تازہ ترین
• جنتر منتر احتجاج کی منسوخی پر ملت میں مایوسی • ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کے شعری مجموعے ’’دل مضراب‘‘ کا اجرا • ترنمول کانگرس کی شکست کے اسباب! • غوث اعظم سید الاولیاء رضی اللہ عنہ:علم و عرفان کے تاجدار اور اصلاح امت کے عظیم پیشوا • جمعہ مسلمانوں کے لیے عید کیوں ہے؟ • حضرت غوث الاعظم کی زندگی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ: مفتی غلام حسین ثقافی • حضرت سیدنا قادر قمیص رحمتہ اللہ علیہ کا عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا • ہم اپنی نسلوں کے روشن مستقبل کی نئی تاریخ رقم کریں گے:مولانا غلام رسول بلیاوی • شعبہ خواتین جماعتِ اسلامی ہند، شہرعظیم تر حیدرآبادکے زیر اہتمام”سیرت حضرت محمد ﷺ — امن و انصاف کی علامت“ کے عنوان پر خصوصی نشست • Dyy gds gfx

جنتر منتر احتجاج کی منسوخی پر ملت میں مایوسی

پُرامن احتجاج کے دیگر راستے اختیار کرنے کی اپیل

مضامین 📅 27-09-2026 👁 3 views 💬 0 comments 🔁 0 shares
تحریر: ( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ملک و ملت کا باوقار ادارہ ہے ، اس پر ملت اسلامیہ کے ساتھ حکومت کا بھی بھروسہ اور اعتماد ہے ، اس لئے خراب وقت میں لوگوں کی نظر اس ادارے کی جانب ہوتی ہے ، موجودہ وقت میں بھی اس ادارہ کو ملت اسلامیہ کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا تعلق مسلم پرسنل لا یعنی مسلم عائلی قوانین سے ہے ، چونکہ عائلی قوانین کا تعلق تمام مسلم سماج سے ہے ، اس طرح اس کے تحفظ کی ذمہ داری تمام مسلمانوں اور تمام مسلم اداروں پر ہے ، اس لئے الگ سے اس کے لئے کوئی جماعت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور نہ موجودہ وقت میں اس کی ضرورت ہے، کیونکہ تمام مسلمان اور تمام مسلم ادارے اس کے ممبر ہیں ، یہی وجہ رہی کہ اس میں ہر مسلک اور ہر مکتب خیال کے لوگوں کو شامل کیا گیا اور ابتداء میں اس کی رعایت بھی دیکھنے میں آئی ، غالباً اس میں کسی سطح پر کمی آگئی کہ اس کی پوری رعایت نہ ہوئی اور مسلم سماج کے لوگ منتشر ہونے لگے اور الگ الگ مسلم پرسنل لا بورڈ کے نام سے تنظیم قائم کرلی اور بورڈ نے اس جانب توجہ نہ دی ، یہ بورڈ کے لئے لمحہ فکریہ ہے اور اس کی ضرورت ہے کہ تمام ملی اور مضبوط سماجی تنظیموں کو جوڑا جائے ، تاکہ بورڈ کی طاقت مضبوط ہو ، کیونکہ اس کے ممبران ان ہی تنظیموں سے منسلک لوگ ہیں ، پھر بھی موجودہ وقت میں یہ ادارہ غنیمت ہے اور ملت کی بڑی اکثریت کا اس پر اعتماد ہے۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ، یہاں آئین کی حکومت ہے ، یہاں آئین کو بالادستی حاصل ہے ، ملک میں عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے کورٹ اور سپریم کورٹ ہے ، ملک کے آئین میں بالخصوص اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا ذکر ہے ، جس میں انہیں مذہبی ، لسانی اور ثقافتی آزادی کے حقوق دیئے گئے ہیں ، پھر میں ملک میں مسلم اقلیتی طبقہ کے لوگ پریشان ہیں ، غیر قانونی کہہ کر مساجد پر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں ، مدارس بند کئے جارہے ہیں ، ماب لنچنگ کی جارہی ہے ، اوقاف کے خلاف قانون بنادیئے گئے ہیں ، یو سی سی یعنی یونیفارم سول کوڈ کے ذریعے مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی جارہی ہے، ان کی مادری زبان کو محدود کرنے کی سازش کی جارہی ہے ، ایسے حالات میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دہلی کے جنتر منتر پر۱۷؍ستمبر۲۰۲۶ء کو پر امن، ملک کے آئین اور ملکی قوانین کے دائرے میں رہ کر احتجاج کا اعلان کیا ، یہ قابل ستائش عمل تھا ،پھر بھی خبر کے مطابق دہلی پولس نے اجازت کے بعد اجازت کو رد کردیا ،جس کی وجہ سےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے احتجاجی پروگرام نہیں کیا گیا، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ دہلی پہنچ چکے تھے ، جس کی وجہ سے ملت میں مایوسی ہے اور کچھ لوگوں میں بیزاری بھی ہے ، حالانکہ ملک کے حالات سے ہم سبھی واقف ہیں ، پروگرام کی منسوخی کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
