شبلی کا تصورِ تعلیم اور عصرِ حاضر کے علمی و تہذیبی تقاضے
از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى
آكسفورڈ
سوال :
السلام علیکم، ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب دامت برکاتہم! امید ہے مزاج گرامی
بخیر ہوں گے۔ عرض یہ ہے کہ علامہ شبلی نعمانی مرحوم و مغفور کے تصور تعلیم پر
غور کرتے ہوئے چند سوالات ذہن میں پیدا ہوئے ہیں، جن کے حل و توضیح کے لیے آپ
کی علمی رہنمائی کا محتاج ہوں۔
علامہ شبلی نعمانی نے اپنے دور میں دینی و عصری علوم کے امتزاج کا جو خواب
دیکھا تھا اور ندوۃ العلماء کی صورت میں جس کی عملی بنیاد رکھنے کی سعی
فرمائی، اگر وہ آج، 2026ء میں، ہمارے درمیان موجود ہوتے اور ازسرنو کوئی
تعلیمی ادارہ قائم فرماتے تو:
۱۔ کیا ان کے نزدیک تعلیم کا بنیادی مقصد محض ’مولوی‘ پیدا کرنا ہوتا، یا وہ
ایسے انسان کی تربیت کو مقصود قرار دیتے جو دین و دنیا اور اپنے عہد کے علمی و
فکری تقاضوں سے یکساں طور پر واقف ہو؟
۲۔ آج جبکہ مصنوعی ذہانت (AI)، جدید سائنس اور مغربی افکار کا اثر و نفوذ پہلے
سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے، کیا وہ ان علوم کو ’اضافی‘ سمجھتے یا تعلیم کا
لازمی جزو قرار دیتے؟ اور اگر وہ مدارس کے مروجہ نصاب اور طریقۂ تدریس میں
اصلاح فرماتے تو سب سے پہلے کن امور کو پیش نظر رکھتے؟
۳۔ کیا وہ ہر طالب علم کے لیے ’تخصص فی الدین‘ کو ضروری قرار دیتے، یا اکثر
طلبہ کو ایک وسیع علمی بنیاد فراہم کرکے ان کی صلاحیت و ذوق کے مطابق سائنس،
معاشیات، قانون، صحافت، ذرائع ابلاغ اور دیگر عصری میدانوں میں آگے بڑھنے کا
موقع دیتے، تاکہ مختلف علمی و عملی شعبوں میں دینی بصیرت رکھنے والے افراد
پیدا ہوں؟
۴۔ اور سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا شبلی مرحوم کا اصل مقصود کسی مخصوص
نصاب یا نظام تعلیم کی حفاظت تھا، یا یہ تھا کہ ہر عہد کے علمی و تہذیبی
تقاضوں کو سمجھتے ہوئے دینی تعلیم کو زندہ، متحرک اور مؤثر رکھا جائے؟ اگر
ثانی الذکر بات ان کے تصورِ تعلیم کا بنیادی مزاج تھی تو آج کے علما اور دینی
اداروں پر اس کی روشنی میں کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟
امید ہے کہ آپ اپنی گراں قدر علمی آرا سے مستفید فرمائیں گے۔ جزاکم اللہ
خیراً۔ والسلام
جواب :
علامہ شبلی نعمانیؒ کے تصورِ تعلیم پر گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلے اس بنیادی
حقیقت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ ان کے نزدیک تعلیم محض چند علوم و فنون کے
حصول، کسی مخصوص سند کے اکتساب یا کسی خاص طبقے کی تیاری کا نام نہیں تھی،
بلکہ وہ ایک ہمہ گیر علمی و فکری عمل تھا، جس کا مقصد ایسے انسانوں اور علما
کی تشکیل تھا جو اپنے دین کی گہری بصیرت رکھتے ہوں، اپنے زمانے کے علمی و فکری
رجحانات سے واقف ہوں اور مستقبل کے تقاضوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے
ہوں۔
https://sailerawan.com/aeni-edaron-ka-buhran/
میں نے علامہ شبلی نعمانیؒ کے تعلیمی افکار پر اپنی عربی تصانیف، بالخصوص ان
کی سوانح اور تاریخ ندوۃ العلماء میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ان مباحث کا حاصل یہ
ہے کہ شبلیؒ کے نزدیک اصلاحِ تعلیم کا مسئلہ کسی ایک کتاب، کسی ایک فن یا کسی
جزوی نصابی تبدیلی تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ پورے نظامِ تعلیم کی فکری
بنیادوں، علمی ترجیحات، تدریسی مناہج اور مقاصدِ تعلیم پر نظرثانی کے قائل
تھے۔ ان کا تصور اس اعتبار سے جامع تھا کہ وہ علومِ اسلامیہ اور علومِ عصریہ
کے درمیان کسی اصولی تفریق کو پسند نہیں کرتے تھے، بلکہ دونوں کو ایک وسیع تر
علمی وحدت کے اجزا سمجھتے تھے۔
شبلیؒ کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں تھا کہ قدیم علوم پڑھائے جائیں یا جدید علوم،
بلکہ یہ تھا کہ انسان کو اس کے دین، اس کی تہذیب اور اس کے عہد کے علمی حقائق
سے کس طرح پوری طرح آراستہ کیا جائے۔ چنانچہ ان کے تصورِ تعلیم کی بنیاد علوم
کی تقسیم نہیں، بلکہ علم کی جامعیت، اس کے صحیح منہج اور اس کے بامقصد استعمال
پر قائم تھی۔
تعلیم کی وحدت اور علوم کے درمیان مصنوعی تفریق کا خاتمہ:
شبلیؒ کے تعلیمی تصور کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ وہ تعلیم کو ایک وحدت کی
حیثیت سے دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک دینی اور عصری علوم کے درمیان ایسی دیواریں
قائم کرنا درست نہیں تھا جو طالب علم کی علمی نشوونما کو محدود کردیں۔ اسلامی
علوم انسان کو دین کی تفہیم، اس کی فکری روایت اور اس کے اخلاقی و تہذیبی
اصولوں سے آشنا کرتے ہیں، جب کہ دیگر مفید علوم اسے کائنات، معاشرے، تاریخ اور
انسانی زندگی کے مختلف مظاہر کو سمجھنے کے وسائل فراہم کرتے ہیں۔ ان دونوں کو
ایک دوسرے سے بے نیاز سمجھنا علم کی جامع روح کے منافی ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ شبلیؒ محض مختلف مضامین کو ایک ہی ادارے میں
