شاہد محمود پوری نہیں رہے: ویشالی نے ایک مخلص معلم، بے لوث خادم اور اردو کے سچے سپاہی کو کھو دیا
شاہد محمود پوری نہیں رہے
ویشالی نے ایک مخلص معلم، بے لوث خادم اور اردو کے سچے سپاہی کو کھو دیا
محمد صدر عالم ندوی، ویشالی
موبائل: 9661819412
شاہد محمود پوری اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ یکم اکتوبر 2026ء کو دل کا دورہ
پڑنے کے بعد پٹنہ کے آئی جی آئی ایم ایس میں علاج اور آپریشن کے باوجود وہ
جانبر نہ ہو سکے اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ إِنّا لِلّٰهِ وَإِنّا
إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ ان کے انتقال کی خبر نے ویشالی کے علمی، ادبی، تعلیمی
اور سماجی حلقوں کو غم زدہ کر دیا ہے۔ ان کی وفات محض ایک فرد کی جدائی نہیں،
بلکہ ایک ایسے فعال اور مخلص انسان کا رخصت ہونا ہے جس نے اپنی زندگی کا بڑا
حصہ تعلیم، اردو اور رفاہی خدمات کے لیے وقف کر دیا۔
شاہد محمود پوری کی پیدائش 1960ء میں سمستی پور ضلع کے محمود پور گاؤں میں
ہوئی، لیکن ان کا میدان عمل ویشالی رہا۔ وہیں پلے بڑھے، شادی ہوئی اور اسی
سرزمین کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ معلم تھے، مگر محض
ایک استاد نہیں، بلکہ اپنے شاگردوں اور علاقے کے لوگوں کے لیے ایک مخلص رہنما
اور سرپرست کی حیثیت رکھتے تھے۔
اپنی ملازمت کے ابتدائی دور میں انہوں نے پاتے پور بلاک کے موسیٰ پور گاؤں کے
سرکاری اسکول میں خدمات انجام دیں۔ وہاں بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ان کی ہر
ممکن رہنمائی بھی کی۔ وہ اسکول میں صرف استاد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک
سرپرست اور گارجین کے طور پر وقت گزارتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی موسیٰ پور
اور اس کے گرد و نواح کے لوگ انہیں محبت اور عقیدت سے یاد کرتے ہیں۔
بعد ازاں وہ بدوپور منتقل ہوئے، جہاں سے حاجی پور اور ضلع سطح کے سرکاری
اداروں تک رسائی آسان ہوئی۔ سرکاری اسکیموں کو سمجھنا اور انہیں عملی طور پر
ضرورت مندوں تک پہنچانا ان کی زندگی کا اہم مقصد بن گیا۔ یوں ان کی زندگی کا
مشن رفتہ رفتہ دو بڑے حصوں میں تقسیم ہوگیا: درس و تدریس اور رفاہی خدمت۔
وہ مدرس کے ساتھ سنکل کوآرڈی نیٹر اور ضلع کوآرڈی نیٹر کی ذمہ داریاں بھی
انجام دیتے رہے۔ جب اے آئی کیندر سینٹر کا سلسلہ شروع ہوا تو انہوں نے ویشالی
ضلع کے ۱۶؍ بلاکوں میں اس کے مراکز قائم کرنے اور اسے عام لوگوں تک پہنچانے
میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔
2010ء کی اساتذہ بحالی کے دوران اے آئی سینٹر چلانے والوں کو حاصل ہونے والے
گریس نمبر سے بھی کئی افراد کے لیے استاد بننے کی راہ ہموار ہوئی۔
اردو زبان و ادب سے بھی انہیں گہری وابستگی تھی۔ ایک عرصے تک وہ انجمن ترقی
اردو ویشالی سے وابستہ رہے اور ڈاکٹر ممتاز احمد خاں، انوارالحسن وسطوی،
پروفیسر مشتاق اور دیگر اہلِ علم کے ساتھ پورے ویشالی کا دورہ کیا۔ اس دوران
انہوں نے نہ صرف اردو کے مسائل کو قریب سے دیکھا بلکہ اجتماعی طور پر کام کرنے
کا سلیقہ بھی سیکھا۔
بعد میں انجمن ترقی اردو، پٹنہ کے معاملات میں تبدیلی کے دوران جب تنظیمی سطح
پر اختلافات پیدا ہوئے اور ویشالی بھی اس کی زد میں آیا تو ایک گروپ کی نظامت
کی ذمہ داری شاہد محمود پوری نے سنبھالی۔ اس کے بعد وہ مزید سرگرمی اور عزم کے
ساتھ اردو کے کام میں مصروف ہوگئے۔ اسی سلسلے میں ان کی ایک اہم اور منفرد
