تازہ ترین
• جنتر منتر احتجاج کی منسوخی پر ملت میں مایوسی • ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کے شعری مجموعے ’’دل مضراب‘‘ کا اجرا • ترنمول کانگرس کی شکست کے اسباب! • غوث اعظم سید الاولیاء رضی اللہ عنہ:علم و عرفان کے تاجدار اور اصلاح امت کے عظیم پیشوا • جمعہ مسلمانوں کے لیے عید کیوں ہے؟ • حضرت غوث الاعظم کی زندگی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ: مفتی غلام حسین ثقافی • حضرت سیدنا قادر قمیص رحمتہ اللہ علیہ کا عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا • ہم اپنی نسلوں کے روشن مستقبل کی نئی تاریخ رقم کریں گے:مولانا غلام رسول بلیاوی • شعبہ خواتین جماعتِ اسلامی ہند، شہرعظیم تر حیدرآبادکے زیر اہتمام”سیرت حضرت محمد ﷺ — امن و انصاف کی علامت“ کے عنوان پر خصوصی نشست • Dyy gds gfx

ہم اپنی نسلوں کے روشن مستقبل کی نئی تاریخ رقم کریں گے:مولانا غلام رسول بلیاوی

ادارہ شرعیہ قادری 40 کی پہلی مشاورتی نشست میں علماء، وکلا، پروفیسران و دانشوران کی بھرپور شرکت

بہار و بنگال 📅 27-09-2026 👁 5 views 💬 0 comments 🔁 0 shares

مندوبین و شرکائے نشست کا قادری 40 کے تعلیمی منصوبے کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کا عزم