جمع کردینے کے قائل نہ تھے۔ ان کے تصور کی اصل اہمیت اس بات میں تھی کہ علوم
کے مابین ایک بامعنی تعلق پیدا کیا جائے، ان کے حصول کے لیے مؤثر طریقۂ تعلیم
اختیار کیا جائے اور طالب علم کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کو اس انداز سے پروان
چڑھایا جائے کہ وہ مختلف علوم سے حاصل ہونے والی بصیرت کو ایک دوسرے کی تفہیم
میں استعمال کرسکے۔
اس لیے اگر شبلیؒ آج، 2026ء میں، کوئی تعلیمی ادارہ قائم کرتے تو ان کے تصور
کی روشنی میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ دینی اور عصری علوم کو دو
متوازی، غیر متعلق شعبوں کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک جامع تعلیمی منصوبے کے
مربوط اجزا کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کے نزدیک علوم کی افادیت،
ان کی علمی قدر اور ان کے حصول کا صحیح منہج بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔
https://sailerawan.com/mutala-taraqqi-yafta-qaumon-ka-raaz/
ماضی کی تکرار نہیں، مستقبل کی تیاری:
شبلیؒ کی تعلیمی اصلاح کا ایک بنیادی محرک یہ احساس تھا کہ رائج نظامِ تعلیم
اپنے طلبہ کو ان کے عہد کے علمی اور فکری تقاضوں کے لیے پوری طرح تیار نہیں
کررہا ہے۔ جب کسی تعلیمی ادارے کا بنیادی ہدف صرف ایسے افراد پیدا کرنا بن
جائے جو پہلے سے موجود علمی مواد کی تکرار کرسکیں، تو رفتہ رفتہ اس کی تخلیقی
قوت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ ایسا ادارہ اپنی تاریخی روایت کا امین تو رہ سکتا ہے،
لیکن اس روایت کو نئے علمی مسائل کے حل اور نئے فکری امکانات کی دریافت کا
ذریعہ نہیں بنا پاتا۔
اسی تناظر میں شبلیؒ کی تنقید کا مفہوم سمجھنا چاہیے۔ ان کے نزدیک مدارس کا
مقصد ماضی کے علما کی محض نقل تیار کرنا نہیں تھا، بلکہ ایسے اہلِ علم پیدا
کرنا تھا جو اپنے اسلاف کی علمی میراث سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے زمانے میں
بھی علم کی خدمت انجام دے سکیں۔ اگر مدارس صرف گزشتہ ادوار کے علمی حالات کے
مطابق افراد تیار کریں اور بدلتے ہوئے حالات سے ان کا رشتہ منقطع ہوجائے، تو
وہ اپنی اصل تعلیمی ذمہ داری پوری نہیں کرسکتے۔
اس کیفیت کو ميوزيم/عجائب گھر بن جانے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے: ایسی جگہیں
جہاں ماضی کے علمی سرمایے کی حفاظت تو ہو، لیکن علم کی تجدید، تحقیق اور عصری
مسائل سے مکالمے کا عمل کمزور پڑ جائے۔ شبلیؒ کے تصور میں علمی روایت کی حفاظت
اور علمی ارتقا ایک دوسرے کی ضد نہیں تھے۔ بلکہ روایت کی حقیقی حفاظت اسی وقت
ممکن ہے جب اس کے اصولوں اور علمی روح کو زندہ رکھا جائے اور اسے نئے حالات
میں کارآمد بنایا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کا تصورِ تعلیم اپنے زمانے سے آگے کی نگاہ رکھتا تھا۔ وہ صرف
اپنے عہد کے لیے علما تیار کرنا نہیں چاہتے تھے، بلکہ ایسے اہلِ علم کی تشکیل
چاہتے تھے جو آنے والے زمانوں میں بھی بدلتی ہوئی علمی دنیا کے ساتھ بامعنی
تعلق قائم رکھ سکیں۔
جدید علوم، سائنسی ترقی اور منہجِ تعلیم:
اگر شبلیؒ آج کے دور میں موجود ہوتے تو مصنوعی ذہانت، جدید سائنس، معاشیات،
قانون، ابلاغیات اور دیگر عصری علوم کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر ان کے عمومی
تصورِ تعلیم کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے۔ ان علوم کو محض اس وجہ سے غیر
ضروری قرار دینا کہ وہ روایتی دینی نصاب کا حصہ نہیں رہے، ان کے جامع تعلیمی
مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تاہم ان کے تصور کی بنیاد صرف نئے مضامین کو نصاب
میں شامل کرنا بھی نہ ہوتی، بلکہ ان کے حصول کے لیے ایسا علمی منہج اختیار
کرنا ہوتی جو تحقیق، تنقید، استدلال اور عملی افادیت کو یکجا کرسکے۔
https://sailerawan.com/rohani-utsav-delhi/
آج کے تناظر میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ طالب علم کو جدید سائنس کے بنیادی
تصورات، سائنسی تحقیق کے اصول، ٹیکنالوجی کے امکانات اور اس کے سماجی و اخلاقی
اثرات سے واقف کیا جائے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کو محض ایک تکنیکی مہارت کے طور
پر نہیں، بلکہ انسانی علم، اخلاق، معاشرت اور مستقبل کے سوالات سے متعلق ایک
اہم علمی موضوع کے طور پر بھی پڑھایا جائے۔ اس کے ساتھ دینی علوم کی تدریس میں
بھی ایسا تحقیقی اور تنقیدی منہج اختیار کیا جائے جو طالب علم کو نصوص کے فہم،
علمی روایت کے ادراک اور نئے مسائل کے تجزیے کی صلاحیت عطا کرے۔
یہاں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ جدید علوم کو دینی تعلیم کے مقابل کھڑا کرنے
کے بجائے ان کے درمیان علمی مکالمے کی راہیں کھولی جائیں۔ اسی طرح دینی علوم
کو محض تاریخی معلومات اور متعین متون کے مطالعے تک محدود رکھنے کے بجائے ان
کی فکری گہرائی، استدلالی قوت اور عملی معنویت کو نمایاں کیا جائے۔ شبلیؒ کے
تصور سے یہی اصول اخذ کیا جاسکتا ہے کہ نصاب کی اصلاح کا مقصد صرف معلومات میں
