غوث اعظم سید الاولیاء رضی اللہ عنہ:علم و عرفان کے تاجدار اور اصلاح امت کے عظیم پیشوا
اللہ رب العزت نے انسان کواشرف المخلوقات بنایاہے انسان کوطرح طرح کی نعمتیں عطاکی ہیں جن کاانسان شماربھی نہیں کرسکتاانسانوں اورجنوں کومحض اللہ پاک کی عبادت کے لئے پیداکیاگیاہے تاریخ اسلام کے افق پرنگاہ دوڑائی جائے تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت کے لئے انبیاء کرام کومبعوث فرمایاان انبیاء کرام نے اپنے اپنے ادوارمیں مخلوق کی ہدایت کافریضہ بخوبی انجام دیتے رہےحضور مصطفی کریمﷺخاتم النبین ہیں آپﷺکے بعدنبوت کاسلسلہ ختم ہوگیااس لئے آقاﷺکے بعدامت کی ہدایت اوررہبری کے لیے علماء،اولیاء بھیجے گئے جن کاسلسلہ قیامت تک جاری وساری رہیگا۔
اللہ پاک کے وہ مقبول بندے جواس کی ذات وصفات کے عارف ہوں اس کی اطاعت وعبادت کے پابندرہیں گناہوں سے بچیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے انہیں اپناقرب خاص عطافرمائے ان کواولیاء اللہ کہتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ ولی وہ ہے جس کو دیکھنے سے اللہ تعالی یاد آئے، یہی طبری کی حدیث میں بھی ہے۔
ایسے خوش نصیب انسانوں کونہ کسی قسم کاخوف اورنہ کسی قسم کاغم ہوتاہے۔اللہ پاک کے مقبول بندوں سے عجیب وغریب کرامتیں ظاہرہوتی ہیں مثلاپانی پرچلنا،بلائیں دفع کرنا،دوردرازکے حالات ان پرمنکشف ہونا،جمادات وحیوانات سے کلام کرناوغیرہ ،اللہ پاک کے مقبول بندوں کی کرامتیں درحقیقت ان انبیاء کے معجزات ہیں جن کے وہ امتی ہیں۔اللہ پاک کے ایسے مقبول بندوں کونہ دنیااورنہ آخرت میں کسی قسم کاخوف اورغم ہے ۔
ارشادباری تعالیٰ ہے ۔"سن لوبے شک اللہ کے ولیوں پرنہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم وہ جوایمان لائے اورپرہیزگاری کرتے ہیں انہیں خوشخبری ہے دنیاکی زندگی میں اورآخرت میں اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے "(پارہ ۱۱سورۃ یونس آیت ۶۲تا۶۴)
ولی، اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کوکہتے ہیں۔جن کونہ دنیامیں اورنہ آخرت میں کسی قسم کاخوف اورغم ہے۔ مالک الملک کی محبت اطاعت اورخشیت نے انہیں ہرقسم کے خوف اورغم سے آزادکردیاہے اوروہ مرتبہ ولایت پرفائزہوگئے یعنی اولیاء اللہ بن گئے۔ اولیاء کرام کی محبت درحقیقت دارین کی سعادت اور رضائے الہی کاسبب ہے ۔ان کی برکت سے اللہ تعالی مخلوق کی حاجتیں پوری کرتاہے ان کی دعاؤں سے خلق فائدہ اٹھاتی ہے ۔
حضرت علی المرتضی شیرخدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے دوجہاں سرورکون مکان ﷺسے سنا آپﷺ فرماتے ہیں کہ شام میں ابدال ہوں گے جن کی تعدادچالیس ہوگی جب ان سے ایک فوت ہوجائیگاتواللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرامقررفرمادے گاان کے وسیلہ سے بارش ہوگی اورانہی کے طفیل دشمنوں پرفتح حاصل ہوگی اورانہی کی برکت سے اہل شام سے عذاب دورکیاجائیگا۔(مشکوٰۃ شریف)
اہل لغت نے ولی کے چند معانی بیان فرمائے ہیں۔ ولی کے معنی وارث،قریبی اورمددگارکے ہیں ولیوں کے جماعت وہ مقدس جماعت ہے جنہیں اللہ رب العزت نے دنیاوآخرت کی نعمتوں کاوارث بنادیاہے ولیوں کویہ مرتبہ اورمقام صرف اورصرف نبی کریمﷺکی غلامی ،محبت اطاعت کرنے کی وجہ سے ملاہے ۔ شاعرمشرق علامہ اقبال نے کیاخوب کہا۔
کی محمدسے وفاتونے توہم تیرے ہیں۔
یہ جہاں چیزہے کیالوح وقلم تیرے ہیں
ارشادباری تعالیٰ ہے "بے شک ہم نے زبورمیں نصیحت کے بعدلکھ دیاکہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔(سورۃ الانبیاء پارہ ۱۷) اس زمین کی ملکیت اللہ پاک نے اپنے نیک بندوں کودے دی ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے "یہی وہ جنت ہے جس کاوارث اپنے نیک بندوں میں اسے کریں گے جومتقی ہے"(سورۃ مریم پارہ ۱۶)مزیدارشادہوتاہے "ہم تمہارے دوست ہیں دنیاوآخرت میں اور تمہارے لئے اس (جنت) میں ہے جوتمہاراجی چاہے اورتمہارے لئے اس میں جوتم مانگو۔
ولی کادوسرامعنی مددگارکے ہیں یعنی مخلوق خداکی امدادکرنیوالے ۔ارشادباری تعالیٰ ہے ۔"اورایک دوسرے کی نیکی اورتقویٰ پرامدادکرو"
ولی کاایک اور معنی قریبی کے ہیں ۔یعنی اولیاء اللہ کی جماعت وہ مقدس جماعت ہے جن کواللہ رب العزت کاقرب اورنزدیکی حاصل ہوتی ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا"اللہ تعالیٰ فرماتاہے جومیرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس سے اعلان جنگ کرتاہوں اورمیرابندہ ایسی کسی چیزکے ذریعے میراقرب نہیں پاتاجومجھے فرائض سے زیادہ محبوب ہواورمیرابندہ نفلی عبادات کے ذریعے برابرمیراقرب حاصل کرتارہتاہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتاہوں اورجب میں اس سے محبت کرتاہوں تومیں اس کے کان بن جاتاہوں جس سے وہ سنتاہے اوراسکی آنکھ بن جاتاہوں جس سے وہ دیکھتاہے اوراس کاہاتھ بن جاتاہوں جس سے وہ پکڑتاہے اوراس کاپاؤں بن جاتاہوں جس سے وہ چلتاہے اگرمجھ سے وہ سوال کرتاہے تومیں اسے ضرورعطاکرتاہوں ۔اگروہ میری پناہ مانگتاہے تومیں ضروراسے پناہ دیتاہوں میں نے جوکام کرناہوتاہے اس میں کبھی اس طرح مترودنہیں ہوتاجیسے بندہ مومن کی جان لینے میں ہوتاہوں ۔اسے موت پسندنہیں اورمجھے اس کی تکلیف پسندنہیں۔(مسلم شریف)
