ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کے شعری مجموعے ’’دل مضراب‘‘ کا اجرا
توقیر عالم توقیر کی شاعری میں کلاسیکی شعرا کی بازگشت: پروفیسر صفدر امام قادری
پٹنہ (پریس ریلیز): ادبی تنظیم ’’ارباب قلم‘‘ کے زیر اہتمام اردو پبلک لائبریری، پٹنہ میں معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کے پہلے شعری مجموعے ’’دل مضراب‘‘ کی رسم اجرا کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت اردو کے معروف نقاد پروفیسر صفدر امام قادری نے کی، جبکہ نظامت نوجوان شاعر و صحافی حسن امام رضوی نے کی۔ پروگرام کا آغاز محمد شمیم اختر ندوی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نذرانہ عقیدت طلت جبیں پیش کی۔
تقریب میں شہر کے ممتاز اہلِ علم و ادب، شعراء، اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف دانشور اور صاحبِ قلم پروفیسر عبدالواحد انصاری نے ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کو ان کے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر توقیر عالم توقیر پہلے ایک رائٹر کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں معروف تھے، تاہم ’’دل مضراب‘‘ کی اشاعت کے بعد وہ باقاعدہ طور پر صاحب کتاب کی حیثیت سے بھی ادبی دنیا میں متعارف ہوئے ہیں۔ ان کا یہ پہلا شعری مجموعہ ہے اور اس کے لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر شعر بامعنی ہو، اصل بات یہ ہے کہ تخلیق کا وجود بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ رسم اجرا کی تقریبات میں عموماً کتاب کے محاسن تلاش کیے جاتے ہیں تاکہ مصنف اور شاعر کی شخصیت اور تخلیقی جہات لوگوں کے سامنے مزید نمایاں ہوسکیں۔ انہوں نے ’’دل مضراب‘‘ کو ڈاکٹر توقیر کی ادبی شناخت کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا۔
مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے فیکلٹی آف ہیومینٹیز کے ڈین پروفیسر اعجاز عالم نے کتاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’’دل مضراب‘‘ کا مطالعہ کیا ہے اور اس میں میر تقی میر کا رنگ نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر سے استفادے کے سبب ڈاکٹر توقیر کو ’’میرِ ثانی‘‘ کہا جائے گا۔ ان کے مطابق ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کا یہ شعری مجموعہ ادبی حلقوں میں یقینی طور پر پذیرائی حاصل کرے گا اور اردو ادب کے ذخیرے میں ایک قابلِ ذکر اضافہ ثابت ہوگا۔
خدا بخش لائبریری کے ڈائریکٹر پروفیسر زاہد الحق نے ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جس انداز کی شاعری پیش کی ہے، اس سے کلیم الدین احمد کی روح ضرور خوش ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شعر اچھا یا برا نہیں ہوتا، بلکہ شعر یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ شاعر کے لیے سب سے اہم چیز اپنی شناخت پیدا کرنا ہے اور وقت یہ طے کرتا ہے کہ شاعر نے اپنی ادبی شناخت کس حد تک قائم کی۔انہوں نے غالب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس زمانے میں غالب نے شعر کہنا شروع کیا، اس وقت ان کی شاعری کو وہ پذیرائی حاصل نہیں تھی جو آج حاصل ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو ادب کی خدمت کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ان کے اندر بھرپور تخلیقی صلاحیت موجود ہے، اس لیے انہیں زمانے کی پروا کیے بغیر اپنی تخلیقی سرگرمیوں کو جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر توقیر تدریس کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیقات کے ذریعے بھی ادبی دنیا میں اپنی شناخت مستحکم کریں گے۔
تقریب کے صدر اور اردو کے معروف نقاد پروفیسر صفدر امام قادری نے اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کی شاعری کے حوالے سے کہا کہ ان کا مزاج کلاسیکی ہے اور ان کے اشعار میں کلاسیکی شعراء کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ان کا مطالعہ وسیع ہے اور انہیں الفاظ کی پرکھ حاصل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے شعری مجموعے پہلے مجموعے سے بھی بہتر ہوں گے۔ ان کے مطابق ’’دل مضراب‘‘ اردو ادب کے باب میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگا۔
