تازہ ترین
• ہمیشہ تبلیغ دین اور اصلاح امت کی ضرورت • Testing 222222 • DHARNA SIR PN 01-10-2026 • HIFZ (JDH) PN WITH PHOTO • PN URDU & ENGLISH IICD 01-10-2026 • والدین کی تربیت: اولاد کے لیے دنیا و آخرت میں رفعت و کامیابی کا عظیم الشان زینہ ہے • شاہد محمود پوری نہیں رہے: ویشالی نے ایک مخلص معلم، بے لوث خادم اور اردو کے سچے سپاہی کو کھو دیا • Article Maulana Abdul Hafeez Sb • رویندر ناتھ ٹھاکر اور 'وشو بھارتی' یونیورسٹی • محمود آباد میں 91واں تاریخی جلوسِ محمدی و مدحِ صحابہ شان و شوکت کے ساتھ اختتام پذیر

Article Maulana Abdul Hafeez Sb

📅 01-10-2026 👁 3 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
PostMail

سورۂ مُطَفِّفیِنْ:ایک مختصرتعارف
محمد عبدالحفیظ اسلامی خطیب مسجد صالحہ قاسمؒ و سینئر کالم نگار
9849099228

قرآن حکیم کی 83 ویں سورۃ ’’المطففین‘‘مکی دور کی ابتدائی سورتوں میں شامل
ہےاوراس کا موضوع بھی آخرت ہے۔اس سے قبل کی دو سورتوں کا موضوع بھی آخرت کے
متعلق ہی ہے اور سورۃ مطففین کے بعد سورہ انشقاق میں بھی قیامت اورآخرت کا
ذکر آیا ہے۔اس طرح آخرت کے موضوع پرایک سلسلہ چل رہا ہے لیکن درمیان میں
اچانک’’مطففین‘‘ ڈنڈی مارنے والوں کا ذکر چھیڑ دیا گیا، جو بظاہر بے ربط معلوم
ہوتا ہے ،مگرحقیقت تو یہ ہے کہ ان دونوں میں گہراتعلق ہے۔چنانچہ ابتدائ آیات
میں لوگوں کو اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا کہ معاشرے میں ناپ تول کے معاملہ
میں جو خرابی پائی جاتی ہے(یاد رہے کہ اہل مکہ کے شب روز کے اعمال میں بے شمار
خرابیاں موجود تھیں!) اس کی اصل وجہ کیاہے؟ اس کی طرف نشاندہی کردی گئی۔کیونکہ
معاشرے میں اس چیز کی قباحت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا تھا۔اس طرح سماج میں
پھیلی اس بے ایمانی کو بطور مثال پیش فرماتے ہوئے اس برے عمل پر گرفت فرمائی
گئی،کیونکہ کاروباری لوگ جب دوسروں سے کچھ خریدتے توپورا پوراناپ تول کرلیتے
اور جب فروخت کرنے کا معاملہ ہوتاتو اس میں کمی کردیتے، لوگوں کوگھاٹے میں
ڈال دیتے،اس طرح یہ ڈنڈی مارنےکےعادی ہوچکے٫ ان لوگوں میں یہ قبیح عمل کیوں
پایا جارہا ہے اس کی طرف نشاندہی فرماتے ہوئے بتلایا گیا کہ یہ لوگ اپنے رب کے
سامنے جوابدہی سے بالکل غافل ہوچکے، اگر ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے کہ
اللہ تعالیٰ ہم سے ایک ایک پائی کا حساب لےگا تو پھر ان کے اندر سے یہ بیماری
نکل جائےگی۔ مکہ کے اس ماحول میں یہ بتلانا مقصود ہےکہ تمہارا قبیح عمل آخرت
سے غفلت کا لازمی نتیجہ ہے،حقیقت تو یہ ہے کہ آدمی کو مستقل طور پر کوئ چیز
دیانت داری کی طرف گامزن رکھ سکتی ہےاور کوئ مضبوط فکر اس حسن عمل پر قائم رکھ
سکتی ہے تو صرف اور صرف آخرت پر یقین ہی سے ممکن ہے۔ علامہ پیر محمد
کرم شاہؒ اپنی تفسیرمیں لکھتے ہیں
کہ”اصلاح معاشرہ کے لئے آخرت پر ایمان جو موثر کردار انجام دیتا ہے وہ محتاج
بیان نہیں ۔جو لوگ روزجزاءپریقین رکھتے ہیں ان کی بظاہرنگرانی نہ بھی کی جاے
تو وہ راستی دیانتداری کی راہ پر ثابت قدمی سےبڑھتےچلے جائیں گے۔کوئ لالچ
اورکوئ خوف انہیں جاده حق سے منحرف نہیں کرسکتا۔ لیکن وہ معاشرہ جس کے افراد
