ہر حلقے میں تیس ہزار ووٹ نہیں ڈالے گئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پچھلے انتخابات میں ترنمول کے کسی امیدوار کو پچاس فیصد ووٹ بھی ملے تھے،تو اس سال اسے اتنی تعداد میں ووٹ نہیں مل سکے۔اس صورتحال کا فائدہ بی جے پی کو ہوا۔ایس آئی آر کی وجہ سے بی جے پی نے اسمبلی کی کئی نشستیں جیت لیں۔ترنمول کے امیدواروں کو کئی نشستوں پر سینکڑوں ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا ہے کہ کئی نشستوں پر بی جے پی امیدوار کی جیت کا فرق خارج کیے گئے ووٹروں کی تعداد سے کم تھا،اور عدالت نے اس بات پر بھی رائے کا اظہار کیا ہےکہ آیا ان نشستوں پر دوبارہ انتخابات ہونے چاہئیں۔
انتخابات میں ممتا بنرجی کی شکست کی ایک وجہ وہ 26 ہزار ہائی اسکول اساتذہ بھی تھےجنہیں تقرریوں میں مبینہ بدعنوانی کی بنا پر سپریم کورٹ نے ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔ملازمت سے محروم ہونے والے ان اساتذہ میں شدید غم و غصہ تھا۔وزیر اعلیٰ ان کی ملازمتیں بحال کرنے کے لیے کچھ نہ کر سکیں اور محض کھوکھلے وعدے ہی کرتی رہیں۔ممتا بنرجی کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے تھی کہ اسمبلی انتخابات میں ان کا مقابلہ بھارت کی ایک طاقتور جماعت بی جے پی سے تھا،جو ملک کی کئی ریاستوں میں برسرِ اقتدار ہے۔ انہیں اساتذہ برادری کو طویل عرصے تک ناراض نہیں رکھنا چاہیے تھا اور مہنگائی الاؤنس (DA) سے متعلق ان کے دیرینہ مسئلے کو حل کر دینا چاہیے تھا،لیکن انہوں نے اس معاملے پر بہت کم توجہ دی۔انہوں نے اپنی خواتین ووٹرز پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیا،جنہوں نے انتخابات میں ان کی توقعات کے برعکس انہیں مایوس کیا۔وہ ان وجوہات یا عوامل کا پتہ لگانے میں ناکام رہیں جو ان کی شکست کا سبب بنے۔مجموعی طور پر،زعفرانیت،بدعنوانی،تدریسی برادری سے بے رخی،تعلیمی شعبے کی خستہ حالی،تعلیمی اداروں میں خالی آسامیوں پر بھرتی نہ ہونا،ہمایوں کبیر کا بابری مسجد والا معاملہ اور ایس آئی آر (SIR) جیسے عوامل نے ترنمول کانگریس پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔
تحریر: ریاض فردوسی۔9968012976
ووٹروں کی ذہنیت کی زعفرانیت:2014 میں مودی جی کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد عوام کی ذہنیت کا زعفرانی ہونا شروع ہو گیا۔لوگ مودی جی کی شخصیت،ان کی تقریر کا انداز،قوم پرستی پر ان کا زور، ہندوستان کو وشو گرو بنانے کا وعدہ اور بدعنوانی کے خاتمے اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے کھوکھلے وعدے کی طرف متوجہ ہونے لگے۔لوگ آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریات اور عقائد سے متاثر ہونے لگے۔ 2014 کے بعد ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح بنگال کے عوام کا بھی بھگواکرن ہوا اور لوگ بی جے پی کے طرف مائل ہونے لگےاور اس طرح 2026 کےآتےآتے بنگال میں بی جے پی کے ووٹروں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا۔ترنمول کانگریس کی شکست کی ایک اور وجہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کا مسلم برادری کی جانب جھکاؤ تھا۔انہوں نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت کام کیے۔ان کے دورِ حکومت میں بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں ملیں اور انہوں نے اقلیتوں کو وظائف بھی دیے۔مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی ایک بڑی تعداد کو اقلیت کے زمرے میں شامل کیا گیا۔روایتی مسلم لباس زیب تن کیے،وہ مسلمانوں کے دو بڑے تہواروں۔عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔کے موقع پر ہمیشہ'ریڈ روڈ'پر منعقدہ اجتماعات میں شرکت کرتیں اور مسلم برادری سے خطاب کرتیں۔