پٹنہ،
ادارہ شرعیہ کے استاذ غلام رسول اسماعیلی نے پریس ریلیز رپورٹنگ بیان میں کہاکہ مؤرخہ 27 ستمبر: مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ کے زیر اہتمام ’’قادری 40‘‘ کے حوالے سے پہلی اہم مشاورتی نشست مرکزی ادارہ شرعیہ کے صدرغازی ملت مولانا غلام رسول بلیاوی سابق رکن پارلیمنٹ و چیئرمین اقلیتی کمیشن بہار، کی صدارت میں رئیس القلم سیمنار ہال میں منعقد ہوئی۔ نشست میں علماء، وکلا، پروفیسران، ماہرین تعلیم، اسکالرز اور دانشوران نے شرکت کی اور قادری 40 کے اغراض و مقاصد، تعلیمی ضرورت، عملی منصوبہ بندی اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔
تلاوت قران پاک اور نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محفل کا اغاز ہوا۔
نشست سے خطاب کرتے ہوئے غازی ملت مولانا غلام رسول بلیاوی نے کہا کہ موجودہ دور کے چیلنجز سے ہر شخص واقف ہے۔ ایسے حالات میں قوم و ملت کے مستقبل کو محفوظ اور تابناک بنانے کے لیے مضبوط، دور رس اور نتیجہ خیز لائحۂ عمل اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مدارس اسلامیہ سے ہر سال بڑی تعداد میں طلبہ دینی تعلیم مکمل کرکے فارغ ہوتے ہیں، مگر ان کے لیے عصری اور اعلی پیشہ ورانہ تعلیم کے دروازے محدود رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح مسلم معاشرے کے بے شمار باصلاحیت بچے وسائل اور مناسب رہنمائی نہ ملنے کے باعث اعلی تعلیم کے مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہی ضرورتوں کو محسوس کرتے ہوئے مرکزی ادارہ شرعیہ نے ’’قادری 40‘‘ کے نام سے ایک ایسا تعلیمی منصوبہ شروع کرنے کا عزم کیا ہے، جس کے ذریعے مدارس کے فارغین اور مسلم طلبہ کو NEET، JEE، NEST، IAT، BPSC جیسے اعلی سطح کے مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے معیاری تعلیم، رہنمائی، رہائش اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ہمارا مقصد صرف چند طلبہ کو امتحان کے لیے تیار کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسی نسل تیار کرنا ہے جو علم، کردار اور صلاحیت کے ساتھ ملک و ملت کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرسکے اوردنیاو اخرت کامیابی کے سامان مہیا کر سکے۔
غازی ملت نے قادری 40 کے پس منظر، ضرورت، اغراض و مقاصد اور مستقبل کے منصوبے پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو کامیابی سے زمین پر اتارنے کے لیے اہل علم، ماہرین تعلیم، دانشوران، اہل ثروت اور قوم کے تمام طبقات کو آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے تمام مندوبین اور شرکائے نشست سے قادری 40 کے سلسلے میں اپنی آرا، تجاویز اور عملی تعاون پیش کرنے کی اپیل کی۔
نشست کے کوآرڈینیٹر جناب یعقوب اشرفی نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے تمام شرکاء کو اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ ہر مقرر کی گفتگو کے بعد انہوں نے اپنی قیمتی آرا پیش کیں اور قادری 40 کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
سابق رکن بہار پبلک سروس کمیشن جناب امتیاز کریمی نے قادری 40 کو مرکزی ادارہ شرعیہ کی ایک مضبوط، مستحکم اور دور رس تعلیمی کاوش قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلبہ میں ذہانت، صلاحیت اور اخلاقی تربیت کی کوئی کمی نہیں ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں درست سمت، معیاری رہنمائی اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر مدارس کے فارغین ڈاکٹر، انجینئر، افسر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین بنیں تو وہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ صحیح گائیڈنس ملنے کی صورت میں ان بچوں کا مستقبل نہایت روشن ہوسکتا ہے۔
قاضی شریعت ڈاکٹر امجد رضا امجد نے کہا کہ موجودہ دور میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی ناگزیر ہوچکی ہے۔ ہمیں اپنے طلبہ کو اس معیار تک تعلیم دینی ہوگی کہ وہ ملک کی ضرورت بن جائیں۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جسے ملازمت تلاش کرنے کی ضرورت نہ پڑے بلکہ اس کی علمی و فنی صلاحیتوں کی وجہ سے ادارے اور شعبے خود اس کے محتاج ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قادری 40 اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
ڈاکٹر سجاد عالم نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کے طلبہ زندگی کے ہر اہم شعبے میں اپنی موجودگی درج کرائیں۔ انہوں نے زبانوں کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے بچوں کو مختلف زبانوں سے واقفیت حاصل ہوجائے تو وہ عالمی سطح پر اپنی دینی، علمی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو زیادہ مؤثر انداز میں عام کرسکتے ہیں۔ موجودہ دور میں عالمی سطح کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے زبان اور جدید علوم پر عبور انتہائی ضروری ہے۔
سید فیض احمد قادری نے کہا کہ ہماری قوم کے پاس صلاحیت اور ذہانت کی کمی نہیں، اصل مسئلہ وسائل کی کمی ہے۔ مالی وسائل کی کمزوری کے باعث بہت سے باصلاحیت بچے اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی ادارہ شرعیہ نے قادری 40 کے ذریعے جو قدم اٹھایا ہے، اس نوعیت کی کوششوں میں قوم کے اہل خیر اور صاحبِ استطاعت افراد کو بھرپور تعاون کرنا چاہیے، تاکہ کسی باصلاحیت بچے کا مستقبل محض وسائل کی کمی کی وجہ سے تاریک نہ ہو۔
شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین جناب ارشاد اللہ ارشاد علی آزاد نے قادری 40 کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ اس منصوبے کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادری 40 سے جڑ کر ہم بھی اپنی قوم و ملت کے مستقبل کی ایک نئی عبارت لکھنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