اولیاء کرام کی کثیر اقسام ہیں جیساکہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،بے شک انبیاءِ کرام علیہم السلام زمین کے اوتاد تھے ، جب نبوت کا سلسلہ ختم ہوا تو اللہ تعالی نے امت احمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک قوم کو ان کا نائب بنایا جنہیں ابدال کہتے ہیں ، وہ حضرات (فقط) روزہ و نماز اور تسبیح وتقدیس میں کثرت کی وجہ سے لوگوں سے افضل نہیں ہوئے بلکہ اپنے حسن اخلاق، ورع و تقویٰ کی سچائی، نیت کی اچھائی، تمام مسلمانوں سے اپنے سینے کی سلامتی، اللہ کی رضا کے لیے حلم ، صبر اور دانشمندی ، بغیر کمزوری کے عاجزی اور تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کی وجہ سے افضل ہو ئے ہیں۔ پس وہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے نائب ہیں۔ وہ ایسی قوم ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی ذات پاک کے لئے منتخب اور اپنے علم اور رضا کے لئے خاص کر لیا ہے ۔ وہ 40 صدیق ہیں ، جن میں سے 30 رحمٰن کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یقین کی مثل ہیں۔ ان کے ذریعے سے اہل زمین سے بلائیں اور لوگوں سے مصیبتیں دور ہوتی ہیں ، ان کے ذریعے سے ہی بارش ہوتی اور رزق دیا جاتا ہے، ان میں سے کوئی اسی وقت فوت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس کی جانشینی کیلئے کسی کو پروانہ دے چکا ہوتا ہے۔ وہ کسی پر لعنت نہیں بھیجتے، اپنے ماتحتوں کو اذیت نہیں دیتے ، ان پر دست درازی نہیں کرتے ،اُنہیں حقیر نہیں جانتے ، خود پر فوقیت رکھنے والوں سے حسد نہیں کرتے ، دنیا کی حرص نہیں کرتے ، دکھاوے کی خاموشی اختیار نہیں کرتے ، تکبرنہیں کرتے اور دکھاوے کی عاجزی بھی نہیں کرتے ۔ وہ بات کرنے میں تمام لوگوں سے اچھے اور نفس کے اعتبار سے زیادہ پرہیزگار ہیں ، سخاوت ان کی فطرت میں شامل ہے، اسلاف نے جن (نامناسب ) چیزوں کو چھوڑا ان سے محفوظ رہنا ان کی صفت ہے ، ان کی یہ صفت جدا نہیں ہوتی کہ آج خشیت کی حالت میں ہوں اور کل غفلت میں پڑے ہوں بلکہ وہ اپنے حال پر ہمیشگی اختیا ر کرتے ہیں ، وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان ایک خاص تعلق رکھتے ہیں ، جہاں تک دوسرے کسی کی رسائی نہیں۔ اُن کے دل اللہ کی رضا اور شوق میں آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں ،(پھر یہ آیت تِلاوت فرمائی)’’ترجمہ:یہ اللہ کی جماعت ہے، سن لو! اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہے۔ (نوادر الاصول، الاصل الحادی والخمسون، ۱ / ۲۰۹، الحدیث: ۳۰۱)
سلطان الاولیاء حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ انہی نابغۂ روزگار اور عظیم المرتبت اولیائے کرام میں سے ہیں جن کی شخصیت علم، عمل، زہد، تقوی، معرفت، روحانیت، اخلاق، دعوت و ارشاد اور اصلاح امت کے بے شمار اوصاف کا حسین مرقع ہے۔
آپ کو امت مسلمہ میں غوث اعظم، پیران پیر، محبوب سبحانی، محی الدین، قطب ربانی اور سید الاولیاء جیسے عظیم القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ اولیائے کرام کے درمیان ایک بلند مقام رکھنے والی وہ شخصیت ہیں جن کی نسبت سے سلسلۂ قادریہ عالم اسلام کے مختلف خطوں میں پھیلا اور جس کے روحانی اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
معتبر تاریخی مصادر میں بھی آپ کو عظیم عالم، زاہد، شیخ اور بغداد کے معروف دینی پیشوا کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آپ نے بغداد میں علم حاصل کیا، حدیث سنی، فقہ میں مہارت پیدا کی، تدریس و افتا کا منصب سنبھالا اور وعظ و ارشاد کے ذریعے لوگوں کی اصلاح فرمائی۔ 561 ہجری میں بغداد ہی میں آپ کا وصال ہوا۔
غوث اعظم: سید الاولیاء
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ سید الاولیاء یعنی اولیائے کرام کا سردار اور پیشوا ہیں۔ آپ کی روحانی عظمت کے بارے میں اہل تصوف کے ہاں غیر معمولی عقیدت پائی جاتی ہے۔
مشہور شعر ہے:
غوث اعظم درمیان اولیاء
چوں محمد درمیان انبیاء
یعنی جس طرح سیدنا محمد مصطفے جان رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انبیائے کرام کے درمیان ممتاز مقام رکھتے ہیں، اسی طرح حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ اولیائے کرام کے درمیان بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی عظمت کا اصل میدان ان کا علم، تقوی، عبادت، اصلاح نفس، دعوت و ارشاد اور شریعت کی پابندی ہے۔ بعد کے اہل علم نے بھی آپ کی علمی و روحانی شخصیت کا اعتراف کیا ہے۔
نسب پاک اور ولادت
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی نسبت حسنی و حسینی دونوں جانب بیان کی گئی ہے، جس بنا پر آپ کو نجیب الطرفین بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی ولادت470 یا 471 ہجری جیلان میں ہوئی۔
آپ کے والد ماجد حضرت ابو صالح موسی جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ اور والدہ ماجدہ حضرت ام الخیر فاطمہ رحمہا اللہ تعالی دونوں اپنے وقت کے ولی کامل تھے۔
مادرزاد ولی ہونے کی روایت:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی ولادت اور بچپن سے متعلق مناقب کی کتابوں میں متعدد غیر معمولی واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور واقعہ یہ ہے کہ آپ نے رمضان المبارک میں شیرخوارگی کے زمانے میں دن کے وقت اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ نہیں پیا۔
اہل مناقب نے اس واقعہ کو آپ کی ابتدائی روحانی خصوصیت اور ولایت کی علامت کے طور پر بیان کیا ہےکہ آپ مادرزاد ولی تھے۔
اسی طرح آپ کے بچپن کے بارے میں ایک روایت نقل کی جاتی ہے کہ آپ نے کم عمری میں فرشتوں کو اپنے ساتھ چلتے دیکھا اور انہیں دوسرے بچوں سے یہ کہتے سنا کہ "ولی اللہ کے لیے جگہ دو۔"
ایک اور روایت کے مطابق بچپن میں ایک اجنبی شخص نے آپ کے بارے میں سوال کیا تو فرشتے نے اسے آپ کے ولی اللہ ہونے اور مستقبل میں بلند مقام حاصل کرنے کی خبر دی۔ بعد میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ چالیس برس کی عمر میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ شخص اپنے وقت کا ابدال تھا۔
بغداد کی طرف سفر اور علمی زندگی
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے نوجوانی میں بغداد کا رخ کیا۔ بغداد اس زمانے میں علم و دانش کا عظیم مرکز تھا۔ یہاں آپ نے اکابر اہل علم سے استفادہ کیا، فقہ و حدیث حاصل کی، ادب پڑھا اور علمی میدان میں نمایاں مقام پیدا کیا۔
