تازہ ترین
• جنتر منتر احتجاج کی منسوخی پر ملت میں مایوسی • ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کے شعری مجموعے ’’دل مضراب‘‘ کا اجرا • ترنمول کانگرس کی شکست کے اسباب! • غوث اعظم سید الاولیاء رضی اللہ عنہ:علم و عرفان کے تاجدار اور اصلاح امت کے عظیم پیشوا • جمعہ مسلمانوں کے لیے عید کیوں ہے؟ • حضرت غوث الاعظم کی زندگی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ: مفتی غلام حسین ثقافی • حضرت سیدنا قادر قمیص رحمتہ اللہ علیہ کا عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا • ہم اپنی نسلوں کے روشن مستقبل کی نئی تاریخ رقم کریں گے:مولانا غلام رسول بلیاوی • شعبہ خواتین جماعتِ اسلامی ہند، شہرعظیم تر حیدرآبادکے زیر اہتمام”سیرت حضرت محمد ﷺ — امن و انصاف کی علامت“ کے عنوان پر خصوصی نشست • Dyy gds gfx

جمعہ مسلمانوں کے لیے عید کیوں ہے؟

مذہب و عقیدہ 📅 27-09-2026 👁 3 views 💬 0 comments 🔁 0 shares
تحریر: شیخ مصطفی الرحمٰن
دار الہدیٰ اسلامک یونیورسٹی

ہفتے کے سات دنوں میں ایک دن ایسا بھی آتا ہے جس کی صبح باقی دنوں سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔ مسجدوں کی صفیں سنورتی ہیں، گھروں میں غسل اور پاکیزگی کا اہتمام ہوتا ہے، لوگ اچھے لباس زیب تن کرتے ہیں، خوشبو لگاتے ہیں، مسجدوں کی طرف قدم بڑھاتے ہیں اور ایک ایسی نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں جو صرف ایک نماز نہیں بلکہ مسلمانوں کے اجتماعی شعور، روحانی زندگی اور ایمانی وابستگی کا ایک عظیم مظہر ہے۔ یہ دن جمعہ ہے۔

اسلامی تعلیمات میں جمعہ کو غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے مسلمانوں کے لیے عید قرار دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "یہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے مسلمانوں کے لیے مقرر فرمایا ہے۔" اسی روایت میں جمعہ کے لیے غسل، خوشبو اور مسواک کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ (سنن ابن ماجہ، 1098)

لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: اگر اسلام میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ دو معروف سالانہ عیدیں ہیں تو پھر جمعہ کو عید کیوں کہا گیا؟ کیا جمعہ بھی عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی طرح ایک مستقل عید ہے؟ یا اس لفظ کے پیچھے کوئی وسیع تر روحانی اور اجتماعی مفہوم پوشیدہ ہے؟

درحقیقت جمعہ کو عید کہنا مسلمانوں کی زندگی میں اس دن کی خصوصی فضیلت، روحانی خوشی، اجتماعی اجتماع اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ سالانہ عیدوں کا بدل نہیں بلکہ ایک ایسا ہفتہ وار مقدس دن ہے جو ہر ہفتے مسلمان کو ایمان کی تجدید اور اپنی زندگی کے محاسبے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

جمعہ: اسلامی تاریخ اور عظمت کا دن

رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کے بہترین دنوں میں جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی دن ان کا وصال ہوا، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن قیامت کے بڑے واقعات رونما ہوں گے۔ اسی حدیث میں نبی کریم ﷺ نے جمعہ کے دن آپ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب بھی دی، کیونکہ امت کا درود آپ ﷺ تک پہنچایا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد، 1047)

یہ حدیث جمعہ کی عظمت کا ایک گہرا تصور ہمارے سامنے رکھتی ہے۔ جمعہ محض ہفتے کا ایک دن نہیں بلکہ انسان کی تخلیق اور اس کے آخری انجام کی یاد دہانی بھی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش انسان کو اس کی ابتدا یاد دلاتی ہے، جبکہ قیامت کا ذکر اسے اس کے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