انہوں نے فرہاد حکیم کو کولکتہ میونسپل کارپوریشن کا میئر مقرر کیا۔ممتا بنرجی کے ان اقدامات کو سخت گیر ہندوؤں نے پسند نہیں کیا۔انہی وجوہات کی بنا پر انہیں'ممتا بانو'کہا جانے لگا اور ان پر اقلیتوں کی خوشنودی حاصل کرنے(Appeasement) کا الزام لگایا گیا۔ممتا بنرجی کے مسلمانوں کے حق میں اس رویے کی وجہ سے بنگال کے لوگوں کے ایک حصے نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔بنگال اسمبلی انتخابات میں ممتابنرجی کی شکست کی ایک وجہ سرکاری ملازمین کے تئیں ان کا بے اعتنائی پر مبنی رویہ تھا۔انہوں نے سرکاری ملازمین کو'ڈیئرنس الاؤنس'(مہنگائی الاؤنس) کی واجب الادا رقوم ادا نہیں کیں،جس کی وجہ سے ملازمین کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔اپنا یہ حق حاصل کرنے کے لیے ملازمین کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔عدالتی مقدمہ ہارنے کے باوجود،ممتا بنرجی نے ڈیئرنس الاؤنس کی ادائیگی کے معاملے میں ٹال مٹول کی پالیسی اپنائے رکھی۔ممتا کی اس پالیسی نےسرکاری ملازمین میں شدید غم و غصہ پیدا کیا،اور جب انہیں بدلہ لینے کا موقع ملا تو انہوں نے انتخابات میں ترنمول کانگریس کے خلاف ووٹ دیا۔ممتا بنرجی کا انحصار بڑی حد تک خواتین ووٹرز پر ہے۔بلاشبہ وہ خواتین ووٹرز میں بہت مقبول تھیں۔ان کی سماجی بہبود کی اسکیم'لکشمی بھنڈار'نےخواتین کو زبردست معاشی مدد فراہم کی،اس کے تحت ہر خاتون کو پندرہ سو روپے مل رہے تھے،لیکن اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران بی جے پی نے وعدہ کیا کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو'انّپورنا یوجنا'اسکیم کے تحت ہر خاتون کو تین ہزار روپے دے گی۔اس اعلان نے خواتین میں لالچ پیدا کیا اور یہ سوچ کر کہ انہیں پندرہ سو کے بجائے تین ہزار روپے ملیں گے،خواتین ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔یقیناً یہ ممتا کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ بنگال کی خواتین محض زیادہ رقم کی خاطر ان کا ساتھ چھوڑ دیں گی۔اسمبلی انتخابات سے چھ ماہ قبل،مرشد آباد سے تعلق رکھنے والے ٹی ایم سی(TMC) کے رکنِ اسمبلی ہمایوں کبیر کے ایک اقدام سے پارٹی کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچا۔بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ مرشد آباد میں بابری مسجد کی ایک نقل(ماڈل)تعمیر کی جائے گی۔اس پر ٹی ایم سی کی سربراہ نے انہیں پارٹی سے نکال دیا۔ ہمایوں کبیر بابری مسجد کی تعمیر پر بضد رہے اور لوگوں سے عطیات دینے کی اپیل کی۔مرشد آباد کے عوام نے تعمیراتی سامان کے لیے دل کھول کر عطیات دیے۔ ہمایوں کبیر کے اس غیر دانشمندانہ اقدام نے بی جے پی کو ٹی ایم سی کے خلاف مہم چلانے کا ایک بڑا موقع فراہم کیا۔مزید برآں،ہمایوں کبیر کی اشتعال انگیز تقریر نے ماحول میں تفریق پیدا کی اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج پیدا کر دی۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرشد آباد کے ملحقہ اضلاع،جیسے کہ نادیہ اور مالدہ وغیرہ کے ہندو ووٹرز ترنمول کانگریس سےدور ہوگئے اور انہوں نے بی جے پی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ مبینہ طور پر ہمایوں کبیر کو اس کام اور بی جے پی کے مفاد میں سرگرمی دکھانے کے لیے رشوت دی گئی تھی۔بنگال میں اسمبلی انتخابات سے کچھ ہی عرصہ قبل بنگلہ دیش میں ہندو۔مسلم فسادات پھوٹ پڑے،جن کے دوران ایک ہندو نوجوان کو نذرِ آتش کرنے اور اس کی لاش کو پھانسی پر لٹکانے کا واقعہ پیش آیا۔بی جے پی نے انتخابات کے دوران اس واقعے کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اسے خاطر خواہ نتائج حاصل ہوئے۔انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے اعلان کیا کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو بنگال کی سرزمین سے غیر قانونی طریقے سے رہنے والے بنگلہ دیشیوں کو جو ملک کے وسائل سے فائدہ اٹھا رہےہیں جن پر صرف اور صرف ملک کے شہریوں کا حق ہے نکال باہر کرےگی۔بی جے پی جیسا چاہتی تھی لوگوں کی ذہن سازی کرنے میں کامیاب رہی اور عوام نے اس کے انتخابی مہم کے دوران کیے گیے تمام وعدوں اور فیصلوں کو صحیح ٹھرایا۔ترنمول حکومت کی شکست میں ایک اہم عنصر'ایس آئی آر' (SIR) کا نفاذ تھا۔'اسپیشل انٹینسیو ریویژن' (SIR) کے نتیجے میں ووٹروں کی فہرست سے تقریباً نوے لاکھ ووٹروں کےنام خارج کر دیے گئے اور اسمبلی انتخابات میں اتنی ہی تعداد میں ووٹ نہیں ڈالے جا سکے۔مغربی بنگال میں اسمبلی کی 294 نشستیں ہیں اور نوے لاکھ ووٹروں نے اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا۔ریاضیاتی اعتبار سے،اسمبلی کے ہر حلقے میں تیس ہزار ووٹ نہیں ڈالے گئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پچھلے انتخابات میں ترنمول کے کسی امیدوار کو پچاس فیصد ووٹ بھی ملے تھے،تو اس سال اسے اتنی تعداد میں ووٹ نہیں مل سکے۔اس صورتحال کا فائدہ بی جے پی کو ہوا۔ایس آئی آر کی وجہ سے بی جے پی نے اسمبلی کی کئی نشستیں جیت لیں۔ترنمول کے امیدواروں کو کئی نشستوں پر سینکڑوں ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا ہے کہ کئی نشستوں پر بی جے پی امیدوار کی جیت کا فرق خارج کیے گئے ووٹروں کی تعداد سے کم تھا،اور عدالت نے اس بات پر بھی رائے کا اظہار کیا ہےکہ آیا ان نشستوں پر دوبارہ انتخابات ہونے چاہئیں۔
انتخابات میں ممتا بنرجی کی شکست کی ایک وجہ وہ 26 ہزار ہائی اسکول اساتذہ بھی تھےجنہیں تقرریوں میں مبینہ بدعنوانی کی بنا پر سپریم کورٹ نے ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔ملازمت سے محروم ہونے والے ان اساتذہ میں شدید غم و غصہ تھا۔وزیر اعلیٰ ان کی ملازمتیں بحال کرنے کے لیے کچھ نہ کر سکیں اور محض کھوکھلے وعدے ہی کرتی رہیں۔ممتا بنرجی کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے تھی کہ اسمبلی انتخابات میں ان کا مقابلہ بھارت کی ایک طاقتور جماعت بی جے پی سے تھا،جو ملک کی کئی ریاستوں میں برسرِ اقتدار ہے۔ انہیں اساتذہ برادری کو طویل عرصے تک ناراض نہیں رکھنا چاہیے تھا اور مہنگائی الاؤنس (DA) سے متعلق ان کے دیرینہ مسئلے کو حل کر دینا چاہیے تھا،لیکن انہوں نے اس معاملے پر بہت کم توجہ دی۔انہوں نے اپنی خواتین ووٹرز پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیا،جنہوں نے انتخابات میں ان کی توقعات کے برعکس انہیں مایوس کیا۔وہ ان وجوہات یا عوامل کا پتہ لگانے میں ناکام رہیں جو ان کی شکست کا سبب بنے۔مجموعی طور پر،زعفرانیت،بدعنوانی،تدریسی برادری سے بے رخی،تعلیمی شعبے کی خستہ حالی،تعلیمی اداروں میں خالی آسامیوں پر بھرتی نہ ہونا،ہمایوں کبیر کا بابری مسجد والا معاملہ اور ایس آئی آر (SIR) جیسے عوامل نے ترنمول کانگریس پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔
تحریر: ریاض فردوسی۔9968012976
Comments (0)
पोस्ट के लेखक
Isi Category Me Aur
Popular Posts

पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय
👁 40 views

नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान
👁 40 views

भारी बारिश के चलते गोरखपुर में 26 सितंबर को कक्षा 1 से 12 तक के सभी स्कूल बंद
👁 15 views
सहारनपुर और बाराबंकी के बाद अब इटावा - सैयद बाबा मजार पर चला बुलडोजर, वक्फ बोर्ड खामोश?
👁 14 views

नगर पंचायत इटवा बनी ‘नरक पंचायत’! राजपूत डीहवा रोड पर जलजमाव से ग्रामीण परेशान
👁 14 views
