رویندر ناتھ ٹھاکر اور 'وشو بھارتی' یونیورسٹی
مغربی بنگال کی سرزمین نے تاریخ کو کئی ایسے نابغہ روزگار افراد دیے ہیں
جنہوں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کو اپنے افکار و فن سے متاثر کیا ہے۔
ان تمام شخصیات میں رابندر ناتھ ٹیگور کا نام سرِفہرست ہے۔ ان کا اصل نام
"رویندر ناتھ ٹھاکر" ہے۔ وہ محض ایک شاعر یا ادیب نہیں تھے، بلکہ ایک مفکر،
فلسفی، مصور، موسیقار اور ماہرِ تعلیم تھے جن کی ہمہ جہت شخصیت نے بیسویں صدی
کے عالمی منظر نامے پر گہرے نقوش چھوڑے۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
بنگالی زبان کے نوبل انعام یافتہ شاعر، فلسفی، افسانہ نگار اور ناول نگار
رابندر ناتھ ٹیگور 7 مئی 1861ء کو کلکتہ (موجودہ کولکاتہ) کے ایک ممتاز اور
علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد دیویندر ناتھ ٹیگور (مہارشی) ایک عظیم
سماجی اور مذہبی مصلح تھے۔
ٹیگور کے گھر میں صرف ادب ہی نہیں، بلکہ فنونِ لطیفہ کی ہر شاخ پر باقاعدہ
کام ہوتا تھا اور علمی و فکری چہل پہل رہتی تھی:
جیندر ناتھ ٹیگور: ان کے بڑے بھائی تھے جو ایک مشہور فلسفی اور ادیب کے طور
پر جانے جاتے تھے۔
کدامبری دیوی: ان کی بھابھی تھیں، جن کے ساتھ رابندر ناتھ ٹیگور کی گہری ذہنی
و ادبی ہم آہنگی تھی۔
یہ گھرانہ ان کے لیے ایک ایسی تجربہ گاہ ثابت ہوا جہاں انہوں نے بہت کم عمری
میں ہی اپنی پہلی نظمیں اور ڈرامے لکھنا شروع کر دیے تھے۔ انہیں موسیقی کا شوق
بھی بچپن ہی سے تھا، جس کی باقاعدہ تربیت انہوں نے گھر کے ماحول میں حاصل کی۔
ابتدائی تعلیم اور اسکول سے بیزاری
رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنے بچپن میں کلکتہ کے چند مشہور اسکولوں میں تعلیم
حاصل کی، جن میں اورینٹل سیمینری، نارمل اسکول اور سینٹ زیویئرز کالج شامل
ہیں۔ تاہم ان کا تعلیمی تجربہ ان روایتی اسکولوں میں بہت مختصر اور تلخ رہا۔
انہیں اسکول کے سخت ضوابط اور رٹہ لگانے والے ماحول سے شدید کوفت ہوتی تھی۔ وہ
اکثر کلاس سے بھاگ جاتے یا کھڑکی سے باہر قدرت کے دلکش مناظر کو دیکھ کر اپنے
خیالات میں کھو جاتے تھے۔
انہیں ان اسکولوں کا ماحول بالکل پسند نہیں آیا اور وہ اکثر ان اداروں کو
"جیل خانہ" قرار دیتے تھے، کیونکہ وہاں طلبا کو قید میں رکھ کر کتابی رٹہ
لگوایا جاتا تھا اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی نمو کے لیے کوئی گنجائش نہیں
تھی۔
ان کی اس بیزاری کو دیکھتے ہوئے ان کے والد دیویندر ناتھ ٹیگور نے ان کی
تعلیم کا انتظام گھر پر ہی کر دیا۔ مختلف مضامین پڑھانے کے لیے ماہر اتالیق
مقرر کیے گئے:
گھر کے علمی ماحول میں انہوں نے اپنی مادری زبان بنگالی پر کامل عبور حاصل
کیا اور کلاسیکی سنسکرت ادب کا گہرا مطالعہ کیا۔
انہیں انگریزی ادب، تاریخ، جغرافیہ اور ریاضی پڑھانے کے لیے خصوصی اساتذہ
مقرر کیے گئے۔ انہوں نے شیکسپیئر اور دیگر انگریزی ادب کے کلاسک کا مطالعہ بھی
گھر ہی میں کیا۔
ڈلہوزی کا سفر اور ذہنی ارتقاء
رابندر ناتھ ٹیگور کی زندگی کا ایک اہم موڑ 1873ء میں اس وقت آیا جب ان کے
والد انہیں ہمالیہ کے پرفضا پہاڑی مقام 'ڈلہوزی' (Dalhousie) لے گئے۔ یہ سفر
