والدین کی تربیت: اولاد کے لیے دنیا و آخرت میں رفعت و کامیابی کا عظیم الشان زینہ ہے
بے شک! والدین کی تربیت ہی وہ بنیادی اکسیر، وہ عظیم جوہرِ نایاب اور وہ مقدس ترین امانت ہے جو اولاد کو جہالت و پستی کے گڑھوں سے نکال کر رفعت و بلندی اور انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام ، مقامِ محمود تک پہنچاتی ہے۔ یہ محض ایک رسمی عمل نہیں، بلکہ ایک عظیم الشان دینی فریضہ اور لازوال عبادت ہے۔
دینِ اسلام اور ہر معاشرے میں والدین کی حسنِ تربیت کو بچے کی شخصیت سازی کا سب سے اہم عنصر تسلیم کیا گیا ہے۔
یاد رکھیے! تربیت محض ڈگری یا مال و دولت کا نام نہیں۔ یہ دولت تو فانی ہے، مگر تربیت جاویدانی ہے۔ دولت سے پیٹ بھرتا ہے، مگر تربیت سے انسان سنورتا ہے۔ دولت تقسیم ہو جاتی ہے، مگر تربیت نسلوں میں منتقل ہوتی ہے۔
والدین کی صالح تربیت کے مدارج:
1. رفعت و سرفرازی کا مقام: تربیت یافتہ بچہ معاشرے میں مہذب، معزز اور ہر دلعزیز بنتا ہے۔
2. اخلاقی بلندی کا مقام: سچائی، دیانت، عاجزی اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
3. ذہنی مضبوطی کا مقام: خود اعتمادی اور مصائب میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں ثمرات:
1. _"اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملا دیں گے۔"_ (الطور: 21)
2. _"جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو عمل منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین کے: صدقہ جاریہ، نفع بخش علم اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔"_ (مسلم)
3. _"جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی تربیت کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔"_ (ترمذی)
تربیت کا سب سے موثر، نورانی اور مسنون عملی طریقہ: بچے کو اپنے ساتھ نماز پڑھانا
اولاد کی تربیت کا سب سے افضل، نورانی، مجرب اور آزمودہ طریقہ یہی ہے کہ والدین اپنے جگر پارے کو اپنے پہلو میں، اپنی آغوشِ شفقت میں، اپنے مصلے کے قریب کھڑا کر کے نماز سکھائیں۔ یہی وہ روشن عمل اور نورانی نقش ہے جو مرحوم کی پاکیزہ زندگی میں نمایاں تھا۔
الف) اس کی شرعی حیثیت اور فضیلت:
قرآنی حکم کی تعمیل: اللہ رب العزت کا حکم ہے:
_"وَامُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا"_
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت قدمی سے کاربند رہو۔ (سورۃ طٰہٰ: 132) جب باپ اپنے بچے کو ساتھ لے کر نماز پڑھتا ہے تو وہ درحقیقت اسی عظیم قرآنی فریضے پر عمل کر رہا ہوتا ہے۔
نبوی فرمان اور عملی نمونہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
_"اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہو جائیں، اور جب دس سال کے ہو جائیں تو انہیں تنبیہ کرو۔"_ (سنن ابی داؤد)
نبی کریم ﷺ خود بچوں کو اپنے ساتھ نماز میں شامل فرماتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے بچپن میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تہجد کی نماز میں آپ ﷺ کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ معلوم ہوا کہ اسلام میں صرف زبان سے کہنا کافی نہیں، بلکہ کر کے دکھانا ہی اصل سنت اور اصل تربیت ہے۔
ب) اس کے تربیتی، نفسیاتی اور روحانی اثرات:
1. قول سے زیادہ فعل کا اثر: بچہ نصیحت سے کم، عمل کو دیکھ کر زیادہ سیکھتا ہے۔ جب وہ اپنے والد کو دنیا کے تمام کام چھوڑ کر اللہ کے حضور عاجزی سے جھکتا دیکھتا ہے تو نماز کی عظمت اور محبت اس کے ننھے دل پر نقش ہو جاتی ہے۔
2. گھر میں نور، برکت اور سکون: جس گھر میں باپ بیٹا ایک ساتھ سجدہ ریز ہوں وہاں رحمت کے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، لڑائی جھگڑے ختم ہوتے ہیں اور شیطانی وساوس و اثرات سے حفاظت ہوتی ہے۔