اضافہ نہیں، بلکہ طالب علم کی علمی شخصیت کی تعمیر ہونا چاہیے۔
تخصص اور جامع علمی بنیاد:
شبلیؒ کے تصورِ تعلیم کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر طالب علم کے لیے ایک
ہی علمی راستہ مقرر نہ کیا جائے۔ کسی بھی جامع تعلیمی نظام میں طلبہ کی
صلاحیتوں، علمی دلچسپیوں اور مستقبل کے رجحانات کا لحاظ ضروری ہے۔ اگر ہر طالب
علم کو لازماً ایک ہی درجے کی تخصصی دینی تعلیم کی طرف لے جایا جائے تو اس کے
نتیجے میں ان افراد کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ ممکن نہیں ہوگا جو دوسرے
علمی اور عملی میدانوں میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
اس کے برعکس ایک ایسا نظام زیادہ بامعنی ہوگا جس میں تمام طلبہ کو دینی علوم
کی بنیادی واقفیت، زبان و ادب، تاریخ، منطق، فکری و تنقیدی مہارتوں اور جدید
دنیا کے بنیادی علمی تصورات سے آراستہ کیا جائے، اور اس کے بعد ان کے ذوق اور
استعداد کے مطابق تخصص کے مختلف راستے کھولے جائیں۔ بعض طلبہ تفسیر، حدیث، فقہ
اور دیگر اسلامی علوم میں اعلیٰ تخصص حاصل کریں، بعض سائنس اور ٹیکنالوجی میں
آگے بڑھیں، بعض معاشیات، قانون اور سماجی علوم کو اختیار کریں، اور بعض صحافت،
ابلاغیات اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
اس طرح ایک ایسا علمی معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے جس میں دینی بصیرت صرف مدارس کے
اندر محدود نہ رہے، بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ایسے افراد موجود ہوں جو
اپنے اپنے میدان میں مہارت رکھتے ہوں اور اسلامی علمی و اخلاقی روایت سے بھی
بامعنی تعلق رکھتے ہوں۔
یہ بات بھی ضروری ہے کہ ہر شعبے میں دینی بصیرت رکھنے کا مطلب یہ نہ سمجھا
جائے کہ ہر شخص ہر علمی مسئلے میں مفتی یا متخصص بن جائے، بلکہ اس سے مراد یہ
ہے کہ وہ اپنے شعبے کی ذمہ داریوں کو دینی و اخلاقی شعور کے ساتھ سمجھنے اور
ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
شبلیؒ کی تعلیمی فکر کی بین الاقوامی معنویت:
شبلیؒ کے تعلیمی افکار کی وسعت اور ان کی اصلاحی فکر کی اہمیت کا ایک پہلو یہ
بھی ہے کہ ان کا اثر برصغیر کے تعلیمی مباحث تک محدود نہیں رہا۔ ان کے افکار
میں ایسی علمی وسعت اور اصلاحی معنویت موجود تھی کہ مصر میں بھی ان کے تصورِ
تعلیم کو توجہ کے قابل سمجھا گیا۔ علامہ رشید رضا کی جانب سے جامع ازہر کے
نصاب کی اصلاح کے لیے شبلیؒ کے نام کی تجویز اسی علمی اعتماد کی ایک قابلِ ذکر
مثال ہے۔
اس واقعے کی اہمیت محض اس میں نہیں کہ ایک دوسرے ملک کے علمی ادارے کے لیے ایک
ہندوستانی عالم کا نام پیش کیا گیا، بلکہ اس میں یہ حقیقت بھی مضمر ہے کہ
شبلیؒ کی تعلیمی فکر اپنے مقامی حالات سے آگے بڑھ کر عالمِ اسلام کے وسیع تر
علمی مسائل سے متعلق تھی۔ ان کا بنیادی سوال وہی تھا جو مختلف مسلم معاشروں کو
درپیش تھا: دینی روایت کی علمی قوت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید عہد کے تقاضوں
سے کس طرح ہم آہنگ ہوا جائے؟
یہ سوال آج بھی اپنی پوری اہمیت کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے۔ بلکہ موجودہ
زمانے میں علمی تخصص، ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی، عالمی ابلاغ اور فکری تنوع
نے اس سوال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ اس لیے شبلیؒ کی فکر سے استفادہ کرنے کا
مطلب ان کے زمانے کے کسی خاص نصاب کو بعینہٖ نافذ کرنا نہیں، بلکہ اس اصلاحی
بصیرت کو سمجھنا ہے جس کے تحت انہوں نے تعلیم کو ایک متحرک اور ارتقائی عمل کے
طور پر دیکھا۔
نصاب کی حفاظت یا علمی روایت کی تجدید؟:
شبلیؒ کے تصورِ تعلیم کا سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ آیا ان کا اصل مقصود کسی
مخصوص نصاب اور نظام کی حفاظت تھا، یا اس سے کہیں وسیع تر مقصد، یعنی ہر عہد
کے علمی و تہذیبی تقاضوں کے مطابق دینی تعلیم کو زندہ اور مؤثر رکھنا۔ ان کے
عمومی تعلیمی مزاج اور اصلاحی کوششوں کی روشنی میں دوسری تعبیر زیادہ قرینِ
فہم ہے۔
نصاب اپنی جگہ ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اسے تعلیم کا آخری مقصد نہیں سمجھا
جاسکتا۔ نصاب ایک تاریخی اور علمی ضرورت کے تحت مرتب ہوتا ہے، اور وقت کے ساتھ
اس میں نظرثانی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگر کسی نصاب کی حفاظت کے نام پر علمی
تحقیق، نئے سوالات، مفید علوم اور تدریسی اصلاح کے امکانات کو محدود کردیا
جائے تو ذریعہ مقصد کی جگہ لے لیتا ہے۔
اس کے برعکس اگر نصاب کو ایک ایسے وسیلے کے طور پر دیکھا جائے جو طالب علم کی
علمی اور فکری تشکیل میں مدد دیتا ہے تو اس میں تبدیلی اور اصلاح علمی روایت
سے انحراف نہیں، بلکہ اس کی معنوی بقا کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہاں ایک اہم امتیاز بھی ضروری ہے۔ ہر نئی چیز کو محض جدید ہونے کی وجہ سے
قبول کرنا درست نہیں، اور ہر قدیم چیز کو محض قدیم ہونے کی وجہ سے رد کرنا بھی