معتبر سوانحی ماخذوں میں آپ کے بغداد پہنچنے، علوم دینیہ میں مہارت حاصل کرنے، وعظ میں شہرت پانے اور بعد میں تدریس و افتا کی ذمہ داری سنبھالنے کا ذکر ملتا ہے۔
آپ کی علمی زندگی کا یہی پہلو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آپ کی روحانیت محض جذبات یا کرامات کا نام نہیں تھی بلکہ علم شریعت کی مضبوط بنیاد پر قائم تھی۔
علم و فضل کا آفتاب
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ علم ظاہر و باطن کے جامع عالم تھے۔ آپ کی مجلس میں فقہ، حدیث، تفسیر، اخلاق اور تزکیۂ نفس کے موضوعات پر گفتگو ہوتی۔
ایک مشہور روایت ہے کہ ایک مرتبہ مجلس میں قرآن کریم کی ایک آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ نے اس کی متعدد تفسیری وجوہ بیان فرمائیں۔ روایت میں یہاں تک آتا ہے کہ آپ نے ایک ہی آیت کے چالیس مختلف معانی و تفسیری پہلو بیان فرمائے اور ہر پہلو کو دلیل و وضاحت کے ساتھ سمجھایا۔
یہ روایت آپ کے وسیع علمی ذوق اور مجلس درس کی علمی شان کو نمایاں کرتی ہے۔
آپ کی علمی تصانیف میں غنیۃ الطالبین، طریق الحق، الفتح الربانی اور فتوح الغیب خاص طور پر معروف ہیں۔
شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آپ نے شریعت اور طریقت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا۔
آپ کی تعلیمات میں نماز، روزہ، حلال و حرام، توبہ، ذکر، اخلاص، تقویٰ، صبر، توکل اور حقوق العباد پر مسلسل زور ملتا ہے۔
آپ کا پیغام یہ تھا کہ انسان اگر روحانی ترقی چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے ظاہر کو شریعت کے مطابق اور اپنے باطن کو اخلاص و تقوی کے مطابق بنانا ہوگا۔
اسی لیے آپ کی زندگی علم و عرفان، شریعت و طریقت اور عبادت و خدمت کا حسین امتزاج بن گئی۔
ریاضت و عبادت
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی زندگی ریاضت و مجاہدہ سے عبارت تھی۔ آپ دنیا کی ظاہری آسائشوں سے بے نیاز رہ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکر اور بندگان خدا کی اصلاح میں مصروف رہتے۔
آپ کے مناقب میں طویل عبادات، مجاہدات، شب بیداری، ذکر و فکر اور نفس کی مخالفت کے متعدد واقعات مذکور ہیں۔
آپ کی زندگی کا بنیادی سبق یہ تھا کہ روحانیت کا راستہ خواہشات نفس کی پیروی سے نہیں بلکہ نفس کی اصلاح اور اللہ تعالی کی اطاعت سے کھلتا ہے۔
حلیہ اور شخصیت
مناقب کی روایات میں آپ کے حلیۂ مبارک کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ میانہ قد، نحیف البدن، کشادہ سینہ، گندمی رنگ، بڑی اور گھنی داڑھی اور بلند آواز کے مالک تھے۔
لیکن آپ کا حقیقی جمال صرف ظاہری حلیے میں نہیں بلکہ علم، عمل، تقوی، وقار، تواضع اور حسن اخلاق میں نمایاں تھا۔
اخلاق کریمہ:
حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کا اخلاق آپ کی شخصیت کا نہایت روشن باب ہے۔
آپ کمزوروں کے ساتھ بیٹھتے، فقیروں کے ساتھ عاجزی سے پیش آتے، بڑوں کا احترام کرتے اور چھوٹوں پر شفقت فرماتے۔ سلام کرنے میں پہل کرتے اور مہمانوں و طلبہ کے ساتھ انتہائی محبت و کشادہ روئی سے پیش آتے۔
روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کے سامنے جھوٹی قسم کھاتا تو آپ اس کے باطن کا حال جاننے کے باوجود اس کے ساتھ سختی نہ فرماتے اور اپنے کشف کو اس پر ظاہر نہ کرتے۔
یہی وہ اخلاق تھا جس نے لوگوں کے دلوں کو آپ سے جوڑ دیا۔
مریدوں پر شفقت
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی اپنے مریدوں اور محبین پر بے مثال شفقت کے واقعات کتب مناقب میں کثرت سے ملتے ہیں۔
ایک مشہور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ قیامت تک اپنے مریدوں کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ وہ توبہ کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوں۔
آپ سے پوچھا گیا کہ جو شخص آپ کے ہاتھ پر بیعت نہ ہو لیکن آپ سے محبت اور عقیدت رکھتا ہو اور اپنے آپ کو آپ کی طرف منسوب کرتا ہو، کیا وہ بھی آپ کے متعلقین میں شمار ہوگا؟
روایت کے مطابق آپ نے اس کے لیے بھی رحمت الہی اور قبولیت کی امید ظاہر فرمائی۔
یہ روایات آپ کے ہاں محبت، ارادت، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے تصور کو نمایاں کرتی ہیں۔
غوث اعظم کی کرامات:
اولیائے کرام کی زندگیوں کے تذکروں میں کرامات کا ایک مستقل باب ہے اور حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے مناقب میں بھی بے شمار کرامات بیان ہوئی ہیں۔
آپ کے متعلق نقل کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر غیر معمولی امور ظاہر فرمائے اور بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں آپ کی صحبت اور وعظ کے ذریعے انقلاب آیا۔تاہم آپ کی عظمت صرف کرامات کی کثرت سے نہیں بلکہ اس حقیقت سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آپ نے لوگوں کو نماز، توبہ، تقویٰ، حلال روزی، حقوق العباد اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف بلایا۔
عداوتِ غوث کا انجام
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ایک واقعہ بزاز ابو الفضل کا بھی بیان کیا جاتا ہے۔
روایت ہے کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے خادم نے ایک بزاز سے قیمتی کپڑا طلب کیا۔ بزاز کے دل میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک اعتراض پیدا ہوا۔ اسی دوران اس کے پاؤں میں ایک کیل چبھ گئی اور شدید تکلیف پیدا ہوگئی۔
آخرکار اسے حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لایا گیا۔ روایت کے مطابق آپ نے اس کے دل کا حال بیان کیا اور اپنا دست مبارک اس کے پاؤں پر رکھا تو اس کی تکلیف دور ہوگئی۔
اس واقعے کو اہل مناقب نے حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی کرامت اور ان کے مقام کی عظمت کے طور پر بیان کیا ہے۔