کتاب ’’ویشالی ضلع میں اردو‘‘ منظرعام پر آئی، جسے ضلع سے لے کر راجدھانی
پٹنہ تک اہلِ علم اور ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ سرکاری اور نیم
سرکاری سطح پر بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا اور انہیں اعزازات سے نوازا
گیا۔
شاہد محمود پوری ان لوگوں میں سے تھے جو کسی کام کا ارادہ کرلیں تو اسے پایۂ
تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔ اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنا ان کی شخصیت کا
نمایاں وصف تھا۔ اپنے موقف اور اصول کے لیے انہیں نقصان بھی اٹھانا پڑا، مگر
انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔
حاجی پور میں ان کی رفاہی سرگرمیاں بھی قابلِ ذکر تھیں۔ سردیوں میں ضرورت
مندوں کے درمیان کمبل تقسیم کرنا، رمضان المبارک میں افطار کا سامان پہنچانا
اور عید کے موقع پر سویّاں تقسیم کرنا ان کے معمول کے کاموں میں شامل تھا۔ وہ
خدمتِ خلق کو محض ایک وقتی سرگرمی نہیں بلکہ اپنی زندگی کا مستقل حصہ سمجھتے
تھے۔
وہ ’’رابطہ‘‘ نامی تنظیم سے بھی وابستہ تھے اور اس کی ویشالی برانچ کے سکریٹری
کی حیثیت سے سرگرم عمل رہے۔ ہر ماہ میٹنگ منعقد کرنا، آئندہ ماہ کے کاموں کا
خاکہ تیار کرنا اور پھر اپنی ٹیم کے ساتھ میدانِ عمل میں اتر جانا ان کا معمول
تھا۔ مجھے بھی کئی مرتبہ ان میٹنگوں میں شرکت کا موقع ملا اور ان کی منصوبہ
بندی، اخلاص اور جذبۂ خدمت سے استفادہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔
شاہد محمود پوری کو تصنیف و تالیف سے بھی گہرا شغف تھا۔ ’’ویشالی میں اردو‘‘،
’’نقوشِ ویشالی‘‘ اور دیگر کتابیں ان کے ادبی ذوق اور تحقیقی مزاج کی گواہ
ہیں۔ عمر کی ستر بہاریں دیکھ لینے کے باوجود ان کا قلم رکا نہیں تھا۔ وہ ایک
اور کتاب کی تیاری میں مصروف تھے اور ان کا قلم بدستور رواں تھا۔
دو روز قبل انہیں اچانک دل کا دورہ پڑا۔ انہیں پٹنہ کے آئی جی آئی ایم ایس
میں داخل کیا گیا، جہاں ان کا آپریشن بھی ہوا، مگر قدرت کو کچھ اور منظور
تھا۔ علاج کی تمام کوششوں کے باوجود وہ صحت یاب نہ ہو سکے اور یکم اکتوبر
2026ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔
شاہد محمود پوری کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ ایک شخص بیک وقت استاد،
سماجی کارکن، اردو کا خادم، مصنف اور رفاہی خدمت گزار بن کر معاشرے پر اپنے
نقوش چھوڑ سکتا ہے۔ ان کی وفات سے ویشالی کے تعلیمی، ادبی اور سماجی حلقوں میں
جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی
تعلیمی، ادبی اور رفاہی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور پسماندگان، متعلقین
اور تمام محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
نمازِ جنازہ آج بروز جمعرات، یکم اکتوبر 2026ء، تنگول، حاجی پور، بہار میں
ادا کی گئی ۔ نمازجنازہ میں بڑی تعدا میںمختلف شعبہ ہائے حیات کی سرکردہ
شخصیات نے شرکت کی اور دعائے مغفرت کی۔
تبصرے (0)
شائع کردہ
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس
صحافی ستیم مشرا پر حملہ کرنے والوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے - سراج احمد قریشی
👁 72 ویوز
नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान
👁 47 ویوز
पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय
👁 42 ویوز
والدین کی تربیت: اولاد کے لیے دنیا و آخرت میں رفعت و کامیابی کا عظیم الشان زینہ ہے
👁 37 ویوز
رویندر ناتھ ٹھاکر اور 'وشو بھارتی' یونیورسٹی
👁 35 ویوز