انسان عام طور پر اپنی زندگی کے درمیان میں اس قدر مصروف ہوجاتا ہے کہ اسے یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور اسے کہاں جانا ہے۔ کاروبار، تعلیم، ملازمت، گھر، خاندان، معاشی پریشانیاں، مستقبل کی منصوبہ بندی اور دنیاوی خواہشات انسان کی توجہ کو اس طرح گھیر لیتی ہیں کہ آخرت کا تصور پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

جمعہ ہر ہفتے آکر اس غفلت کے پردے کو ہٹاتا ہے۔ یہ دن گویا انسان سے کہتا ہے: تم صرف آج کے لیے پیدا نہیں کیے گئے۔ تمہاری ایک ابتدا ہے اور ایک انجام بھی۔ تمہاری زندگی صرف دنیا کے چند سالوں کا نام نہیں، بلکہ اس کے بعد ایک ابدی زندگی تمہاری منتظر ہے۔ اسی لیے جمعہ کا دن مومن کے لیے ایک روحانی بیداری کا دن ہے۔

عید کا شرعی مفہوم اور جمعہ کی حیثیت

لفظ عید عربی زبان میں ایسے دن کے لیے استعمال ہوتا ہے جو بار بار آتا ہے اور جس میں اجتماع، خوشی اور مخصوص شان پائی جاتی ہے۔ جمعہ ہر ہفتے لوٹ کر آتا ہے، مسلمانوں کو عبادت اور اجتماع کے لیے جمع کرتا ہے اور اس میں ایک خاص روحانی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان کہ "یہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے مسلمانوں کے لیے مقرر فرمایا ہے" جمعہ کی اسی خصوصی حیثیت کو واضح کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، 1098)

تاہم جمعہ کو عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے ساتھ بالکل ایک ہی نوعیت کی عید سمجھنا درست نہیں۔ عیدالفطر رمضان المبارک کے اختتام پر آنے والی سالانہ عید ہے، جبکہ عیدالاضحیٰ حج اور قربانی کی مناسبت سے آنے والی سالانہ عید ہے۔ ان دونوں کے مخصوص احکام ہیں۔ جمعہ کی حیثیت اس سے مختلف ہے؛ اسے مسلمانوں کی ہفتہ وار عید کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔

یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے جمعہ کی حقیقت بھی واضح ہوتی ہے۔ مسلمان کو ہر ہفتے ایک ایسا دن ملتا ہے جس میں وہ اپنی روحانی زندگی کو تازہ کرسکتا ہے، مسجد میں اہل ایمان کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے، قرآن و حدیث کی نصیحت سن سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے تعلق کو مضبوط کرسکتا ہے۔

یوں جمعہ مسلمان کی ہفتہ وار زندگی میں ایک روحانی پڑاؤ ہے۔ دنیا کی دوڑ میں چلتے چلتے انسان رک کر اپنے رب کو یاد کرتا ہے، اپنے اعمال کو دیکھتا ہے اور پھر اگلے ہفتے کی زندگی کی طرف روانہ ہوتا ہے۔

قرآن کا پیغام: جب اللہ بلائے تو دنیا کو روک دو

جمعہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں ایک مکمل سورت کا نام سورۃ الجمعہ رکھا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾

"اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔"

یہ آیت اسلامی زندگی کے ترجیحات کا ایک عظیم اصول بیان کرتی ہے۔ تجارت اپنی جگہ ضروری ہے، کاروبار اپنی جگہ ضروری ہے، روزگار، ملازمت اور دنیاوی ذمہ داریاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکار آ جائے تو مومن کے لیے اپنے رب کی طرف متوجہ ہونا مقدم ہوجاتا ہے۔

یہ دنیا کو چھوڑنے کا حکم نہیں بلکہ دنیا کو صحیح مقام دینے کا حکم ہے۔

اسی سورۃ میں نماز کے بعد فرمایا گیا:

﴿فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا﴾

یعنی جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ، اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔

یہ اسلام کے متوازن تصورِ زندگی کی خوبصورت تصویر ہے۔ نماز کے وقت دنیاوی مشغولیت کو چھوڑنا ہے، لیکن نماز کے بعد حلال روزی تلاش کرنے کے لیے دوبارہ دنیا میں واپس جانا ہے۔ گویا اسلام مسلمان کو نہ دنیا سے فرار سکھاتا ہے اور نہ دنیا میں ایسا غرق ہونے دیتا ہے کہ وہ اپنے رب کو بھول جائے۔ جمعہ ہر ہفتے اسی توازن کی یاد دہانی ہے۔