ان کی فکر کے لیے ایک کھلی کتاب ثابت ہوا۔ وہاں والد کی نگرانی میں ٹیگور نے
باقاعدہ نصاب کی حد بندیوں سے ہٹ کر تاریخ، سائنس اور سنسکرت کے کلاسیکی متن
کا آزادانہ مطالعہ کیا۔ یہیں سے ان کی فطرت سے محبت اور آزادانہ سوچنے کی عادت
پختہ ہوئی۔
انگلستان کا سفر اور ادبی سفر کا آغاز
رابندر ناتھ ٹیگور 17 سال کی عمر میں قانون کی اعلیٰ تعلیم (بیرسٹری) کے لیے
1878ء میں لندن گئے۔ وہاں انہوں نے 'یونیورسٹی کالج لندن' میں داخلہ لیا، لیکن
وہاں بھی وہ قانون کی خشک اور جامد تعلیم میں زیادہ دلچپسی نہ لے سکے۔ اس کے
برعکس انہوں نے انگریزی ادب اور مغربی موسیقی کے مطالعے میں اپنا زیادہ وقت
گزارا۔
بالآخر، وہ کوئی ڈگری حاصل کیے بغیر ہی 1880ء میں واپس ہندوستان آ گئے۔ اگرچہ
اس وقت ان کے خاندان نے اسے ایک ناکامی سمجھا، لیکن ٹیگور کے لیے یہ خودشناسی
اور اپنے اندرونی رجحانات کو سمجھنے کا ایک بہت بڑا قدم تھا-
انگلستان سے واپسی کے بعد وہ اپنے طور پر پڑھنے لکھنے اور اپنی شخصیت کو
پروان چڑھانے میں مصروف ہو گئے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کی پہلی کتاب صرف 17 برس کی
عمر میں منصہ شہود پر آ چکی تھی۔ اس دوران انہوں نے کئی افسانے لکھے اور شاعری
کی جانب خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے اپنی تخلیقات کا زیادہ تر حصہ اپنی مادری
زبان بنگالی میں قلمبند کیا۔ (نوٹ: ادبی سفر آگے چل کر اس وقت اپنے اوج پر
پہنچا جب ان کے مشہورِ زمانہ شعری مجموعے "گیتانجلی" (Gitanjali) کو عالمی سطح
پر پذیرائی ملی اور 1913ء میں انہیں ادب (Literature) کا نوبل انعام دیا گیا۔
وہ یہ عالمی اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ایشیائی اور ہندوستانی ادیب بنے۔)
ازدواجی زندگی اور خاندانی صدمات
رابندر ناتھ ٹیگور کی شادی 1883ء میں مرنالنی دیوی سے ہوئی۔ شادی کے وقت
ٹیگور کی عمر 22 سال تھی، جبکہ مرنالنی دیوی کی عمر تقریباً 10 سال تھی۔
مرنالنی دیوی ایک انتہائی سادہ مزاج اور صابرہ خاتون تھیں، جنہوں نے ٹیگور کی
ادبی مصروفیات اور ان کے غیر روایتی طرزِ زندگی میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
مرنالنی دیوی کا انتقال 1902ء میں بہت کم عمری میں ہو گیا۔
رابندر ناتھ ٹیگور اور مرنالنی دیوی کے ہاں کل 5 بچے پیدا ہوئے:
مادھوری لتا دیوی (1886ء–1918ء): یہ ان کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔
رتندر ناتھ ٹیگور (1888ء–1961ء): یہ ان کے بڑے بیٹے تھے۔ انہوں نے اپنے والد
کے تعلیمی خواب (وشو بھارتی) کو آگے بڑھانے اور سنبھالنے میں اہم ترین کردار
ادا کیا۔
رینوکا دیوی (1890ء–1903ء): ان کا انتقال بہت چھوٹی عمر میں تپِ دق (ٹی بی)
کے باعث ہوا۔
میرا دیوی (1892ء–1969ء): یہ ان کی چھوٹی بیٹی تھیں۔
شمیندر ناتھ ٹیگور (1896ء–1907ء): یہ سب سے چھوٹے بیٹے تھے، جن کا انتقال بھی
کم عمری میں ہیضے کی وجہ سے ہو گیا۔
رابندر ناتھ ٹیگور کے لیے اپنے بچوں اور اہلیہ کی قبل از وقت وفات ایک
انتہائی دردناک صدمہ تھی۔ ان کے کئی گیت اور نظمیں، جن میں دکھ، جدائی اور
آلام کا عنصر نمایاں ہے، انہی ذاتی صدمات کے نتیجے میں تخلیق ہوئے۔ خاص طور پر