اس سے عقیدت مندوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ اولیائے کرام کی بے ادبی سے بچنا اور اہل اللہ کا ادب کرنا چاہیے۔
حضرت غوث اعظم کی مجلسِ وعظ:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی مجلس وعظ بغداد میں اصلاح و تربیت کا عظیم مرکز بن گئی تھی۔
مناقب میں آتا ہے کہ آپ کی مجلس میں بڑی تعداد میں لوگ قلم و دوات لے کر بیٹھتے اور آپ کے ارشادات قلم بند کرتے۔
ایک روایت میں ہے کہ ابتدائی زمانے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خواب میں آپ کو وعظ کرنے کا حکم دیا اور آپ کے لیے ابواب سخن کھولے۔
آپ کا وعظ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ دلوں کی دنیا بدل دینے والی دعوت تھا۔
مجلس وعظ میں اولیاء، ملائکہ اور جنات کی حاضری:
مناقب کی روایات میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی مجلس وعظ کے بارے میں نہایت حیرت انگیز واقعات نقل ہوئے ہیں۔
ایک روایت کے مطابق جب آپ منبر پر تشریف فرما ہوتے اور "الحمد للہ" کہتے تو اولیاء اللہ اور فرشتے آپ کی مجلس کی طرف متوجہ ہوتے۔
ایک دوسرے واقعے میں ایک شخص نے جنات کو حاضر کرنے کے لیے اپنی مخصوص عزیمت پڑھی مگر جنات حاضر نہ ہوئے۔ بعد میں جب کچھ جنات آئے تو انہوں نے بتایا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ وعظ فرما رہے تھے اور ہم سب ان کی مجلس میں حاضر تھے۔
مناقب میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ بہت سے جنات آپ کی صحبت میں مسلمان ہوئے اور توبہ و استغفار میں مشغول ہوئے۔
وعظ کا اثر:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے وعظ کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ لوگ اپنے گناہوں پر نادم ہوتے، توبہ کرتے اور زندگی بدلنے کا عزم کرتے۔ آپ کی مجالس سے متعدد لوگ تائب ہوئے، یہودیوں اور عیسائیوں میں سے بھی لوگوں نے اسلام قبول کیا اور بڑی تعداد میں بدکار، ڈاکو اور گناہ گار آپ کی صحبت سے متاثر ہوکر تائب ہوئے۔
مشہور روایات میں پانچ ہزار سے زائد غیر مسلموں کے اسلام قبول کرنے اور ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے توبہ کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔
اگرچہ ان اعداد کو تاریخی تحقیق میں احتیاط کے ساتھ بیان کرنا چاہیے، لیکن اس سے اس حقیقت کی طرف ضرور اشارہ ملتا ہے کہ آپ کی دعوت نے اپنے زمانے کے معاشرے پر گہرا اصلاحی اثر ڈالا۔
غوث اعظم کا روحانی فیض:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی نسبت سے قائم ہونے والا سلسلۂ قادریہ بعد کے زمانوں میں عالم اسلام کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا۔ آپ کو اس سلسلے کا بنیادی روحانی پیشوا سمجھا جاتا ہے۔
برصغیر میں بھی سلسلۂ قادریہ نے دینی، روحانی اور اخلاقی زندگی پر نمایاں اثر ڈالا اور آج تک حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے عقیدت رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
غوث اعظم اور اعلیٰ حضرت:
اہل سنت کے عظیم امام، امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہے۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر مشہور ہے:
غوث اعظم امام التقی والنقی
جلوۂ شان قدرت پہ لاکھوں سلام
یہ شعر حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے تقویٰ، طہارت اور روحانی عظمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
تعلیم یافتہ عالم سے روحانی پیشوا تک:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ آپ نے علم کو عمل سے اور عمل کو اصلاح سے جوڑا۔
آپ نے صرف کتابیں نہیں پڑھیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں کو کتاب و سنت کی روشنی میں سنوارنے کی کوشش کی۔
آپ کے یہاں علم مقصد نہیں بلکہ ہدایت کا ذریعہ تھاعبادت محض رسم نہیں بلکہ قرب الٰہی کا وسیلہ تھی اور تصوف دنیا سے فرار نہیں بلکہ نفس کی اصلاح اور مخلوق کی خیر خواہی کا نام تھا۔
وصال مبارک
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے 561 ہجری میں بغداد میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزار اقدس بغداد میں واقع ہے اور صدیوں سے عقیدت مندوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی آپ کا علمی و روحانی فیض مختلف صورتوں میں جاری رہا۔ آپ کی تصانیف، مواعظ اور تعلیمات آج بھی پڑھی جاتی ہیں اور آپ سے منسوب سلسلۂ قادریہ دنیا کے مختلف خطوں میں موجود ہے۔
آج کے دور میں غوث اعظم کا پیغام:
آج کا انسان مادی ترقی کے باوجود روحانی بے چینی، اخلاقی کمزوری، باہمی نفرت اور مقصد زندگی سے دوری کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمارے لیے ایک روشن پیغام رکھتی ہے۔
آپ کی حیات ہمیں بتاتی ہے:علم ہو تو عمل کے ساتھ،عبادت ہو تو اخلاص کے ساتھ،روحانیت ہو تو شریعت کے ساتھ،دولت ہو تو سخاوت کے ساتھ،اقتدار ہو تو عدل کے ساتھ،اور انسانیت ہو تو محبت و خدمت کے ساتھ۔حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا یہی جامع پہلو انہیں سید الاولیاء، غوث اعظم اور علم و عرفان کے عظیم پیشوا کے طور پر اہل محبت کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔
ان کی زندگی کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا راستہ شریعت سے جدا نہیں، ولایت کا حسن تقویٰ میں ہے، علم کی تکمیل عمل سے ہوتی ہے اور روحانیت کی حقیقی منزل انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور مخلوق خدا کی خیر خواہی تک پہنچاتی ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے سچی محبت، ان کے ادب، ان کی تعلیمات سے استفادہ اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ان کے فیوض و برکات سے ہمارے قلوب کو منور فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
تحریر: مفتی غلام رسول اسماعیلی