جمعہ کی تیاری: جسم کی پاکیزگی سے دل کی پاکیزگی تک

اگر جمعہ ایک عید ہے تو اس کی تیاری بھی عام دنوں سے مختلف ہونی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے موقع پر غسل، خوشبو اور مسواک کی ترغیب دی۔ یہ تعلیم اسلام کے ایک نہایت خوبصورت پہلو کو ظاہر کرتی ہے۔ اسلام ظاہری پاکیزگی کو بھی اہمیت دیتا ہے اور باطنی پاکیزگی کو بھی۔

جمعہ کے دن مسلمان غسل کرتا ہے، صاف لباس پہنتا ہے، خوشبو استعمال کرتا ہے اور مسجد کی طرف جاتا ہے۔ لیکن اس ظاہری تیاری کے ساتھ ایک اور تیاری بھی ضروری ہے: دل کی تیاری۔

اگر لباس صاف ہے لیکن دل میں تکبر ہے تو جمعہ کا پیغام ادھورا رہ جاتا ہے۔ اگر جسم خوشبو سے معطر ہے مگر زبان غیبت سے آلودہ ہے تو انسان کو اپنے باطن کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ اگر مسجد کی صف میں کھڑے ہونے کے باوجود دل میں بھائی کے لیے نفرت ہے تو جمعہ کے اجتماعی پیغام پر غور کرنا چاہیے۔

اجتماعی شعور اور اسلامی مساوات

جمعہ کی نماز اسلام کے اجتماعی نظام کا ایک نہایت خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ ایک ہی مسجد میں مختلف طبقات کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ کسی کے پاس دولت زیادہ ہے، کسی کے پاس کم۔ کوئی صاحبِ منصب ہے، کوئی عام مزدور۔ کوئی بڑا کاروباری ہے، کوئی چھوٹا دکاندار۔ کوئی استاد ہے، کوئی طالب علم۔ لیکن جب نماز کی صف قائم ہوتی ہے تو سب ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرکے ایک ہی امام کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔

اسلامی مساوات کا یہ منظر صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ صفوں میں کھڑا مسلمان اپنے عمل سے اعلان کرتا ہے کہ اللہ کے سامنے اصل معیار دولت، شہرت، خاندان یا منصب نہیں بلکہ ایمان اور تقویٰ ہے۔ جمعہ اسی احساس کو ہر ہفتے زندہ کرتا ہے۔

آج کی دنیا میں انسان مختلف شناختوں، طبقاتی فرق، معاشی فاصلے اور سماجی تقسیم کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں جمعہ مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے کہ ان کی بنیادی شناخت ایک امت کی ہے۔ مسجد کی صفیں انسان کو خاموشی سے یہ سبق دیتی ہیں کہ اللہ کے سامنے سب بندے ہیں اور سب اسی کے محتاج ہیں۔

سورۃ الکہف: نور اور بصیرت کا پیغام

جمعہ کے ساتھ سورۃ الکہف کی تلاوت کا بھی اہل علم نے ذکر کیا ہے۔ بعض روایات میں جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھنے والے کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور کی بشارت آئی ہے۔ یہ روایت حاکم اور بیہقی وغیرہ سے منقول ہے، اور بعض محدثین نے اسے حسن یا صحیح قرار دیا ہے، اگرچہ اس باب کی روایات کے درجات میں اہل علم کے درمیان بحث بھی موجود ہے۔

سورۃ الکہف کے مضامین پر غور کیا جائے تو اس میں ایمان، مال، علم اور اقتدار سمیت انسانی زندگی کی مختلف آزمائشوں کے حوالے سے گہری رہنمائی ملتی ہے۔ اصحابِ کہف کا واقعہ ایمان کے امتحان کی طرف متوجہ کرتا ہے، دو باغوں والے شخص کا واقعہ مال و دولت کے فتنے کی یاد دلاتا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ علم اور انسانی فہم کی حدود کی طرف متوجہ کرتا ہے، جبکہ ذوالقرنین کا واقعہ طاقت اور اقتدار کے صحیح استعمال کا سبق دیتا ہے۔