علمی رویہ نہیں۔ اصل معیار علمی افادیت، استدلال کی صحت، اخلاقی معنویت اور
انسانی زندگی کے مسائل سے اس کا تعلق ہونا چاہیے۔ شبلیؒ کی فکر سے استفادے کا
تقاضا یہی ہے کہ ہم روایت اور جدت دونوں کو تحقیق و تنقید کی روشنی میں
دیکھیں، نہ کہ انہیں دو متحارب گروہوں کی حیثیت سے پیش کریں۔
عصرِ حاضر کے علما اور دینی اداروں کی ذمہ داریاں:
اگر شبلیؒ کے تصورِ تعلیم کو آج کے حالات پر منطبق کیا جائے تو دینی اداروں کے
سامنے چند بنیادی ذمہ داریاں آتی ہیں۔
اول، انہیں تعلیم کے مقصد پر ازسرنو غور کرنا چاہیے۔ محض اسناد اور روایتی
عہدوں کے حصول کے بجائے ایسے افراد کی تیاری کو مرکزی اہمیت دینی چاہیے جو علم
کو سمجھنے، تحقیق کرنے، نئے مسائل کا تجزیہ کرنے اور اپنے معاشرے کی علمی و
اخلاقی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
دوم ، نصاب میں علوم کی جامعیت اور ان کے باہمی تعلق کو اہمیت دینی چاہیے۔
دینی علوم کی گہرائی برقرار رکھتے ہوئے زبانوں، تاریخ، فلسفے، سماجی علوم،
جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی مناسب تعلیم کا انتظام کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری
ہے کہ ان مضامین کو محض رسمی اضافے کے طور پر نہ پڑھایا جائے، بلکہ ان کی
تدریس میں بھی علمی معیار اور تخصص کا لحاظ رکھا جائے۔
سوم، طریقۂ تدریس کی اصلاح پر خصوصی توجہ دی جائے۔ علم صرف معلومات کو یاد
کرلینے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے فہم، استدلال، سوال اٹھانے، شواہد
کا جائزہ لینے، تحقیق کرنے اور علمی اختلاف کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔
اس لیے تدریس میں مطالعہ، مباحثہ، تحریر، تحقیق اور عملی مشق کو مناسب جگہ دی
جانی چاہیے۔
چہارم ، طلبہ کے لیے تخصص کے متنوع راستے فراہم کیے جائیں۔ تمام طلبہ کی
علمی استعداد اور مستقبل کے امکانات یکساں نہیں ہوتے۔ ایک جامع نظام وہی ہوگا
جو بنیادی تعلیم کے بعد ان کے رجحانات اور صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے
مختلف مواقع فراہم کرے، تاکہ دینی اور عصری دونوں میدانوں میں باصلاحیت افراد
تیار ہوسکیں۔
پنجم، دینی اداروں کو اپنے عہد کے فکری اور تہذیبی سوالات سے براہِ راست
مکالمہ کرنا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی تحقیق، معاشی نظام، ماحولیاتی
مسائل، قانونی مباحث اور ذرائع ابلاغ کے اثرات جیسے موضوعات سے واقفیت اب محض
اضافی علمی مشغلہ نہیں رہی۔ ان کے بارے میں سنجیدہ علمی مطالعہ اور متعلقہ
ماہرین کے ساتھ تعاون دینی اداروں کی علمی ذمہ داریوں میں شامل ہونا چاہیے۔
آخر میں، علما کو علمی روایت کے ساتھ اپنے تعلق کو محض تحفظ اور نقل تک محدود
نہیں رکھنا چاہیے۔ روایت کی حقیقی خدمت یہ ہے کہ اس کے علمی سرمایے کو سمجھا
جائے، اس کے مناہج سے استفادہ کیا جائے، اس کے اندر موجود علمی تنوع کو پہچانا
جائے اور اس کی روشنی میں نئے مسائل پر سنجیدہ غور و فکر کیا جائے۔
خلاصہ:
علامہ شبلی نعمانیؒ کے تصورِ تعلیم کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ تعلیم ایک جامع
انسانی اور علمی تشکیل کا نام ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف ماضی کی علمی میراث کو
محفوظ رکھنا ہے اور نہ ہی محض جدید علوم کی معلومات فراہم کرنا، بلکہ ایسے
اہلِ علم تیار کرنا ہے جو دینی بصیرت، علمی دیانت، فکری وسعت اور اپنے عہد کے
تقاضوں سے واقفیت کے ساتھ علم کی خدمت انجام دے سکیں۔
اگر شبلیؒ آج ہمارے درمیان ہوتے تو ان کے تصور کی روشنی میں یہ توقع کی جاسکتی
ہے کہ وہ کسی ایک مخصوص نصاب کو ہر زمانے کے لیے حتمی قرار دینے کے بجائے ایسے
تعلیمی نظام کی تشکیل پر توجہ دیتے جو علمی روایت سے وابستہ بھی ہو اور نئے
علمی امکانات کے لیے کھلا بھی۔ ان کے نزدیک تعلیم کی کامیابی کا معیار محض یہ
نہ ہوتا کہ کتنے طلبہ فارغ التحصیل ہوئے، بلکہ یہ بھی ہوتا کہ ان میں سے کتنے
افراد اپنے زمانے کے علمی مسائل کو سمجھنے، ان پر تحقیق کرنے اور اپنے علم کو
معاشرے کی تعمیر میں استعمال کرنے کے اہل بنے۔
اس اعتبار سے شبلیؒ کی فکر ہمارے لیے کسی ماضی پرستی کا عنوان نہیں، بلکہ ایک
زندہ اصلاحی منہج کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی تعلیمی بصیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم
دینی تعلیم کو ایک محدود اور جامد نظام کے بجائے ایک متحرک علمی روایت کے طور
پر دیکھیں، جو ہر دور میں اپنی اصل روح برقرار رکھتے ہوئے نئے سوالات کا سامنا
کرنے اور نئی علمی و تہذیبی صورتِ حال میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت
رکھتی ہو۔ یہی وہ اصول ہے جس کے ذریعے دینی تعلیم کو نہ صرف محفوظ رکھا جاسکتا
ہے، بلکہ اسے عصرِ حاضر اور مستقبل کے لیے بامعنی اور مؤثر بھی بنایا جاسکتا
ہے۔
آكسفورڈ
سوال :
السلام علیکم، ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب دامت برکاتہم! امید ہے مزاج گرامی
بخیر ہوں گے۔ عرض یہ ہے کہ علامہ شبلی نعمانی مرحوم و مغفور کے تصور تعلیم پر