قیامت پریقین نہیں رکھتے
ان میں طرح طرح کی خرابیاں بڑی آسانی سے راہ پالیتی ہیں۔ تھوڑا سا خوف تھوڑا
سا لالچ انہیں راہ راست سے بھٹکانے کے لئے کافی ہے ۔ اہل مکہ چونکہ عام طور پر
تجارت پیشہ تھے اس لیے لین دین میں ڈنڈی مارنا ان کے ہاں عام مروج تھا__ اس
لئے کفار مکہ کو وقوع قیامت کی ضرورت اورحکمت پر غور کرنے کے لئے اس سورت میں
جو دعوت دی جارہی ہے۔اس کی ابتداء”ویل للمطففین“ سے کی اور انہیں بتایا کہ اگر
وہ اس خسیس حرکت سے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہوتو اس کی
یہی ایک صورت ہے کہ وہ قیامت پر ایمان لے آئیں__ !(ضیاءالقرآن جلد پنجم صفحہ
513) اس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابتدائی 3 آیات کریمہ میں معاشرتی اخلاق
کا تعلق عقیدہ آخرت سے جوڑتےہوئےآخرت کی اہمیت اور اس کی ضرورت کی طرف
لوگوں کو متوجہ فرمایاتاکہ لوگ جان جائیں کہ معاشرتی بگاڑ بداخلاقی کا تدارک
عقیدہ آخرت و فکر آخرت کے بغیر ناممکن ہے جس کی تعلیم اللہ نے اپنے رسول
برحق صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پہنچارہا ہے۔ آیت 4 ، 5 اور 6 میں یہ بتلا
دیا گیا کہ جس بڑے دن کے آنے سے قبل تمہیں جو آگاہ کیا جارہا ہے کیا یہ حقیقت
تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی؟ ،اس بڑے دن سب لوگ (اللہ کی عدالت میں بیک وقت)
اٹھا کرلائے جائیں گے۔( ہاں خوب یاد رہے کہ) اس دن سب لوگ رب العٰلمین کے
سامنے کھڑے ہوں گے۔ چنانچہ اس اہم چیز سے خبردار کردیا گیا ۔ آگے آیات 7 تا
17 میں بدکار لوگوں سے متعلق فرمایا گیا ”سن رکھو کہ بدکاروں کے اعمال سجین
میں ہیں“یعنی جولوگ بُرے اعمال دنیا میں کررہے ہیں ان کا شمار جرائم پیشہ
لوگوں کے رجسٹر میں درج کیا جارہا ہے۔ آیت7کے بارے
میں مولاناامین احسن اصلاحیؒ اس کی مختصر وجامع تشریح فرمائ، وہ لکھتے ہیں
کہ،
كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ
ہرگزنہیں،فاجروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔ مخاطبوں کےزعم کی تردید (میں
فرمایا)
’کَلَّا‘مخاطبوں کے اس زعم باطل کی تردیدکےلیے بطور زجر آیا ہے جس کا اشارہ
اوپر والی آیت میں موجود ہے۔ یعنی وہ اس فکر سے بالکل نچنت ہیں کہ ان کے سامنے
حساب کتاب اور جزا و سزا کا کوئی مرحلہ آنےوالا ہے جس میں نیکوں اوربدوں کے
درمیان اللہ تعالیٰ فرق کرے گا بلکہ وہ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اول تو کوئی
دن آنا نہیں ہے اور آیا بھی تو وہ اپنی خاندانی وجاہت اور اپنے دیوتاؤں کی
بدولت وہاں بھی اس سے زیادہ عیش لوٹیں گے جو عیش یہاں لوٹ رہےہیں۔ان کو مخاطب
کر کے فرمایا کہ ہرگز نہیں، اس قسم کےطفلانہ خیالات میں اپنی عاقبت برباد نہ
کرو۔اس دن ابرار اور فجار میں مشرق و مغرب کی دوری ہو گی۔ ’فُجَّار‘ کے اعمال
نامے ’سجین‘ میں ہوں گے اور ابرار کا ذکر آگے آ رہاہےکہ ان کے اعمال نامے
’عِلّییّن‘ میں ہوں گے۔
(تدبر قرآن)
آیت 8 میں وما ادرک ماسجین آیا ہے، شیخ الھندؒ اسکا ترجمہ یہ فرمایا ” اور
تجھ کو کیا خبر ہے کیا ہے سجین“عبدالماجد دریابادیؒ اس کا ترجمہ یوں کیا” اور