یوں سورۃ الکہف کی تلاوت صرف ایک معمول نہیں بلکہ غور و فکر کا دروازہ بھی بن سکتی ہے۔ جمعہ کا دن اگر انسان کو اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے تو سورۃ الکہف اسے یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ زندگی کے بڑے بڑے امتحانات میں ایمان، صبر، علم اور اللہ پر اعتماد کیسے برقرار رکھا جائے۔

جمعہ: ہفتہ وار احتساب کا دن

ایک ہفتہ گزر گیا۔ اس دوران ہم نے کیا کیا؟ کس سے اچھا برتاؤ کیا؟ کس کا دل دکھایا؟ کہاں جھوٹ بولا؟ کہاں کسی کا حق مارا؟ نمازوں میں کتنی پابندی رہی؟ والدین کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا رہا؟ ہماری نگاہیں کہاں گئیں؟ ہماری زبان نے کیا کہا؟ ہمارے موبائل نے ہمیں اللہ کے قریب کیا یا غفلت میں مزید مبتلا کردیا؟

یہ سوالات انسان کو اپنے آپ سے پوچھنے چاہییں۔

جمعہ صرف یہ دیکھنے کا دن نہیں کہ مسجد میں کتنے لوگ آئے؛ یہ دیکھنے کا دن بھی ہے کہ مسجد سے واپس آنے کے بعد ہماری زندگی میں کیا بدلا۔

اگر ایک شخص جمعہ پڑھ کر نکلتا ہے اور اگلے ہفتے تک اس کے اخلاق میں کچھ بہتری آتی ہے، اس کی نماز میں کچھ پابندی پیدا ہوتی ہے، والدین کے ساتھ رویہ بہتر ہوتا ہے، زبان گناہوں سے محفوظ ہوتی ہے اور دل میں اللہ کا خوف بڑھتا ہے تو اس کے لیے جمعہ واقعی روحانی تربیت کا ذریعہ بن گیا۔

کیونکہ جمعہ صرف مسجد جانے کا نام نہیں؛ جمعہ اللہ کی طرف واپس آنے کا نام ہے۔

جمعہ کی حقیقی خوشی

عید کا تصور ہمارے ذہن میں عام طور پر نئے کپڑوں، خوشی، ملاقاتوں اور اچھے کھانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ لیکن اسلام انسان کو خوشی کا ایک اور گہرا مفہوم دیتا ہے۔

ایک مسلمان کے لیے حقیقی خوشی یہ ہے کہ اسے اپنے رب کے سامنے جھکنے کا موقع ملے۔

جمعہ کی خوشی یہ ہے کہ ایک مسلمان ہفتے بھر کی مصروفیت کے بعد پھر مسجد میں پہنچتا ہے۔ وہ اپنے رب کا نام سنتا ہے، قرآن سنتا ہے، خطبہ سنتا ہے، صف میں کھڑا ہوتا ہے، سجدہ کرتا ہے، دعا کرتا ہے اور اپنے ایمان کو تازہ کرتا ہے۔

یہ ایسی خوشی ہے جسے دنیا کی کوئی دولت خرید نہیں سکتی۔ اسی لیے جمعہ مسلمانوں کے لیے عید ہے۔ یہ عید شور و ہنگامے کی نہیں، شعور کی عید ہے۔ یہ عید صرف لباس کی نہیں، کردار کی اصلاح کی عید ہے۔ یہ عید صرف ملاقاتوں کی نہیں، اللہ سے تعلق کی تجدید کی عید ہے۔ یہ عید صرف ایک دن کی خوشی نہیں، بلکہ ہر ہفتے ایک نئی روحانی زندگی شروع کرنے کا موقع ہے۔

ہر جمعہ ایک نئی شروعات

زندگی بہت تیزی سے گزر رہی ہے۔ ایک جمعہ آتا ہے، دوسرا گزر جاتا ہے، پھر تیسرا اور پھر چوتھا۔ ہمیں محسوس بھی نہیں ہوتا کہ ہماری زندگی کا ایک اور ہفتہ ہماری عمر کی کتاب سے کم ہوگیا۔