اپنے چھوٹے بیٹے شمیندر کی وفات کے بعد وہ گہرے غم میں مبتلا ہو گئے تھے، جس
کا اثر ان کی شاعری اور فکر پر واضح دکھائی دیتا ہے۔
شانتی نکیتن کا قیام اور 'وشو بھارتی' یونیورسٹی
شانتی نکیتن کی زمین کا انتخاب اور اس کا آغاز بنیادی طور پر رابندر ناتھ
ٹیگور نے نہیں بلکہ ان کے والد مہارشی دیویندر ناتھ ٹیگور نے کیا تھا۔ 1863ء
میں انہوں نے بولپور کے قریب ایک وسیع قطعہ اراضی خریدا تاکہ اسے مراقبہ،
عبادت اور روحانی سکون کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ انہوں نے ہی اس
جگہ کا نام "شانتی نکیتن" رکھا، جس کے لغوی معنی ہیں "امن کا ٹھکانہ"۔
رابندر ناتھ ٹیگور نے 22 دسمبر 1901ء کو صرف پانچ طلباء کے ساتھ شانتی نکیتن
میں ایک اسکول کی بنیاد رکھی، جسے 'برہمچاری آشرم' کا نام دیا گیا۔ یہیں سے
انہوں نے اس جگہ کی باقاعدہ دیکھ بھال اور اپنے آزادانہ تعلیمی فلسفے کی باگ
ڈور سنبھالی۔
یہ تعلیمی مرکز وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا اور بالآخر
1921ء میں ٹیگور نے اسے 'وشو بھارتی' یونیورسٹی کی شکل میں قائم کیا۔ قیامِ
ہند کے بعد، 1951ء میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعے 'وشو بھارتی' کو 'قومی
اہمیت کا حامل ادارہ' اور مرکزی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔
تعلیمی نظام اور طرزِ تدریس
شروع میں یہ ایک بہت ہی سادہ سا آشرم تھا جہاں بچے چار دیواری کے بجائے کھلے
آسمان تلے درختوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ اس وقت کے روایتی اسکولوں میں
جہاں بینچ، میز اور بلیک بورڈ کو بنیادی اہمیت حاصل تھی، وہاں ٹیگور کا طریقہ
کار بالکل منفرد تھا؛ استاد اور شاگرد ایک ہی سطح پر زمین پر بیٹھ کر گفتگو
اور بحث کرتے تھے۔
اس غیر روایتی تعلیمی نظام کے قائم کرنے کے پیچھے ان کے سامنے دو اہم ترین
وجوہات تھیں:
کولکتہ کی حبس زدہ زندگی: وہ شہر کے ہجوم، آلودگی اور روایتی اسکولوں کے "قید
خانے" جیسے نظام سے سخت تنگ آ چکے تھے۔
قدیم ہندوستانی روایت (آشرم نظام): ٹیگور قدیم زمانے کے 'رشیوں' اور 'مُنیوں'
کے آشرموں سے شدید متاثر تھے، جہاں شاگرد فطرت کی گود میں استاد کے ساتھ رہ کر
اخلاقی اور روحانی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ وہ اسی نظام کو جدید دور کی ضروریات
کے مطابق دوبارہ زندہ کرنا چاہتے تھے۔
ٹیگور نے اس ادارے کو محض ایک مقامی اسکول نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مرکز
بنانا چاہا جہاں دنیا بھر سے مختلف علوم و فنون کے دلدادہ افراد آئیں اور
تبادلہ خیال کریں۔ اسی لیے انہوں نے اس کا نام "وشو بھارتی" رکھا، جس کا
سنسکرت مفہوم ہے: "جہاں پوری دنیا ایک گھر بن جائے" (یتر وشوم بھوتی ایک نیڈم)۔
شانتی نکیتن کا مقصد محض کتابی علم کی منتقلی نہیں بلکہ بنگالی اور ہندوستانی
ثقافت کا ہمہ گیر احیاء تھا:
ٹیگور چاہتے تھے کہ یہاں موسموں کے قدرتی تہوار منائے جائیں (جیسے بسنت اتسو
/ ہولی اور ورشا منگل) اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی، رقص اور مصوری کو فروغ
دیا جائے۔