3. قلبی تعلق اور روحانی رشتہ: روزانہ پانچ وقت کی رفاقت، ایک ساتھ وضو کرنا اور ایک ساتھ دعا مانگنا، والد کو بچے کا روحانی ہیرو، مقتدا اور مربی بنا دیتی ہے اور باپ بیٹے کی محبت کو بے حد مضبوط کر دیتی ہے۔
4. نظم و ضبط اور وقت شناسی: بچپن سے نماز کی پابندی بچے کو وقت کا پابند، اصول کا پابند اور منظم بناتی ہے، یہی صفت اسے دنیاوی زندگی کے ہر میدان میں کامیاب بناتی ہے۔
5. گناہوں سے حفاظتی حصار: اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے: _"اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ"_ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ (العنکبوت: 45) بچپن میں مسجد کی طرف اٹھنے والے یہ قدم بڑے ہو کر بھی انسان کو بری صحبت اور برائیوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔
حرفِ آخر - اس پوری تحریر کا نچوڑ اور خلاصہ کلام
اے اہلِ دانش و بینش! حرفِ آخر اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ والدین کی تربیت محض اسکول کی تعلیم، کالج کی ڈگری، مال و دولت، جائیداد و جاہ و حشمت اور دنیاوی نمود و نمائش کا نام ہرگز نہیں ہے۔
بلکہ یہ وہ مقدس ترین، عظیم ترین، لازوال اور بے بہا امانت ہے، یہ وہ عظیم ورثہ اور وہ لازوال سرمایہ ہے جو بظاہر آنکھوں سے نظر نہیں آتا مگر اس کی خوشبو نسلوں تک محسوس ہوتی ہے، اس کا اثر صدیوں تک باقی رہتا ہے اور اس کی روشنی قبر کی تاریکیوں کو بھی منور کر دیتی ہے۔
یہ تربیت ایک ایسا چراغ ہے جو ایک دل سے دوسرے دل میں منتقل ہوتا ہے، ایک ایسا نور ہے جو والد کے پاک سینے سے نکل کر اولاد کے ننھے سینے کو منور کر دیتا ہے۔
دولت ختم ہو جاتی ہے، مکانات بوسیدہ ہو کر گر جاتے ہیں، نام و نشان مٹ جاتے ہیں، لیکن اگر والدین نے اپنی اولاد کی صحیح، صالح اور نورانی تربیت کر دی، اسے نماز کا پابند، بااخلاق، باکردار اور دین دار بنا دیا، تو یہی اولاد والدین کے لیے دنیا میں نیک نامی و نیک صلہ، قبر میں راحت و نور، حشر میں شفاعت اور جنت میں درجات کی بلندی کا ابدی ذریعہ بن جاتی ہے۔
پس یہی تربیت اولاد کو _احسنِ تقویم_ یعنی انسانیت کے بہترین، اکمل اور افضل ترین سانچے میں ڈھال کر اسے اس مقامِ محمود، مقامِ رفعت اور مقامِ محبوبیت پر فائز کر دیتی ہے، جہاں وہ اپنے خالقِ حقیقی، مالکِ حقیقی اور رازقِ حقیقی کی بارگاہ میں بھی سرخرو، مقبول اور سر بلند ہوتا ہے اور وہ مخلوق کی نظروں میں بھی ہر دلعزیز، محبوب، قابلِ فخر، قابلِ رشک اور قابلِ تقلید بن جاتا ہے۔
یہی اصل کامیابی ہے، یہی اصل وراثت ہے اور یہی اصل زندگی ہے۔
اللہ رب العزت سے نہایت عاجزی کے ساتھ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اپنے والدین کی سچی صحبت اختیار کرنے، ان کی سچی خدمت بجا لانے، ان سے سچی و بے لوث محبت کرنے، اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بننے والی نیک، صالح اولاد بننے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب کو اپنے اسلاف و والدین کے نقشِ قدم پر، ان کے بتائے ہوئے صراطِ مستقیم پر زندگی بسر کرنے کی توفیقِ کامل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
خاکسار شاہ جیلانی
(مولانا) سید عبد المقیت حسن الجیلانی خانقاہِ حسنی حضوری، سریا شریف، اعظم گڑھ*
تبصرے (0)
شائع کردہ
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس
صحافی ستیم مشرا پر حملہ کرنے والوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے - سراج احمد قریشی
👁 72 ویوز
नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान
👁 47 ویوز
पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय
👁 42 ویوز
رویندر ناتھ ٹھاکر اور 'وشو بھارتی' یونیورسٹی
👁 35 ویوز
ترنمول کانگرس کی شکست کے اسباب!
👁 33 ویوز