جہاں تک مسلم پرسنل لا یعنی مسلم عائلی قوانین کی بات ہے تو بہت سے مسائل ایسے ہیں ،جن میں حکومت نے مداخلت کی ہے ، ان میں سے بابری مسجد کی شہادت ، تین طلاق کا معاملہ ، اوقاف ترمیمی بل ، مساجد کی شہادت ، مدارس کے خلاف قوانین وغیرہ قابل ذکر ہیں ، اب تو بہت سے اسٹیٹ میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کا اعلان کیا جاچکاہے ، یہی نہیں ، بلکہ ماب لنچنگ ، کھلی جگہ میں عبادت ، شعائر اسلام پر حملے وغیرہ عام ہیں ، گرچہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا دائرہ عائلی قوانین تک محدود ہے ، پھر بھی وقت اور حالات کی وجہ سے بورڈ دیگر مسلم مسائل پر بھی غور و فکر کرنے پر مجبور ہے ، عائلی مسائل پر حکومت کی جانب سے مداخلت اور مسلم سماج کے لوگوں پر غلط عناصر کے ذریعہ حملے اور حکومت کی خاموشی پر احتجاج درج کرانا موجودہ وقت کا تقاضہ ہے۔
جمہوری ملک میں آئین کے خلاف حکومت کام کرتی ہے تو متاثرین کو اس کے خلاف آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن احتجاج کا حق ہے ، ملک کا آئین اس کی اجازت دیتا ہے ، ملک کا آئین قانونی چارہ جوئی کا بھی حق دیتا ہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک میں جس طرح کے حالات ہیں ، مسئلہ صرف احتجاج کا نہیں ہے ، بلکہ اس کے ساتھ بہت سے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں ، یہی وجہ ہے ملک کے علماء اور دانشوران نے موجودہ وقت میں کھلی جگہ میں احتجاج سے بچنے کا اعلان کیا ہے ، مگر محفوظ مقامات پر آئین اور قوانین کے دائرے میں رہ کر احتجاج کیا جاسکتا ہے ۔ آج کل فاسٹ میڈیا کا دور ہے ، محفوظ مقامات کے احتجاج کی آواز بھی بڑی تیزی سے پھیلتی ہے ، اس لئے جنتر منتر پر پر امن احتجاج کے لئے کاروائی جاری رکھتے ہوئے محفوظ مقامات میں احتجاج کا پروگرام طے کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ احتجاج درج کرانے کی بہت سی شکلیں ہیں ، فوری طور پر ان کا استعمال کرنا چاہئے ، خود مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک مرتبہ رات میں متعین وقت پر لائٹ بند کر کے احتجاج کا اعلان کیا تھا ، جو بہت کامیاب رہا ، اس طرح یا اس کے متبادل کا پروگرام بنایا جاسکتا ہے ۔
بہر حال ظلم کے خلاف خاموشی سے ظالم کا حوصلہ بلند ہوتا ہے ، اس لئے ظلم کے خلاف ملک کے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر پُرامن آواز بلند کرنا اور قانونی چارہ جوئی کرنا یا حکمت عملی طے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ، موجودہ خراب حالات میں ملی قیادت کو مضبوط کرنا ملت اسلامیہ کا فریضہ ہے ، اللہ تعالیٰ ہماری ملی قیادت کو مضبوطی دے اور ہم سبھی کو ملی قیادت کو مضبوط کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، جزاکم اللہ خیراً

Reaction dein (0)

Share karein (0)

WhatsApp Facebook X

Comments (0)

पोस्ट के लेखक

✍️ Active Reporter ★★★★★
M

Mohd Shuaib Raza

📍 Gorakhpur

📰 10 posts 👁 45 views 📊 4.5 avg/post

News Home ke reporter

Popular Posts

पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय

👁 40 views

नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान

👁 40 views

भारी बारिश के चलते गोरखपुर में 26 सितंबर को कक्षा 1 से 12 तक के सभी स्कूल बंद

👁 15 views

सहारनपुर और बाराबंकी के बाद अब इटावा - सैयद बाबा मजार पर चला बुलडोजर, वक्फ बोर्ड खामोश?

👁 14 views

नगर पंचायत इटवा बनी ‘नरक पंचायत’! राजपूत डीहवा रोड पर जलजमाव से ग्रामीण परेशान

👁 14 views