ہمیشہ تبلیغ دین اور اصلاح امت کی ضرورت
اللہ تعالی عزوجل نے اپنے بندوں پر احسان جتایا کہ ہم نے تمہاری ہدایت کے لئے اپنے آخری نبی ورسول(علیہ الصلاۃ والسلام)کو مبعوث فرما دیا،یعنی ان کی تعلیمات پر عمل کرو اور دنیا و آخرت کی نعمتوں کے مستحق بن جاو۔
اس آخری نبی ورسول علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ علمائے دین حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے وارث ہیں۔اس کا واضح مفہوم ہے کہ ہر عہد میں تبلیغ دین اور اصلاح امت کی ضرورت ہو گی اور علمائے اسلام تبلیغ دین اور امت مسلمہ کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔
سیاسی لیڈروں کی نظر اپنے ووٹروں پر رہتی ہے۔وہ عوام سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے اور ان کو خوش رکھنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں،مثلا جھوٹے وعدے کرنا،مخالف پارٹیوں کے اُمیدواروں کے خلاف الزام تراشی کرنا،اپنی چھوٹے کاموں کو عظیم کارنامہ بنا کر پیش کرنا،یہاں تک کہ کفریات کے ارتکاب سے بھی پرہیز نہیں کرتے۔بسا اوقات مسلم سیاسی لیڈر بھی مندر میں چلا جاتا ہے،ٹیکے لگا لیتا ہے۔بتوں کے آگے جھک جاتا ہے۔ہولی اور دیوالی مناتا ہے۔یہ سب باتیں جگ ظاہر ہیں۔
اسی طرح پندرہویں صدی ہجری کے بعض مذہبی رہنماؤں کی نظر بھی اپنے عقیدت مندوں پر ہوتی پے۔وہ اپنا دائرۂ عقیدت وسیع کرنے کے لئے کچھ ایسے کام بھی کر جاتے ہیں جو شرعاً درست نہیں ہیں،حالاں کہ مذہبی رہنماؤں کا رخ اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی طرف ہونا چاہئے،کیوں کہ وہ دین خداوندی اور شرع مصطفوی کی ہی تبلیغ واشاعت اور ترویج و فروغ کے واسطے خود کو وقف کئے ہوئے ہیں۔
مریدین و معتقدین اور محبین ومنتسبین کو مطمح نظر بنا لینا دین ومذہب کے لئے تباہ کن ہے۔رہنما کا رخ عوام کی طرف ہو گا تو عوام کا رخ بھی خدا کی طرف نہیں ہو سکتا۔اپ کے معتقد بھی اپنے لئے کچھ معتقد تلاش کریں گے اور ان کے درمیان عزت وعظمت کے خواہاں ہوں گے۔یہی نفس امارہ کا تقاضا ہے اور آپ دین خداوندی کے مبلغ ہیں،نہ کہ تسکین نفس کا نسخہ فراہم کرنے والے مدبر۔
عوام مسلمین اور علمائے دین دونوں کا رخ اللہ ورسول(عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی طرف ہونا چاہئے،جیسے نماز میں امام و مقتدی سب کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا ہے۔ہر خاص وعام اپنی توجہ اللہ ورسول(عزو جل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی طرف رکھے،تاکہ دلوں میں طاعت الہی اور محبت نبوی کا جذبہ بیدار رہے۔کسی کو اپنا مطمح نظر بنا لینا نقصان دہ ہے۔
تحریر: طارق انور مصباحی
جاری کردہ:01:اکتوبر 2026
— via Telegram: News Home
تبصرے (0)
شائع کردہ
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس
صحافی ستیم مشرا پر حملہ کرنے والوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے - سراج احمد قریشی
👁 72 ویوز
नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान
👁 47 ویوز
पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय
👁 42 ویوز
والدین کی تربیت: اولاد کے لیے دنیا و آخرت میں رفعت و کامیابی کا عظیم الشان زینہ ہے
👁 37 ویوز
رویندر ناتھ ٹھاکر اور 'وشو بھارتی' یونیورسٹی
👁 34 ویوز