مرکزی ادارہ شرعیہ، پٹنہ، بہار
ملک العلماء قدیمی جامع مسجد محمد پورشاہ گنج
9572161137
اللہ پاک کے وہ مقبول بندے جواس کی ذات وصفات کے عارف ہوں اس کی اطاعت وعبادت کے پابندرہیں گناہوں سے بچیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے انہیں اپناقرب خاص عطافرمائے ان کواولیاء اللہ کہتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ ولی وہ ہے جس کو دیکھنے سے اللہ تعالی یاد آئے، یہی طبری کی حدیث میں بھی ہے۔
ایسے خوش نصیب انسانوں کونہ کسی قسم کاخوف اورنہ کسی قسم کاغم ہوتاہے۔اللہ پاک کے مقبول بندوں سے عجیب وغریب کرامتیں ظاہرہوتی ہیں مثلاپانی پرچلنا،بلائیں دفع کرنا،دوردرازکے حالات ان پرمنکشف ہونا،جمادات وحیوانات سے کلام کرناوغیرہ ،اللہ پاک کے مقبول بندوں کی کرامتیں درحقیقت ان انبیاء کے معجزات ہیں جن کے وہ امتی ہیں۔اللہ پاک کے ایسے مقبول بندوں کونہ دنیااورنہ آخرت میں کسی قسم کاخوف اورغم ہے ۔
ارشادباری تعالیٰ ہے ۔"سن لوبے شک اللہ کے ولیوں پرنہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم وہ جوایمان لائے اورپرہیزگاری کرتے ہیں انہیں خوشخبری ہے دنیاکی زندگی میں اورآخرت میں اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے "(پارہ ۱۱سورۃ یونس آیت ۶۲تا۶۴)
ولی، اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کوکہتے ہیں۔جن کونہ دنیامیں اورنہ آخرت میں کسی قسم کاخوف اورغم ہے۔ مالک الملک کی محبت اطاعت اورخشیت نے انہیں ہرقسم کے خوف اورغم سے آزادکردیاہے اوروہ مرتبہ ولایت پرفائزہوگئے یعنی اولیاء اللہ بن گئے۔ اولیاء کرام کی محبت درحقیقت دارین کی سعادت اور رضائے الہی کاسبب ہے ۔ان کی برکت سے اللہ تعالی مخلوق کی حاجتیں پوری کرتاہے ان کی دعاؤں سے خلق فائدہ اٹھاتی ہے ۔
حضرت علی المرتضی شیرخدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے دوجہاں سرورکون مکان ﷺسے سنا آپﷺ فرماتے ہیں کہ شام میں ابدال ہوں گے جن کی تعدادچالیس ہوگی جب ان سے ایک فوت ہوجائیگاتواللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرامقررفرمادے گاان کے وسیلہ سے بارش ہوگی اورانہی کے طفیل دشمنوں پرفتح حاصل ہوگی اورانہی کی برکت سے اہل شام سے عذاب دورکیاجائیگا۔(مشکوٰۃ شریف)
اہل لغت نے ولی کے چند معانی بیان فرمائے ہیں۔ ولی کے معنی وارث،قریبی اورمددگارکے ہیں ولیوں کے جماعت وہ مقدس جماعت ہے جنہیں اللہ رب العزت نے دنیاوآخرت کی نعمتوں کاوارث بنادیاہے ولیوں کویہ مرتبہ اورمقام صرف اورصرف نبی کریمﷺکی غلامی ،محبت اطاعت کرنے کی وجہ سے ملاہے ۔ شاعرمشرق علامہ اقبال نے کیاخوب کہا۔
کی محمدسے وفاتونے توہم تیرے ہیں۔
یہ جہاں چیزہے کیالوح وقلم تیرے ہیں
ارشادباری تعالیٰ ہے "بے شک ہم نے زبورمیں نصیحت کے بعدلکھ دیاکہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔(سورۃ الانبیاء پارہ ۱۷) اس زمین کی ملکیت اللہ پاک نے اپنے نیک بندوں کودے دی ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے "یہی وہ جنت ہے جس کاوارث اپنے نیک بندوں میں اسے کریں گے جومتقی ہے"(سورۃ مریم پارہ ۱۶)مزیدارشادہوتاہے "ہم تمہارے دوست ہیں دنیاوآخرت میں اور تمہارے لئے اس (جنت) میں ہے جوتمہاراجی چاہے اورتمہارے لئے اس میں جوتم مانگو۔
ولی کادوسرامعنی مددگارکے ہیں یعنی مخلوق خداکی امدادکرنیوالے ۔ارشادباری تعالیٰ ہے ۔"اورایک دوسرے کی نیکی اورتقویٰ پرامدادکرو"
ولی کاایک اور معنی قریبی کے ہیں ۔یعنی اولیاء اللہ کی جماعت وہ مقدس جماعت ہے جن کواللہ رب العزت کاقرب اورنزدیکی حاصل ہوتی ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا"اللہ تعالیٰ فرماتاہے جومیرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس سے اعلان جنگ کرتاہوں اورمیرابندہ ایسی کسی چیزکے ذریعے میراقرب نہیں پاتاجومجھے فرائض سے زیادہ محبوب ہواورمیرابندہ نفلی عبادات کے ذریعے برابرمیراقرب حاصل کرتارہتاہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتاہوں اورجب میں اس سے محبت کرتاہوں تومیں اس کے کان بن جاتاہوں جس سے وہ سنتاہے اوراسکی آنکھ بن جاتاہوں جس سے وہ دیکھتاہے اوراس کاہاتھ بن جاتاہوں جس سے وہ پکڑتاہے اوراس کاپاؤں بن جاتاہوں جس سے وہ چلتاہے اگرمجھ سے وہ سوال کرتاہے تومیں اسے ضرورعطاکرتاہوں ۔اگروہ میری پناہ مانگتاہے تومیں ضروراسے پناہ دیتاہوں میں نے جوکام کرناہوتاہے اس میں کبھی اس طرح مترودنہیں ہوتاجیسے بندہ مومن کی جان لینے میں ہوتاہوں ۔اسے موت پسندنہیں اورمجھے اس کی تکلیف پسندنہیں۔(مسلم شریف)
اولیاء کرام کی کثیر اقسام ہیں جیساکہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،بے شک انبیاءِ کرام علیہم السلام زمین کے اوتاد تھے ، جب نبوت کا سلسلہ ختم ہوا تو اللہ تعالی نے امت احمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک قوم کو ان کا نائب بنایا جنہیں ابدال کہتے ہیں ، وہ حضرات (فقط) روزہ و نماز اور تسبیح وتقدیس میں کثرت کی وجہ سے لوگوں سے افضل نہیں ہوئے بلکہ اپنے حسن اخلاق، ورع و تقویٰ کی سچائی، نیت کی اچھائی، تمام مسلمانوں سے اپنے سینے کی سلامتی، اللہ کی رضا کے لیے حلم ، صبر اور دانشمندی ، بغیر کمزوری کے عاجزی اور تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کی وجہ سے افضل ہو ئے ہیں۔ پس وہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے نائب ہیں۔ وہ ایسی قوم ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی ذات پاک کے لئے منتخب اور اپنے علم اور رضا کے لئے خاص کر لیا ہے ۔ وہ 40 صدیق ہیں ، جن میں سے 30 رحمٰن کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یقین کی مثل ہیں۔ ان کے ذریعے سے اہل زمین سے بلائیں اور لوگوں سے مصیبتیں دور ہوتی ہیں ، ان کے ذریعے سے ہی بارش ہوتی اور رزق دیا جاتا ہے، ان میں سے کوئی اسی وقت فوت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس کی جانشینی کیلئے کسی کو پروانہ دے چکا ہوتا ہے۔ وہ کسی پر لعنت نہیں بھیجتے، اپنے ماتحتوں کو اذیت نہیں دیتے ، ان پر دست درازی نہیں کرتے ،اُنہیں حقیر نہیں جانتے ، خود پر فوقیت رکھنے والوں سے حسد نہیں کرتے ، دنیا کی حرص نہیں کرتے ، دکھاوے کی خاموشی اختیار نہیں کرتے ، تکبرنہیں کرتے اور دکھاوے کی عاجزی بھی نہیں کرتے ۔ وہ بات کرنے میں تمام لوگوں سے اچھے اور نفس کے اعتبار سے زیادہ پرہیزگار ہیں ، سخاوت ان کی فطرت میں شامل ہے، اسلاف نے جن (نامناسب ) چیزوں کو چھوڑا ان سے محفوظ رہنا ان کی صفت ہے ، ان کی یہ صفت جدا نہیں ہوتی کہ آج خشیت کی حالت میں ہوں اور کل غفلت میں پڑے ہوں بلکہ وہ اپنے حال پر ہمیشگی اختیا ر کرتے ہیں ، وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان ایک خاص تعلق رکھتے ہیں ، جہاں تک دوسرے کسی کی رسائی نہیں۔ اُن کے دل اللہ کی رضا اور شوق میں آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں ،(پھر یہ آیت تِلاوت فرمائی)’’ترجمہ:یہ اللہ کی جماعت ہے، سن لو! اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہے۔ (نوادر الاصول، الاصل الحادی والخمسون، ۱ / ۲۰۹، الحدیث: ۳۰۱)
سلطان الاولیاء حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ انہی نابغۂ روزگار اور عظیم المرتبت اولیائے کرام میں سے ہیں جن کی شخصیت علم، عمل، زہد، تقوی، معرفت، روحانیت، اخلاق، دعوت و ارشاد اور اصلاح امت کے بے شمار اوصاف کا حسین مرقع ہے۔
آپ کو امت مسلمہ میں غوث اعظم، پیران پیر، محبوب سبحانی، محی الدین، قطب ربانی اور سید الاولیاء جیسے عظیم القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ اولیائے کرام کے درمیان ایک بلند مقام رکھنے والی وہ شخصیت ہیں جن کی نسبت سے سلسلۂ قادریہ عالم اسلام کے مختلف خطوں میں پھیلا اور جس کے روحانی اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
معتبر تاریخی مصادر میں بھی آپ کو عظیم عالم، زاہد، شیخ اور بغداد کے معروف دینی پیشوا کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آپ نے بغداد میں علم حاصل کیا، حدیث سنی، فقہ میں مہارت پیدا کی، تدریس و افتا کا منصب سنبھالا اور وعظ و ارشاد کے ذریعے لوگوں کی اصلاح فرمائی۔ 561 ہجری میں بغداد ہی میں آپ کا وصال ہوا۔
غوث اعظم: سید الاولیاء
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ سید الاولیاء یعنی اولیائے کرام کا سردار اور پیشوا ہیں۔ آپ کی روحانی عظمت کے بارے میں اہل تصوف کے ہاں غیر معمولی عقیدت پائی جاتی ہے۔
مشہور شعر ہے:
غوث اعظم درمیان اولیاء
چوں محمد درمیان انبیاء
یعنی جس طرح سیدنا محمد مصطفے جان رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انبیائے کرام کے درمیان ممتاز مقام رکھتے ہیں، اسی طرح حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ اولیائے کرام کے درمیان بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی عظمت کا اصل میدان ان کا علم، تقوی، عبادت، اصلاح نفس، دعوت و ارشاد اور شریعت کی پابندی ہے۔ بعد کے اہل علم نے بھی آپ کی علمی و روحانی شخصیت کا اعتراف کیا ہے۔
نسب پاک اور ولادت
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی نسبت حسنی و حسینی دونوں جانب بیان کی گئی ہے، جس بنا پر آپ کو نجیب الطرفین بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی ولادت470 یا 471 ہجری جیلان میں ہوئی۔
آپ کے والد ماجد حضرت ابو صالح موسی جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ اور والدہ ماجدہ حضرت ام الخیر فاطمہ رحمہا اللہ تعالی دونوں اپنے وقت کے ولی کامل تھے۔
مادرزاد ولی ہونے کی روایت:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی ولادت اور بچپن سے متعلق مناقب کی کتابوں میں متعدد غیر معمولی واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور واقعہ یہ ہے کہ آپ نے رمضان المبارک میں شیرخوارگی کے زمانے میں دن کے وقت اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ نہیں پیا۔
اہل مناقب نے اس واقعہ کو آپ کی ابتدائی روحانی خصوصیت اور ولایت کی علامت کے طور پر بیان کیا ہےکہ آپ مادرزاد ولی تھے۔
اسی طرح آپ کے بچپن کے بارے میں ایک روایت نقل کی جاتی ہے کہ آپ نے کم عمری میں فرشتوں کو اپنے ساتھ چلتے دیکھا اور انہیں دوسرے بچوں سے یہ کہتے سنا کہ "ولی اللہ کے لیے جگہ دو۔"
ایک اور روایت کے مطابق بچپن میں ایک اجنبی شخص نے آپ کے بارے میں سوال کیا تو فرشتے نے اسے آپ کے ولی اللہ ہونے اور مستقبل میں بلند مقام حاصل کرنے کی خبر دی۔ بعد میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ چالیس برس کی عمر میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ شخص اپنے وقت کا ابدال تھا۔
بغداد کی طرف سفر اور علمی زندگی
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے نوجوانی میں بغداد کا رخ کیا۔ بغداد اس زمانے میں علم و دانش کا عظیم مرکز تھا۔ یہاں آپ نے اکابر اہل علم سے استفادہ کیا، فقہ و حدیث حاصل کی، ادب پڑھا اور علمی میدان میں نمایاں مقام پیدا کیا۔
معتبر سوانحی ماخذوں میں آپ کے بغداد پہنچنے، علوم دینیہ میں مہارت حاصل کرنے، وعظ میں شہرت پانے اور بعد میں تدریس و افتا کی ذمہ داری سنبھالنے کا ذکر ملتا ہے۔
آپ کی علمی زندگی کا یہی پہلو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آپ کی روحانیت محض جذبات یا کرامات کا نام نہیں تھی بلکہ علم شریعت کی مضبوط بنیاد پر قائم تھی۔
علم و فضل کا آفتاب
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ علم ظاہر و باطن کے جامع عالم تھے۔ آپ کی مجلس میں فقہ، حدیث، تفسیر، اخلاق اور تزکیۂ نفس کے موضوعات پر گفتگو ہوتی۔