غور کرتے ہوئے چند سوالات ذہن میں پیدا ہوئے ہیں، جن کے حل و توضیح کے لیے آپ
کی علمی رہنمائی کا محتاج ہوں۔
علامہ شبلی نعمانی نے اپنے دور میں دینی و عصری علوم کے امتزاج کا جو خواب
دیکھا تھا اور ندوۃ العلماء کی صورت میں جس کی عملی بنیاد رکھنے کی سعی
فرمائی، اگر وہ آج، 2026ء میں، ہمارے درمیان موجود ہوتے اور ازسرنو کوئی
تعلیمی ادارہ قائم فرماتے تو:
۱۔ کیا ان کے نزدیک تعلیم کا بنیادی مقصد محض ’مولوی‘ پیدا کرنا ہوتا، یا وہ
ایسے انسان کی تربیت کو مقصود قرار دیتے جو دین و دنیا اور اپنے عہد کے علمی و
فکری تقاضوں سے یکساں طور پر واقف ہو؟
۲۔ آج جبکہ مصنوعی ذہانت (AI)، جدید سائنس اور مغربی افکار کا اثر و نفوذ پہلے
سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے، کیا وہ ان علوم کو ’اضافی‘ سمجھتے یا تعلیم کا
لازمی جزو قرار دیتے؟ اور اگر وہ مدارس کے مروجہ نصاب اور طریقۂ تدریس میں
اصلاح فرماتے تو سب سے پہلے کن امور کو پیش نظر رکھتے؟
۳۔ کیا وہ ہر طالب علم کے لیے ’تخصص فی الدین‘ کو ضروری قرار دیتے، یا اکثر
طلبہ کو ایک وسیع علمی بنیاد فراہم کرکے ان کی صلاحیت و ذوق کے مطابق سائنس،
معاشیات، قانون، صحافت، ذرائع ابلاغ اور دیگر عصری میدانوں میں آگے بڑھنے کا
موقع دیتے، تاکہ مختلف علمی و عملی شعبوں میں دینی بصیرت رکھنے والے افراد
پیدا ہوں؟
۴۔ اور سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا شبلی مرحوم کا اصل مقصود کسی مخصوص
نصاب یا نظام تعلیم کی حفاظت تھا، یا یہ تھا کہ ہر عہد کے علمی و تہذیبی
تقاضوں کو سمجھتے ہوئے دینی تعلیم کو زندہ، متحرک اور مؤثر رکھا جائے؟ اگر
ثانی الذکر بات ان کے تصورِ تعلیم کا بنیادی مزاج تھی تو آج کے علما اور دینی
اداروں پر اس کی روشنی میں کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟
امید ہے کہ آپ اپنی گراں قدر علمی آرا سے مستفید فرمائیں گے۔ جزاکم اللہ
خیراً۔ والسلام
جواب :
علامہ شبلی نعمانیؒ کے تصورِ تعلیم پر گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلے اس بنیادی
حقیقت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ ان کے نزدیک تعلیم محض چند علوم و فنون کے
حصول، کسی مخصوص سند کے اکتساب یا کسی خاص طبقے کی تیاری کا نام نہیں تھی،
بلکہ وہ ایک ہمہ گیر علمی و فکری عمل تھا، جس کا مقصد ایسے انسانوں اور علما
کی تشکیل تھا جو اپنے دین کی گہری بصیرت رکھتے ہوں، اپنے زمانے کے علمی و فکری
رجحانات سے واقف ہوں اور مستقبل کے تقاضوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے
ہوں۔
https://sailerawan.com/aeni-edaron-ka-buhran/
میں نے علامہ شبلی نعمانیؒ کے تعلیمی افکار پر اپنی عربی تصانیف، بالخصوص ان
کی سوانح اور تاریخ ندوۃ العلماء میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ان مباحث کا حاصل یہ
ہے کہ شبلیؒ کے نزدیک اصلاحِ تعلیم کا مسئلہ کسی ایک کتاب، کسی ایک فن یا کسی
جزوی نصابی تبدیلی تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ پورے نظامِ تعلیم کی فکری
بنیادوں، علمی ترجیحات، تدریسی مناہج اور مقاصدِ تعلیم پر نظرثانی کے قائل
تھے۔ ان کا تصور اس اعتبار سے جامع تھا کہ وہ علومِ اسلامیہ اور علومِ عصریہ
کے درمیان کسی اصولی تفریق کو پسند نہیں کرتے تھے، بلکہ دونوں کو ایک وسیع تر
علمی وحدت کے اجزا سمجھتے تھے۔
شبلیؒ کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں تھا کہ قدیم علوم پڑھائے جائیں یا جدید علوم،
بلکہ یہ تھا کہ انسان کو اس کے دین، اس کی تہذیب اور اس کے عہد کے علمی حقائق
سے کس طرح پوری طرح آراستہ کیا جائے۔ چنانچہ ان کے تصورِ تعلیم کی بنیاد علوم
کی تقسیم نہیں، بلکہ علم کی جامعیت، اس کے صحیح منہج اور اس کے بامقصد استعمال
پر قائم تھی۔
تعلیم کی وحدت اور علوم کے درمیان مصنوعی تفریق کا خاتمہ:
شبلیؒ کے تعلیمی تصور کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ وہ تعلیم کو ایک وحدت کی
حیثیت سے دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک دینی اور عصری علوم کے درمیان ایسی دیواریں
قائم کرنا درست نہیں تھا جو طالب علم کی علمی نشوونما کو محدود کردیں۔ اسلامی
علوم انسان کو دین کی تفہیم، اس کی فکری روایت اور اس کے اخلاقی و تہذیبی
اصولوں سے آشنا کرتے ہیں، جب کہ دیگر مفید علوم اسے کائنات، معاشرے، تاریخ اور
انسانی زندگی کے مختلف مظاہر کو سمجھنے کے وسائل فراہم کرتے ہیں۔ ان دونوں کو
ایک دوسرے سے بے نیاز سمجھنا علم کی جامع روح کے منافی ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ شبلیؒ محض مختلف مضامین کو ایک ہی ادارے میں
جمع کردینے کے قائل نہ تھے۔ ان کے تصور کی اصل اہمیت اس بات میں تھی کہ علوم
کے مابین ایک بامعنی تعلق پیدا کیا جائے، ان کے حصول کے لیے مؤثر طریقۂ تعلیم
اختیار کیا جائے اور طالب علم کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کو اس انداز سے پروان
چڑھایا جائے کہ وہ مختلف علوم سے حاصل ہونے والی بصیرت کو ایک دوسرے کی تفہیم