معروف شاعر ڈاکٹر عطا عابدی نے بھی ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کو شعری مجموعے کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’دل مضراب‘‘ اردو ادب میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر توقیر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کے ادبی سفر کی کامیابی کی دعا کی۔
تقریب میں معروف شاعر و ادیب ثناء اللہ ثناء دوگھروی، اشفاق عادل اور ڈاکٹر عبدالباسط حمیدی نے بھی ’’دل مضراب‘‘ کا مطالعہ پیش کیا اور کتاب کے مختلف شعری و فنی پہلوؤں پر اپنے تبصرے پیش کیے۔ مقررین نے ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کے شعری اسلوب، کلاسیکی شعری روایت سے ان کے تعلق اور زبان و بیان پر ان کی گرفت کو قابلِ توجہ قرار دیا۔
تقریب میں ڈاکٹر نوشاد عالم ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن، ڈاکٹر تحسین زماں، ڈاکٹر ممتاز عالم مصباحی، ڈاکٹر ریحان غنی،شاہد اختر، اعجاز رسول، احمد شاذ قادری،احسن راشد،عبدالباسط حمیدی، ڈاکٹر ابرارالحق، ڈاکٹر نعمان قیصر ، یاور راشدسمیت متعدد شعراء، ادباء، اساتذہ اور طلبہ موجود تھے۔ شرکائے تقریب نے ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کو ’’دل مضراب‘‘ کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اردو شاعری کے میدان میں مزید قابلِ قدر اضافہ کریں گے۔
تقریب کے اختتام پر ’’ارباب قلم‘‘ کی جانب سے تمام مہمانوں اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا گیا۔ ’’دل مضراب‘‘ کی رسمِ اجرا کی یہ تقریب پٹنہ کی ادبی سرگرمیوں میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوئی اور اس موقع پر ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کی شعری صلاحیتوں اور ان کے ادبی مستقبل کے حوالے سے اہلِ علم و ادب نے مثبت توقعات کا اظہار کیا۔
تقریب میں شہر کے ممتاز اہلِ علم و ادب، شعراء، اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف دانشور اور صاحبِ قلم پروفیسر عبدالواحد انصاری نے ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کو ان کے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر توقیر عالم توقیر پہلے ایک رائٹر کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں معروف تھے، تاہم ’’دل مضراب‘‘ کی اشاعت کے بعد وہ باقاعدہ طور پر صاحب کتاب کی حیثیت سے بھی ادبی دنیا میں متعارف ہوئے ہیں۔ ان کا یہ پہلا شعری مجموعہ ہے اور اس کے لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر شعر بامعنی ہو، اصل بات یہ ہے کہ تخلیق کا وجود بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ رسم اجرا کی تقریبات میں عموماً کتاب کے محاسن تلاش کیے جاتے ہیں تاکہ مصنف اور شاعر کی شخصیت اور تخلیقی جہات لوگوں کے سامنے مزید نمایاں ہوسکیں۔ انہوں نے ’’دل مضراب‘‘ کو ڈاکٹر توقیر کی ادبی شناخت کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا۔
مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے فیکلٹی آف ہیومینٹیز کے ڈین پروفیسر اعجاز عالم نے کتاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’’دل مضراب‘‘ کا مطالعہ کیا ہے اور اس میں میر تقی میر کا رنگ نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر سے استفادے کے سبب ڈاکٹر توقیر کو ’’میرِ ثانی‘‘ کہا جائے گا۔ ان کے مطابق ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کا یہ شعری مجموعہ ادبی حلقوں میں یقینی طور پر پذیرائی حاصل کرے گا اور اردو ادب کے ذخیرے میں ایک قابلِ ذکر اضافہ ثابت ہوگا۔