جمعہ اسی لیے اتنا اہم ہے کہ یہ ہمیں وقت کے گزرنے کا احساس دلاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک دن ہم نے دنیا میں قدم رکھا تھا، ایک دن ہمیں یہاں سے جانا بھی ہے۔ جس طرح ہر ہفتے جمعہ لوٹ کر آتا ہے، اسی طرح ہماری زندگی کا اختتام بھی ایک دن یقینی طور پر آئے گا۔

لہٰذا جب اگلا جمعہ آئے تو اسے صرف ایک تعطیل، ایک معمول یا مسجد جانے کا دن نہ سمجھیں۔ اسے اپنی زندگی کا ایک نیا باب بنائیں۔

غسل کریں، پاکیزہ لباس پہنیں، خوشبو لگائیں، مسجد کی طرف جلدی جائیں، خطبہ توجہ سے سنیں، نماز خشوع کے ساتھ ادا کریں، قرآن کی تلاوت کریں، سورۃ الکہف کی تلاوت کا اہتمام کریں، رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجیں، اپنے والدین اور اہل خانہ کے لیے دعا کریں، اپنے گناہوں پر توبہ کریں اور خصوصاً عصر کے بعد جمعہ کی آخری ساعت میں اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ ہاتھ اٹھائیں۔ جمعہ کے غسل، خوشبو اور مسواک کے فضائل اور درود کی ترغیب احادیث میں واضح طور پر وارد ہوئی ہے، جبکہ دعا کی آخری ساعت کے بارے میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت موجود ہے۔

پھر خود سے ایک سوال کریں:

"کیا اس جمعہ کے بعد میں گزشتہ جمعہ والے انسان ہی رہوں گا؟"

اگر اس سوال کا جواب آپ کو اپنی اصلاح کی طرف لے جائے تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے جمعہ کی روح کو پا لیا۔ جمعہ ہمیں ہر ہفتے یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی بکھری ہوئی زندگی کو دوبارہ سمیٹیں، اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں، اپنے دل کو گناہوں سے پاک کریں، اپنے کردار کو سنواریں اور اپنی آخرت کے لیے کچھ جمع کریں۔

یہی جمعہ کی اصل خوبصورتی ہے۔ یہی اس کی روحانی عید ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"یہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے مسلمانوں کے لیے مقرر فرمایا ہے۔" پس جب جمعہ کی اذان بلند ہو تو اسے محض ایک آواز نہ سمجھیں؛ اسے اپنے رب کی طرف سے ایک دعوت سمجھیں۔

دنیا کچھ دیر کے لیے رک جائے، دل اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے، زبان ذکر سے تر ہوجائے، آنکھیں ندامت سے نم ہوجائیں، ہاتھ دعا کے لیے اٹھ جائیں اور انسان اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوکر دل سے کہے:

اے اللہ! جو ہفتہ گزر گیا، اس کی کوتاہیوں کو معاف فرما؛ جو وقت باقی ہے اسے اپنی رضا میں گزارنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمارے ہر آنے والے جمعہ کو ہمارے ایمان، کردار اور آخرت کے لیے پہلے سے بہتر بنا دے۔ آمین۔

Reaction dein (0)

Share karein (0)

WhatsApp Facebook X

Comments (0)

पोस्ट के लेखक

✍️ Active Reporter ★★★★★
M

Mohd Shuaib Raza

📍 Gorakhpur

📰 10 posts 👁 42 views 📊 4.2 avg/post

News Home ke reporter

Isi Category Me Aur

नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान

Popular Posts

पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय

👁 40 views

नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान

👁 40 views

भारी बारिश के चलते गोरखपुर में 26 सितंबर को कक्षा 1 से 12 तक के सभी स्कूल बंद

👁 15 views

सहारनपुर और बाराबंकी के बाद अब इटावा - सैयद बाबा मजार पर चला बुलडोजर, वक्फ बोर्ड खामोश?

👁 14 views

नगर पंचायत इटवा बनी ‘नरक पंचायत’! राजपूत डीहवा रोड पर जलजमाव से ग्रामीण परेशान

👁 14 views