میں استعمال کرسکے۔
اس لیے اگر شبلیؒ آج، 2026ء میں، کوئی تعلیمی ادارہ قائم کرتے تو ان کے تصور
کی روشنی میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ دینی اور عصری علوم کو دو
متوازی، غیر متعلق شعبوں کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک جامع تعلیمی منصوبے کے
مربوط اجزا کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کے نزدیک علوم کی افادیت،
ان کی علمی قدر اور ان کے حصول کا صحیح منہج بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔
https://sailerawan.com/mutala-taraqqi-yafta-qaumon-ka-raaz/
ماضی کی تکرار نہیں، مستقبل کی تیاری:
شبلیؒ کی تعلیمی اصلاح کا ایک بنیادی محرک یہ احساس تھا کہ رائج نظامِ تعلیم
اپنے طلبہ کو ان کے عہد کے علمی اور فکری تقاضوں کے لیے پوری طرح تیار نہیں
کررہا ہے۔ جب کسی تعلیمی ادارے کا بنیادی ہدف صرف ایسے افراد پیدا کرنا بن
جائے جو پہلے سے موجود علمی مواد کی تکرار کرسکیں، تو رفتہ رفتہ اس کی تخلیقی
قوت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ ایسا ادارہ اپنی تاریخی روایت کا امین تو رہ سکتا ہے،
لیکن اس روایت کو نئے علمی مسائل کے حل اور نئے فکری امکانات کی دریافت کا
ذریعہ نہیں بنا پاتا۔
اسی تناظر میں شبلیؒ کی تنقید کا مفہوم سمجھنا چاہیے۔ ان کے نزدیک مدارس کا
مقصد ماضی کے علما کی محض نقل تیار کرنا نہیں تھا، بلکہ ایسے اہلِ علم پیدا
کرنا تھا جو اپنے اسلاف کی علمی میراث سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے زمانے میں
بھی علم کی خدمت انجام دے سکیں۔ اگر مدارس صرف گزشتہ ادوار کے علمی حالات کے
مطابق افراد تیار کریں اور بدلتے ہوئے حالات سے ان کا رشتہ منقطع ہوجائے، تو
وہ اپنی اصل تعلیمی ذمہ داری پوری نہیں کرسکتے۔
اس کیفیت کو ميوزيم/عجائب گھر بن جانے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے: ایسی جگہیں
جہاں ماضی کے علمی سرمایے کی حفاظت تو ہو، لیکن علم کی تجدید، تحقیق اور عصری
مسائل سے مکالمے کا عمل کمزور پڑ جائے۔ شبلیؒ کے تصور میں علمی روایت کی حفاظت
اور علمی ارتقا ایک دوسرے کی ضد نہیں تھے۔ بلکہ روایت کی حقیقی حفاظت اسی وقت
ممکن ہے جب اس کے اصولوں اور علمی روح کو زندہ رکھا جائے اور اسے نئے حالات
میں کارآمد بنایا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کا تصورِ تعلیم اپنے زمانے سے آگے کی نگاہ رکھتا تھا۔ وہ صرف
اپنے عہد کے لیے علما تیار کرنا نہیں چاہتے تھے، بلکہ ایسے اہلِ علم کی تشکیل
چاہتے تھے جو آنے والے زمانوں میں بھی بدلتی ہوئی علمی دنیا کے ساتھ بامعنی
تعلق قائم رکھ سکیں۔
جدید علوم، سائنسی ترقی اور منہجِ تعلیم:
اگر شبلیؒ آج کے دور میں موجود ہوتے تو مصنوعی ذہانت، جدید سائنس، معاشیات،
قانون، ابلاغیات اور دیگر عصری علوم کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر ان کے عمومی
تصورِ تعلیم کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے۔ ان علوم کو محض اس وجہ سے غیر
ضروری قرار دینا کہ وہ روایتی دینی نصاب کا حصہ نہیں رہے، ان کے جامع تعلیمی
مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تاہم ان کے تصور کی بنیاد صرف نئے مضامین کو نصاب
میں شامل کرنا بھی نہ ہوتی، بلکہ ان کے حصول کے لیے ایسا علمی منہج اختیار
کرنا ہوتی جو تحقیق، تنقید، استدلال اور عملی افادیت کو یکجا کرسکے۔
https://sailerawan.com/rohani-utsav-delhi/
آج کے تناظر میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ طالب علم کو جدید سائنس کے بنیادی
تصورات، سائنسی تحقیق کے اصول، ٹیکنالوجی کے امکانات اور اس کے سماجی و اخلاقی
اثرات سے واقف کیا جائے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کو محض ایک تکنیکی مہارت کے طور
پر نہیں، بلکہ انسانی علم، اخلاق، معاشرت اور مستقبل کے سوالات سے متعلق ایک
اہم علمی موضوع کے طور پر بھی پڑھایا جائے۔ اس کے ساتھ دینی علوم کی تدریس میں
بھی ایسا تحقیقی اور تنقیدی منہج اختیار کیا جائے جو طالب علم کو نصوص کے فہم،
علمی روایت کے ادراک اور نئے مسائل کے تجزیے کی صلاحیت عطا کرے۔
یہاں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ جدید علوم کو دینی تعلیم کے مقابل کھڑا کرنے
کے بجائے ان کے درمیان علمی مکالمے کی راہیں کھولی جائیں۔ اسی طرح دینی علوم
کو محض تاریخی معلومات اور متعین متون کے مطالعے تک محدود رکھنے کے بجائے ان
کی فکری گہرائی، استدلالی قوت اور عملی معنویت کو نمایاں کیا جائے۔ شبلیؒ کے
تصور سے یہی اصول اخذ کیا جاسکتا ہے کہ نصاب کی اصلاح کا مقصد صرف معلومات میں
اضافہ نہیں، بلکہ طالب علم کی علمی شخصیت کی تعمیر ہونا چاہیے۔
تخصص اور جامع علمی بنیاد:
شبلیؒ کے تصورِ تعلیم کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر طالب علم کے لیے ایک
ہی علمی راستہ مقرر نہ کیا جائے۔ کسی بھی جامع تعلیمی نظام میں طلبہ کی
صلاحیتوں، علمی دلچسپیوں اور مستقبل کے رجحانات کا لحاظ ضروری ہے۔ اگر ہر طالب