ایک مشہور روایت ہے کہ ایک مرتبہ مجلس میں قرآن کریم کی ایک آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ نے اس کی متعدد تفسیری وجوہ بیان فرمائیں۔ روایت میں یہاں تک آتا ہے کہ آپ نے ایک ہی آیت کے چالیس مختلف معانی و تفسیری پہلو بیان فرمائے اور ہر پہلو کو دلیل و وضاحت کے ساتھ سمجھایا۔
یہ روایت آپ کے وسیع علمی ذوق اور مجلس درس کی علمی شان کو نمایاں کرتی ہے۔
آپ کی علمی تصانیف میں غنیۃ الطالبین، طریق الحق، الفتح الربانی اور فتوح الغیب خاص طور پر معروف ہیں۔
شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آپ نے شریعت اور طریقت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا۔
آپ کی تعلیمات میں نماز، روزہ، حلال و حرام، توبہ، ذکر، اخلاص، تقویٰ، صبر، توکل اور حقوق العباد پر مسلسل زور ملتا ہے۔
آپ کا پیغام یہ تھا کہ انسان اگر روحانی ترقی چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے ظاہر کو شریعت کے مطابق اور اپنے باطن کو اخلاص و تقوی کے مطابق بنانا ہوگا۔
اسی لیے آپ کی زندگی علم و عرفان، شریعت و طریقت اور عبادت و خدمت کا حسین امتزاج بن گئی۔
ریاضت و عبادت
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی زندگی ریاضت و مجاہدہ سے عبارت تھی۔ آپ دنیا کی ظاہری آسائشوں سے بے نیاز رہ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکر اور بندگان خدا کی اصلاح میں مصروف رہتے۔
آپ کے مناقب میں طویل عبادات، مجاہدات، شب بیداری، ذکر و فکر اور نفس کی مخالفت کے متعدد واقعات مذکور ہیں۔
آپ کی زندگی کا بنیادی سبق یہ تھا کہ روحانیت کا راستہ خواہشات نفس کی پیروی سے نہیں بلکہ نفس کی اصلاح اور اللہ تعالی کی اطاعت سے کھلتا ہے۔
حلیہ اور شخصیت
مناقب کی روایات میں آپ کے حلیۂ مبارک کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ میانہ قد، نحیف البدن، کشادہ سینہ، گندمی رنگ، بڑی اور گھنی داڑھی اور بلند آواز کے مالک تھے۔
لیکن آپ کا حقیقی جمال صرف ظاہری حلیے میں نہیں بلکہ علم، عمل، تقوی، وقار، تواضع اور حسن اخلاق میں نمایاں تھا۔
اخلاق کریمہ:
حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کا اخلاق آپ کی شخصیت کا نہایت روشن باب ہے۔
آپ کمزوروں کے ساتھ بیٹھتے، فقیروں کے ساتھ عاجزی سے پیش آتے، بڑوں کا احترام کرتے اور چھوٹوں پر شفقت فرماتے۔ سلام کرنے میں پہل کرتے اور مہمانوں و طلبہ کے ساتھ انتہائی محبت و کشادہ روئی سے پیش آتے۔
روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کے سامنے جھوٹی قسم کھاتا تو آپ اس کے باطن کا حال جاننے کے باوجود اس کے ساتھ سختی نہ فرماتے اور اپنے کشف کو اس پر ظاہر نہ کرتے۔
یہی وہ اخلاق تھا جس نے لوگوں کے دلوں کو آپ سے جوڑ دیا۔
مریدوں پر شفقت
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی اپنے مریدوں اور محبین پر بے مثال شفقت کے واقعات کتب مناقب میں کثرت سے ملتے ہیں۔
ایک مشہور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ قیامت تک اپنے مریدوں کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ وہ توبہ کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوں۔
آپ سے پوچھا گیا کہ جو شخص آپ کے ہاتھ پر بیعت نہ ہو لیکن آپ سے محبت اور عقیدت رکھتا ہو اور اپنے آپ کو آپ کی طرف منسوب کرتا ہو، کیا وہ بھی آپ کے متعلقین میں شمار ہوگا؟
روایت کے مطابق آپ نے اس کے لیے بھی رحمت الہی اور قبولیت کی امید ظاہر فرمائی۔
یہ روایات آپ کے ہاں محبت، ارادت، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے تصور کو نمایاں کرتی ہیں۔
غوث اعظم کی کرامات:
اولیائے کرام کی زندگیوں کے تذکروں میں کرامات کا ایک مستقل باب ہے اور حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے مناقب میں بھی بے شمار کرامات بیان ہوئی ہیں۔
آپ کے متعلق نقل کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر غیر معمولی امور ظاہر فرمائے اور بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں آپ کی صحبت اور وعظ کے ذریعے انقلاب آیا۔تاہم آپ کی عظمت صرف کرامات کی کثرت سے نہیں بلکہ اس حقیقت سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آپ نے لوگوں کو نماز، توبہ، تقویٰ، حلال روزی، حقوق العباد اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف بلایا۔
عداوتِ غوث کا انجام
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ایک واقعہ بزاز ابو الفضل کا بھی بیان کیا جاتا ہے۔
روایت ہے کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے خادم نے ایک بزاز سے قیمتی کپڑا طلب کیا۔ بزاز کے دل میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک اعتراض پیدا ہوا۔ اسی دوران اس کے پاؤں میں ایک کیل چبھ گئی اور شدید تکلیف پیدا ہوگئی۔
آخرکار اسے حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لایا گیا۔ روایت کے مطابق آپ نے اس کے دل کا حال بیان کیا اور اپنا دست مبارک اس کے پاؤں پر رکھا تو اس کی تکلیف دور ہوگئی۔
اس واقعے کو اہل مناقب نے حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی کرامت اور ان کے مقام کی عظمت کے طور پر بیان کیا ہے۔
اس سے عقیدت مندوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ اولیائے کرام کی بے ادبی سے بچنا اور اہل اللہ کا ادب کرنا چاہیے۔
حضرت غوث اعظم کی مجلسِ وعظ:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی مجلس وعظ بغداد میں اصلاح و تربیت کا عظیم مرکز بن گئی تھی۔
مناقب میں آتا ہے کہ آپ کی مجلس میں بڑی تعداد میں لوگ قلم و دوات لے کر بیٹھتے اور آپ کے ارشادات قلم بند کرتے۔
ایک روایت میں ہے کہ ابتدائی زمانے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خواب میں آپ کو وعظ کرنے کا حکم دیا اور آپ کے لیے ابواب سخن کھولے۔