انہوں نے قریب کے دیہاتوں کے غریب کسانوں اور محنت کشوں کو تعلیم دینے اور
مختلف ہنر سکھانے کا انتظام کیا تاکہ وہ معاشی طور پر خود کفیل بن سکیں۔ (اسی
فکر کے تحت بعد میں 'سرینیکیتن' کا ادارہ قائم ہوا)۔
شانتی نکیتن کا ماحول قدیم اور جدید فنِ تعمیر کا ایک حسين امتزاج ہے۔ یہاں
کی دیواروں پر دیہاتی اور قبائلی (سانتھال) فن پاروں کے نمونے نظر آتے ہیں۔
یہاں کی خاموشی، کھلے میدان، اور سرسبز درخت ٹیگور کے اس بنیادی فلسفے کی
عکاسی کرتے ہیں کہ: "انسان جتنا قدرت کے قریب ہوگا، اتنا ہی حقیقت کے قریب
ہوگا۔"
شانتی نکیتن کا بنیادی پس منظر "سادگی میں بلندی" کا فلسفہ ہے۔ یہ ایک ایسی
مقدس جگہ تھی جہاں امیر اور غریب، مقامی اور غیر ملکی، سبھی تعصبات سے بالاتر
ہو کر ایک ہی دھاگے میں پروئے جاتے تھے۔ یہ جگہ ٹیگور کی شاعری، ان کے تعلیمی
فلسفے اور ان کے آفاقی خوابوں کا ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے۔
آخری ایام اور وفات
رابندر ناتھ ٹیگور کی زندگی کا آخری حصہ شدید جسمانی عوارض اور بیماریوں سے
گھرا رہا، لیکن ان کا تخلیقی سفر اور علمی لگن آخری سانس تک جاری رہی۔ 1937ء
کے بعد ان کی صحت تیزی سے گرنے لگی اور وہ اکثر بے ہوشی کی حالت میں چلے جاتے۔
تاہم اس جسمانی نقاہت کے باوجود انہوں نے شعر گوئی اور مضامین کا سلسلہ منقطع
نہیں کیا۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں انہوں نے انسانیت اور عالمی حالات پر
گہرے فکر انگیز مضامین لکھے، جن میں ان کا مشہور خطبہ "تہذیب کا بحران"
(Sabhyatar Sankat) انتہائی اہم ہے جو انہوں نے اپنی 80ویں سالگرہ کے موقع پر
پیش کیا تھا۔1941ء میں ان کی بیماری کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا اور انہیں
شانتی نکیتن سے کولکتہ کے ان کے آبائی مکان 'جوڑاسانکو' (Jorasanko
Thakurbari) لایا گیا تاکہ وہاں ان کا علاج کیا جا سکے۔
بالآخر 7 اگست 1941ء (بمطابق 22 شرابن 1348 بنگالی سال) کو 80 سال کی عمر میں
ادب، تعلیم، موسیقی اور فلسفے کا یہ آفتابِ عالم تاب کولکتہ میں ہمیشہ کے لیے
غروب ہو گیا۔ ان کی وفات پر پوری دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی اور لاکھوں افراد
نے اپنے اس عظیم رہنما اور شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اگرچہ وہ جسمانی طور
پر اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن 'وشو بھارتی' یونیورسٹی اور ان کا لازوال
ادبی سرمایۂ فکر ان کی لازوال یادگار کے طور پر آج بھی زندہ و جاوید ہے۔
تحریر: محمد ہاشم القاسمی
خادم دارالعلوم پاڑا، ضلع پرولیا، مغربی بنگال
موبائل 9933598528
تبصرے (0)
شائع کردہ
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس
صحافی ستیم مشرا پر حملہ کرنے والوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے - سراج احمد قریشی
👁 72 ویوز
नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान
👁 47 ویوز
पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय
👁 42 ویوز
والدین کی تربیت: اولاد کے لیے دنیا و آخرت میں رفعت و کامیابی کا عظیم الشان زینہ ہے
👁 37 ویوز
ترنمول کانگرس کی شکست کے اسباب!
👁 33 ویوز