خدا بخش لائبریری کے ڈائریکٹر پروفیسر زاہد الحق نے ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جس انداز کی شاعری پیش کی ہے، اس سے کلیم الدین احمد کی روح ضرور خوش ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شعر اچھا یا برا نہیں ہوتا، بلکہ شعر یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ شاعر کے لیے سب سے اہم چیز اپنی شناخت پیدا کرنا ہے اور وقت یہ طے کرتا ہے کہ شاعر نے اپنی ادبی شناخت کس حد تک قائم کی۔انہوں نے غالب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس زمانے میں غالب نے شعر کہنا شروع کیا، اس وقت ان کی شاعری کو وہ پذیرائی حاصل نہیں تھی جو آج حاصل ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو ادب کی خدمت کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ان کے اندر بھرپور تخلیقی صلاحیت موجود ہے، اس لیے انہیں زمانے کی پروا کیے بغیر اپنی تخلیقی سرگرمیوں کو جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر توقیر تدریس کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیقات کے ذریعے بھی ادبی دنیا میں اپنی شناخت مستحکم کریں گے۔
تقریب کے صدر اور اردو کے معروف نقاد پروفیسر صفدر امام قادری نے اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کی شاعری کے حوالے سے کہا کہ ان کا مزاج کلاسیکی ہے اور ان کے اشعار میں کلاسیکی شعراء کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ان کا مطالعہ وسیع ہے اور انہیں الفاظ کی پرکھ حاصل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے شعری مجموعے پہلے مجموعے سے بھی بہتر ہوں گے۔ ان کے مطابق ’’دل مضراب‘‘ اردو ادب کے باب میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگا۔
معروف شاعر ڈاکٹر عطا عابدی نے بھی ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کو شعری مجموعے کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’دل مضراب‘‘ اردو ادب میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر توقیر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کے ادبی سفر کی کامیابی کی دعا کی۔
تقریب میں معروف شاعر و ادیب ثناء اللہ ثناء دوگھروی، اشفاق عادل اور ڈاکٹر عبدالباسط حمیدی نے بھی ’’دل مضراب‘‘ کا مطالعہ پیش کیا اور کتاب کے مختلف شعری و فنی پہلوؤں پر اپنے تبصرے پیش کیے۔ مقررین نے ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کے شعری اسلوب، کلاسیکی شعری روایت سے ان کے تعلق اور زبان و بیان پر ان کی گرفت کو قابلِ توجہ قرار دیا۔
تقریب میں ڈاکٹر نوشاد عالم ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن، ڈاکٹر تحسین زماں، ڈاکٹر ممتاز عالم مصباحی، ڈاکٹر ریحان غنی،شاہد اختر، اعجاز رسول، احمد شاذ قادری،احسن راشد،عبدالباسط حمیدی، ڈاکٹر ابرارالحق، ڈاکٹر نعمان قیصر ، یاور راشدسمیت متعدد شعراء، ادباء، اساتذہ اور طلبہ موجود تھے۔ شرکائے تقریب نے ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کو ’’دل مضراب‘‘ کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اردو شاعری کے میدان میں مزید قابلِ قدر اضافہ کریں گے۔
تقریب کے اختتام پر ’’ارباب قلم‘‘ کی جانب سے تمام مہمانوں اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا گیا۔ ’’دل مضراب‘‘ کی رسمِ اجرا کی یہ تقریب پٹنہ کی ادبی سرگرمیوں میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوئی اور اس موقع پر ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کی شعری صلاحیتوں اور ان کے ادبی مستقبل کے حوالے سے اہلِ علم و ادب نے مثبت توقعات کا اظہار کیا۔
Comments (0)
पोस्ट के लेखक
Isi Category Me Aur

حضرت غوث الاعظم کی زندگی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ: مفتی غلام حسین ثقافی

حضرت سیدنا قادر قمیص رحمتہ اللہ علیہ کا عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

ہم اپنی نسلوں کے روشن مستقبل کی نئی تاریخ رقم کریں گے:مولانا غلام رسول بلیاوی
Popular Posts

पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय
👁 40 views

नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान
👁 40 views

भारी बारिश के चलते गोरखपुर में 26 सितंबर को कक्षा 1 से 12 तक के सभी स्कूल बंद
👁 15 views
सहारनपुर और बाराबंकी के बाद अब इटावा - सैयद बाबा मजार पर चला बुलडोजर, वक्फ बोर्ड खामोश?
👁 14 views

नगर पंचायत इटवा बनी ‘नरक पंचायत’! राजपूत डीहवा रोड पर जलजमाव से ग्रामीण परेशान
👁 14 views