آپ کا وعظ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ دلوں کی دنیا بدل دینے والی دعوت تھا۔
مجلس وعظ میں اولیاء، ملائکہ اور جنات کی حاضری:
مناقب کی روایات میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی مجلس وعظ کے بارے میں نہایت حیرت انگیز واقعات نقل ہوئے ہیں۔
ایک روایت کے مطابق جب آپ منبر پر تشریف فرما ہوتے اور "الحمد للہ" کہتے تو اولیاء اللہ اور فرشتے آپ کی مجلس کی طرف متوجہ ہوتے۔
ایک دوسرے واقعے میں ایک شخص نے جنات کو حاضر کرنے کے لیے اپنی مخصوص عزیمت پڑھی مگر جنات حاضر نہ ہوئے۔ بعد میں جب کچھ جنات آئے تو انہوں نے بتایا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ وعظ فرما رہے تھے اور ہم سب ان کی مجلس میں حاضر تھے۔
مناقب میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ بہت سے جنات آپ کی صحبت میں مسلمان ہوئے اور توبہ و استغفار میں مشغول ہوئے۔
وعظ کا اثر:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے وعظ کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ لوگ اپنے گناہوں پر نادم ہوتے، توبہ کرتے اور زندگی بدلنے کا عزم کرتے۔ آپ کی مجالس سے متعدد لوگ تائب ہوئے، یہودیوں اور عیسائیوں میں سے بھی لوگوں نے اسلام قبول کیا اور بڑی تعداد میں بدکار، ڈاکو اور گناہ گار آپ کی صحبت سے متاثر ہوکر تائب ہوئے۔
مشہور روایات میں پانچ ہزار سے زائد غیر مسلموں کے اسلام قبول کرنے اور ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے توبہ کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔
اگرچہ ان اعداد کو تاریخی تحقیق میں احتیاط کے ساتھ بیان کرنا چاہیے، لیکن اس سے اس حقیقت کی طرف ضرور اشارہ ملتا ہے کہ آپ کی دعوت نے اپنے زمانے کے معاشرے پر گہرا اصلاحی اثر ڈالا۔
غوث اعظم کا روحانی فیض:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی نسبت سے قائم ہونے والا سلسلۂ قادریہ بعد کے زمانوں میں عالم اسلام کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا۔ آپ کو اس سلسلے کا بنیادی روحانی پیشوا سمجھا جاتا ہے۔
برصغیر میں بھی سلسلۂ قادریہ نے دینی، روحانی اور اخلاقی زندگی پر نمایاں اثر ڈالا اور آج تک حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے عقیدت رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
غوث اعظم اور اعلیٰ حضرت:
اہل سنت کے عظیم امام، امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہے۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر مشہور ہے:
غوث اعظم امام التقی والنقی
جلوۂ شان قدرت پہ لاکھوں سلام
یہ شعر حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے تقویٰ، طہارت اور روحانی عظمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
تعلیم یافتہ عالم سے روحانی پیشوا تک:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ آپ نے علم کو عمل سے اور عمل کو اصلاح سے جوڑا۔
آپ نے صرف کتابیں نہیں پڑھیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں کو کتاب و سنت کی روشنی میں سنوارنے کی کوشش کی۔
آپ کے یہاں علم مقصد نہیں بلکہ ہدایت کا ذریعہ تھاعبادت محض رسم نہیں بلکہ قرب الٰہی کا وسیلہ تھی اور تصوف دنیا سے فرار نہیں بلکہ نفس کی اصلاح اور مخلوق کی خیر خواہی کا نام تھا۔
وصال مبارک
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے 561 ہجری میں بغداد میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزار اقدس بغداد میں واقع ہے اور صدیوں سے عقیدت مندوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی آپ کا علمی و روحانی فیض مختلف صورتوں میں جاری رہا۔ آپ کی تصانیف، مواعظ اور تعلیمات آج بھی پڑھی جاتی ہیں اور آپ سے منسوب سلسلۂ قادریہ دنیا کے مختلف خطوں میں موجود ہے۔
آج کے دور میں غوث اعظم کا پیغام:
آج کا انسان مادی ترقی کے باوجود روحانی بے چینی، اخلاقی کمزوری، باہمی نفرت اور مقصد زندگی سے دوری کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمارے لیے ایک روشن پیغام رکھتی ہے۔
آپ کی حیات ہمیں بتاتی ہے:علم ہو تو عمل کے ساتھ،عبادت ہو تو اخلاص کے ساتھ،روحانیت ہو تو شریعت کے ساتھ،دولت ہو تو سخاوت کے ساتھ،اقتدار ہو تو عدل کے ساتھ،اور انسانیت ہو تو محبت و خدمت کے ساتھ۔حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا یہی جامع پہلو انہیں سید الاولیاء، غوث اعظم اور علم و عرفان کے عظیم پیشوا کے طور پر اہل محبت کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔
ان کی زندگی کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا راستہ شریعت سے جدا نہیں، ولایت کا حسن تقویٰ میں ہے، علم کی تکمیل عمل سے ہوتی ہے اور روحانیت کی حقیقی منزل انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور مخلوق خدا کی خیر خواہی تک پہنچاتی ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے سچی محبت، ان کے ادب، ان کی تعلیمات سے استفادہ اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ان کے فیوض و برکات سے ہمارے قلوب کو منور فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
تحریر: مفتی غلام رسول اسماعیلی
مرکزی ادارہ شرعیہ، پٹنہ، بہار
ملک العلماء قدیمی جامع مسجد محمد پورشاہ گنج
9572161137
Comments (0)
पोस्ट के लेखक
Popular Posts

पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय
👁 40 views

नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान
👁 40 views

भारी बारिश के चलते गोरखपुर में 26 सितंबर को कक्षा 1 से 12 तक के सभी स्कूल बंद
👁 15 views
सहारनपुर और बाराबंकी के बाद अब इटावा - सैयद बाबा मजार पर चला बुलडोजर, वक्फ बोर्ड खामोश?
👁 14 views

नगर पंचायत इटवा बनी ‘नरक पंचायत’! राजपूत डीहवा रोड पर जलजमाव से ग्रामीण परेशान
👁 14 views