علم کو لازماً ایک ہی درجے کی تخصصی دینی تعلیم کی طرف لے جایا جائے تو اس کے
نتیجے میں ان افراد کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ ممکن نہیں ہوگا جو دوسرے
علمی اور عملی میدانوں میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
اس کے برعکس ایک ایسا نظام زیادہ بامعنی ہوگا جس میں تمام طلبہ کو دینی علوم
کی بنیادی واقفیت، زبان و ادب، تاریخ، منطق، فکری و تنقیدی مہارتوں اور جدید
دنیا کے بنیادی علمی تصورات سے آراستہ کیا جائے، اور اس کے بعد ان کے ذوق اور
استعداد کے مطابق تخصص کے مختلف راستے کھولے جائیں۔ بعض طلبہ تفسیر، حدیث، فقہ
اور دیگر اسلامی علوم میں اعلیٰ تخصص حاصل کریں، بعض سائنس اور ٹیکنالوجی میں
آگے بڑھیں، بعض معاشیات، قانون اور سماجی علوم کو اختیار کریں، اور بعض صحافت،
ابلاغیات اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
اس طرح ایک ایسا علمی معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے جس میں دینی بصیرت صرف مدارس کے
اندر محدود نہ رہے، بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ایسے افراد موجود ہوں جو
اپنے اپنے میدان میں مہارت رکھتے ہوں اور اسلامی علمی و اخلاقی روایت سے بھی
بامعنی تعلق رکھتے ہوں۔
یہ بات بھی ضروری ہے کہ ہر شعبے میں دینی بصیرت رکھنے کا مطلب یہ نہ سمجھا
جائے کہ ہر شخص ہر علمی مسئلے میں مفتی یا متخصص بن جائے، بلکہ اس سے مراد یہ
ہے کہ وہ اپنے شعبے کی ذمہ داریوں کو دینی و اخلاقی شعور کے ساتھ سمجھنے اور
ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
شبلیؒ کی تعلیمی فکر کی بین الاقوامی معنویت:
شبلیؒ کے تعلیمی افکار کی وسعت اور ان کی اصلاحی فکر کی اہمیت کا ایک پہلو یہ
بھی ہے کہ ان کا اثر برصغیر کے تعلیمی مباحث تک محدود نہیں رہا۔ ان کے افکار
میں ایسی علمی وسعت اور اصلاحی معنویت موجود تھی کہ مصر میں بھی ان کے تصورِ
تعلیم کو توجہ کے قابل سمجھا گیا۔ علامہ رشید رضا کی جانب سے جامع ازہر کے
نصاب کی اصلاح کے لیے شبلیؒ کے نام کی تجویز اسی علمی اعتماد کی ایک قابلِ ذکر
مثال ہے۔
اس واقعے کی اہمیت محض اس میں نہیں کہ ایک دوسرے ملک کے علمی ادارے کے لیے ایک
ہندوستانی عالم کا نام پیش کیا گیا، بلکہ اس میں یہ حقیقت بھی مضمر ہے کہ
شبلیؒ کی تعلیمی فکر اپنے مقامی حالات سے آگے بڑھ کر عالمِ اسلام کے وسیع تر
علمی مسائل سے متعلق تھی۔ ان کا بنیادی سوال وہی تھا جو مختلف مسلم معاشروں کو
درپیش تھا: دینی روایت کی علمی قوت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید عہد کے تقاضوں
سے کس طرح ہم آہنگ ہوا جائے؟
یہ سوال آج بھی اپنی پوری اہمیت کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے۔ بلکہ موجودہ
زمانے میں علمی تخصص، ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی، عالمی ابلاغ اور فکری تنوع
نے اس سوال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ اس لیے شبلیؒ کی فکر سے استفادہ کرنے کا
مطلب ان کے زمانے کے کسی خاص نصاب کو بعینہٖ نافذ کرنا نہیں، بلکہ اس اصلاحی
بصیرت کو سمجھنا ہے جس کے تحت انہوں نے تعلیم کو ایک متحرک اور ارتقائی عمل کے
طور پر دیکھا۔
نصاب کی حفاظت یا علمی روایت کی تجدید؟:
شبلیؒ کے تصورِ تعلیم کا سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ آیا ان کا اصل مقصود کسی
مخصوص نصاب اور نظام کی حفاظت تھا، یا اس سے کہیں وسیع تر مقصد، یعنی ہر عہد
کے علمی و تہذیبی تقاضوں کے مطابق دینی تعلیم کو زندہ اور مؤثر رکھنا۔ ان کے
عمومی تعلیمی مزاج اور اصلاحی کوششوں کی روشنی میں دوسری تعبیر زیادہ قرینِ
فہم ہے۔
نصاب اپنی جگہ ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اسے تعلیم کا آخری مقصد نہیں سمجھا
جاسکتا۔ نصاب ایک تاریخی اور علمی ضرورت کے تحت مرتب ہوتا ہے، اور وقت کے ساتھ
اس میں نظرثانی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگر کسی نصاب کی حفاظت کے نام پر علمی
تحقیق، نئے سوالات، مفید علوم اور تدریسی اصلاح کے امکانات کو محدود کردیا
جائے تو ذریعہ مقصد کی جگہ لے لیتا ہے۔
اس کے برعکس اگر نصاب کو ایک ایسے وسیلے کے طور پر دیکھا جائے جو طالب علم کی
علمی اور فکری تشکیل میں مدد دیتا ہے تو اس میں تبدیلی اور اصلاح علمی روایت
سے انحراف نہیں، بلکہ اس کی معنوی بقا کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہاں ایک اہم امتیاز بھی ضروری ہے۔ ہر نئی چیز کو محض جدید ہونے کی وجہ سے
قبول کرنا درست نہیں، اور ہر قدیم چیز کو محض قدیم ہونے کی وجہ سے رد کرنا بھی
علمی رویہ نہیں۔ اصل معیار علمی افادیت، استدلال کی صحت، اخلاقی معنویت اور
انسانی زندگی کے مسائل سے اس کا تعلق ہونا چاہیے۔ شبلیؒ کی فکر سے استفادے کا
تقاضا یہی ہے کہ ہم روایت اور جدت دونوں کو تحقیق و تنقید کی روشنی میں
دیکھیں، نہ کہ انہیں دو متحارب گروہوں کی حیثیت سے پیش کریں۔
عصرِ حاضر کے علما اور دینی اداروں کی ذمہ داریاں:
اگر شبلیؒ کے تصورِ تعلیم کو آج کے حالات پر منطبق کیا جائے تو دینی اداروں کے
سامنے چند بنیادی ذمہ داریاں آتی ہیں۔
اول، انہیں تعلیم کے مقصد پر ازسرنو غور کرنا چاہیے۔ محض اسناد اور روایتی
عہدوں کے حصول کے بجائے ایسے افراد کی تیاری کو مرکزی اہمیت دینی چاہیے جو علم
کو سمجھنے، تحقیق کرنے، نئے مسائل کا تجزیہ کرنے اور اپنے معاشرے کی علمی و
اخلاقی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
دوم ، نصاب میں علوم کی جامعیت اور ان کے باہمی تعلق کو اہمیت دینی چاہیے۔
دینی علوم کی گہرائی برقرار رکھتے ہوئے زبانوں، تاریخ، فلسفے، سماجی علوم،
جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی مناسب تعلیم کا انتظام کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری
ہے کہ ان مضامین کو محض رسمی اضافے کے طور پر نہ پڑھایا جائے، بلکہ ان کی
تدریس میں بھی علمی معیار اور تخصص کا لحاظ رکھا جائے۔
سوم، طریقۂ تدریس کی اصلاح پر خصوصی توجہ دی جائے۔ علم صرف معلومات کو یاد
کرلینے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے فہم، استدلال، سوال اٹھانے، شواہد
کا جائزہ لینے، تحقیق کرنے اور علمی اختلاف کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔
اس لیے تدریس میں مطالعہ، مباحثہ، تحریر، تحقیق اور عملی مشق کو مناسب جگہ دی
جانی چاہیے۔
چہارم ، طلبہ کے لیے تخصص کے متنوع راستے فراہم کیے جائیں۔ تمام طلبہ کی
علمی استعداد اور مستقبل کے امکانات یکساں نہیں ہوتے۔ ایک جامع نظام وہی ہوگا
جو بنیادی تعلیم کے بعد ان کے رجحانات اور صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے
مختلف مواقع فراہم کرے، تاکہ دینی اور عصری دونوں میدانوں میں باصلاحیت افراد
تیار ہوسکیں۔
پنجم، دینی اداروں کو اپنے عہد کے فکری اور تہذیبی سوالات سے براہِ راست
مکالمہ کرنا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی تحقیق، معاشی نظام، ماحولیاتی
مسائل، قانونی مباحث اور ذرائع ابلاغ کے اثرات جیسے موضوعات سے واقفیت اب محض
اضافی علمی مشغلہ نہیں رہی۔ ان کے بارے میں سنجیدہ علمی مطالعہ اور متعلقہ
ماہرین کے ساتھ تعاون دینی اداروں کی علمی ذمہ داریوں میں شامل ہونا چاہیے۔
آخر میں، علما کو علمی روایت کے ساتھ اپنے تعلق کو محض تحفظ اور نقل تک محدود
نہیں رکھنا چاہیے۔ روایت کی حقیقی خدمت یہ ہے کہ اس کے علمی سرمایے کو سمجھا
جائے، اس کے مناہج سے استفادہ کیا جائے، اس کے اندر موجود علمی تنوع کو پہچانا
جائے اور اس کی روشنی میں نئے مسائل پر سنجیدہ غور و فکر کیا جائے۔
خلاصہ:
علامہ شبلی نعمانیؒ کے تصورِ تعلیم کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ تعلیم ایک جامع
انسانی اور علمی تشکیل کا نام ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف ماضی کی علمی میراث کو
محفوظ رکھنا ہے اور نہ ہی محض جدید علوم کی معلومات فراہم کرنا، بلکہ ایسے
اہلِ علم تیار کرنا ہے جو دینی بصیرت، علمی دیانت، فکری وسعت اور اپنے عہد کے
تقاضوں سے واقفیت کے ساتھ علم کی خدمت انجام دے سکیں۔
اگر شبلیؒ آج ہمارے درمیان ہوتے تو ان کے تصور کی روشنی میں یہ توقع کی جاسکتی
ہے کہ وہ کسی ایک مخصوص نصاب کو ہر زمانے کے لیے حتمی قرار دینے کے بجائے ایسے
تعلیمی نظام کی تشکیل پر توجہ دیتے جو علمی روایت سے وابستہ بھی ہو اور نئے
علمی امکانات کے لیے کھلا بھی۔ ان کے نزدیک تعلیم کی کامیابی کا معیار محض یہ
نہ ہوتا کہ کتنے طلبہ فارغ التحصیل ہوئے، بلکہ یہ بھی ہوتا کہ ان میں سے کتنے
افراد اپنے زمانے کے علمی مسائل کو سمجھنے، ان پر تحقیق کرنے اور اپنے علم کو
معاشرے کی تعمیر میں استعمال کرنے کے اہل بنے۔
اس اعتبار سے شبلیؒ کی فکر ہمارے لیے کسی ماضی پرستی کا عنوان نہیں، بلکہ ایک
زندہ اصلاحی منہج کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی تعلیمی بصیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم
دینی تعلیم کو ایک محدود اور جامد نظام کے بجائے ایک متحرک علمی روایت کے طور
پر دیکھیں، جو ہر دور میں اپنی اصل روح برقرار رکھتے ہوئے نئے سوالات کا سامنا
کرنے اور نئی علمی و تہذیبی صورتِ حال میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت
رکھتی ہو۔ یہی وہ اصول ہے جس کے ذریعے دینی تعلیم کو نہ صرف محفوظ رکھا جاسکتا
ہے، بلکہ اسے عصرِ حاضر اور مستقبل کے لیے بامعنی اور مؤثر بھی بنایا جاسکتا
ہے۔
Comments (0)
पोस्ट के लेखक
Isi Category Me Aur
Popular Posts

पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय
👁 41 views

नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान
👁 40 views

مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ میں قاضیان شرع کااجلاس اورفقہی ویب سائٹ کے قیام پر اہم فیصلے
👁 19 views
सहारनपुर और बाराबंकी के बाद अब इटावा - सैयद बाबा मजार पर चला बुलडोजर, वक्फ बोर्ड खामोश?
👁 15 views

भारी बारिश के चलते गोरखपुर में 26 सितंबर को कक्षा 1 से 12 तक के सभी स्कूल बंद
👁 15 views