ادارۂ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلی مولانا قطب الدین رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرکزی ادارۂ شرعیہ وہ عظیم علمی و ملی ادارہ ہے جسے رئیس القلم علامہ ارشد القادری نے قائم فرمایا تھا۔ اس ادارے نے ہر دور میں وقت کے تقاضوں اور بدلتے ہوئے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قوم و ملت کی رہنمائی اور خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اس وقت ہماری نئی نسل کے تعلیمی و معاشی مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے، ایسے وقت میں مرکزی ادارۂ شرعیہ کی جانب سے قادری 40 کا قیام ایک اہم اور قابل تحسین پیش رفت ہے۔
مولانا قطب الدین رضوی نے قادری 40 کے قیام کی بھرپور تحسین کرتے ہوئے کہا کہ ادارۂ شرعیہ نے مستقبل کے تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے اپنی نئی نسل کے لیے ایک مضبوط تعلیمی راستہ ہموار کرنے کا عزم کیا ہے۔
نشست میں شریک ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی،مولانا قمر الزماں سمیت دیگر متعدد اسکالرز، پروفیسران، ماہرین تعلیم اور دانشوران نے بھی اپنے قیمتی مشوروں اور تجاویز سے نوازا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ قادری 40 کو محض ایک تعلیمی ادارے کے طور پر نہیں بلکہ مدارس اور مسلم معاشرے کے باصلاحیت طلبہ کے لیے اعلی تعلیم کے ایک مضبوط پلیٹ فارم کے طور پر آگے بڑھایا جائے، جہاں دینی اقدار کے ساتھ جدید علوم اور پیشہ ورانہ تعلیم کا حسین امتزاج قائم ہو۔
تمام مندوبین اور شرکائے نشست نے اس عظیم منصوبہ کی تائید و حمایت کرتے ہوئے زمین پر اتارنے کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
اس موقع پر قادری 40 کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عارف عطاری نے پروجیکٹر کے ذریعے قادری 40 کے مکمل منصوبہ، تعلیمی خاکہ، مستقبل کے اہداف، امتحانات کی تیاری، رہائش و دیگر سہولیات،قادری 40 کی امتیازی خصوصیات اور عملی پروگرام کا تفصیلی پریزنٹیشن پیش کیا۔ پریزنٹیشن کے دوران شرکاء نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا بغور مشاہدہ کیا اور اس کے جامع تعلیمی خاکے کو سراہا۔
شرکائے نشست نے ڈاکٹر عارف عطاری اور ان کی ٹیم کی محنت، منصوبہ بندی اور تعلیمی وژن کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا اور قادری 40 کو کامیاب بنانے کے لیے اجتماعی تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔
نشست کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قادری 40 کو ایک مضبوط اور مثالی تعلیمی منصوبے کی شکل دی جائے گی، تاکہ مدارس اور مسلم معاشرے کے باصلاحیت طلبہ کو NEET، JEE، NEST، IAT، BPSC اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لیے معیاری تیاری کا موقع مل سکے اور وہ ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے قوم و ملت کی خدمت کرسکیں۔
آخیر میں غازی ملت مولانا غلام رسول بلیاوی نے اپنے صدارتی کلمات میں تمام مندوبین اور شرکائے نشست کی آرا، تجاویز اور مشوروں کی روشنی میں قادری 40 کے حوالے سے اپنے دلی جذبات اور آئندہ کے لائحۂ عمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم تعلیمی منصوبے کو محض گفتگو اور مشاورت تک محدود نہیں رکھا جائے گا،بلکہ اسے عملی شکل دینے کے لیے منظم اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے قادری 40 کو عملی طور پر زمین پر اتارنے کے لیے نصابی کمیٹی، سلیکشن کمیٹی، فنڈنگ کمیٹی سمیت دیگر ضروری کمیٹیوں کی تشکیل دیئے جانے کا اعلان کیا اور کہا کہ تمام کمیٹیاں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالتے ہوئے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قادری 40 کو ایک مضبوط، منظم اور نتیجہ خیز تعلیمی منصوبے کی شکل دینے کے لیے عنقریب عملی کارروائی شروع کردی جائے گی۔
غازی ملت نے تمام علماء، ماہرین تعلیم، دانشوران، اہل ثروت اور ملت کے تمام مخلص افراد کاپر خلوص شکریہ ادا کیااوراس مشن میں بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک ادارے یا چند افراد کا منصوبہ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے تعلیمی اور روشن مستقبل کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
قاضی شریعت پورنیہ حضرت مفتی زبیر صاحب کی دعاکے ساتھ یہ اہم مشاورتی نشست اختتام پذیر ہوئی اور ظہرانہ پیش کیا گیا۔
نشست کو کامیاب بنانے میں ادارہ شرعیہ کے اساتذہ اور دیگر کارکنان مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد، مفتی غلام حسین ثقافی، ڈاکٹر مفتی غلام اختر رضا نوری، مفتی غلام سرور مصباحی،مفتی عبدالباسط مصباحی، مفتی وسیم اختر، مولانا راشدحسین ،مفتی غلام رسول اسماعیلی،مولانا ماسٹر غلام سرور پورنوی، ماسٹر شمشاد وصی، مولانا قاری اکمل حسین نعیمی،مولانا شان محمد رضوی، حافظ اسلم رضا،حافظ آصف رضا،حافظ مسعود،جناب صدرالدن اور جماعت فضیلت، سادسہ، خامسہ اوررابعہ کے طلباء نے اہم کردار ادا کیا۔

Reaction dein (0)

Share karein (0)

WhatsApp Facebook X

Comments (0)

पोस्ट के लेखक

✍️ Active Reporter ★★★★★
M

Mohd Shuaib Raza

📍 Gorakhpur

📰 10 posts 👁 47 views 📊 4.7 avg/post

News Home ke reporter

Isi Category Me Aur

ڈاکٹر توقیر عالم توقیر کے شعری مجموعے ’’دل مضراب‘‘ کا اجرا

حضرت غوث الاعظم کی زندگی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ: مفتی غلام حسین ثقافی

حضرت سیدنا قادر قمیص رحمتہ اللہ علیہ کا عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

Popular Posts

पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय

👁 40 views

नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान

👁 40 views

भारी बारिश के चलते गोरखपुर में 26 सितंबर को कक्षा 1 से 12 तक के सभी स्कूल बंद

👁 15 views

सहारनपुर और बाराबंकी के बाद अब इटावा - सैयद बाबा मजार पर चला बुलडोजर, वक्फ बोर्ड खामोश?

👁 14 views

नगर पंचायत इटवा बनी ‘नरक पंचायत’! राजपूत डीहवा रोड पर जलजमाव से ग्रामीण परेशान

👁 14 views