آپ کو کیا خبر کہ سجین ( والا نامہ عمل) ہے کیا چیز ؟“ مولانا سید مودودیؒ
اسکی ترجمانی اس طرح فرمائ ”اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ قید خانے کا دفتر کیا
ہے؟“۔ آیت 9 میں ان الفاظ کے ساتھ واضح کیا کہ ”کِتٰبُٗ مَرقُومُٗ“
مفتی محمدشفیع صاحبؒ
لکھتےہیں،كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ :ایک دفتر ہے لکھا ہوا۔
كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ، مرقوم کے معنے اس جگہ مختوم کے ہیں۔ یعنی مہر لگی ہوئی۔
امام بغوی اور ابن کثیر نے فرمایاکہ یہ جملہ مقام سجین کی تفسیر نہیں، بلکہ اس
سے پہلے جو کتب الفجار آیا ہے اس کا بیان ہے، معنے یہ ہیں کہ کفار و فجار کے
اعمالنامے مہر لگا کر محفوظ کردئے جاویں گے کہ ان میں کسی کمی بیشی اور تغیر
کا امکان نہ رہےگااوران کے محفوظ کرنےکی جگہ سجین ہے یہیں کفارکی ارواح کو جمع
کردیا جائے گا۔ (معارف القرآن)
علاوہ ازیں آخرت کو جھٹلانے والے لوگ آخرت کی زندگی میں کس طرح جہنم کے
حوالے ہوں گے اس کا نقشہ پیش کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کی یہ خصوصیت ہے کہ
جہاں پر مجرمین اوربدکردار لوگوں کا ذکر کرتے ہوئےان کے انجام کو واضح کیا
جاتا ہے تاکہ اسے جان کر لوگوں کے اندر تبدیلی پیدا ہو،بغاوت کی روش چھوڑ کر
اطاعت و فرمانبرداری کی روش اختیار کی جانے لگے۔ وہیں پر نیکو کار خوش نصیب
بندوں کا بھی ذکر خیر ہوتا ہے۔لہذا آیت کریمہ 18تا 28 میں ان نیک بخت بندوں
کا ذکرخیر ہواکہ یہ کس طرح خوش خرم ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ان کی کیسی بہترین
قدر دانی کرے گا اور ان پر کس کس قسم کی نوازش ہوگی اور یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے
لیے کیسے مزے حاصل کریں گے اس کی تفصیل بیان فرمائی گئی۔۔۔ آیت کریمہ29 تا
ختم سورۃ کوسمجھنےکےلئے اس وقت کےحالات پربھی ہماری نظر ہونی چاہئےتاکہ آیات
کریمہ کوسمجھنے میں آسانی ہو۔ اللہ تعالیٰ کے حکم و منشاء کے عین مطابق داعی
حق آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم دعوت اسلام دینا شروع فرماتے ہیں،توحید باری
تعالیٰ اور رسالت محمدی کےساتھ ساتھ عقیدہ آخرت کی بات بھی نبیؐ کی دعوت میں
شامل رہتی ہے۔جس کےجواب میں مشرکین مکہ کے اندر کھلبلی مچ جاتی ہے اور یہ لوگ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پر کمر باندھ لیتے ہیں۔ سورۃ ’’مطففین‘‘جب
نازل ہوئ اس وقت تک مخالفت عیاں ہوچکی تھی مگر مسلمانوں پروہ ظلم و ستم شروع
نہیں ہوا تھا جو بعد کے سالوں میں ہوا ہے، لیکن کفارو مشرکین اپنی حرکت و زبان
سے مسلمانوں کو دکھ دیا کرتے تھے بازاروں میں اوردیگر مقامات پر جہاں بھی موقع
ہاتھ آے مسلمانوں کو چڑانے اور ان کامذاق اُڑانے میں لگے رہتے توہین
آمیزطریقہ اختیار کرچکے تھے۔ایسے موقع پر اللہ تبارک تعالیٰ اہل ایمان کو
تسلی دینے اور کفار کو خبردار کرنے کے لئے ایسا اندازاختیار فرمایا جس میں
کفار کیلئے درس عبرت اور اہل ایمان کیلئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ہے۔ اس
سلسلہ میں اہم باتیں یہ ارشاد فرمائی گئیں کہ
مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانےوالوں کامذاق اُڑاتے تھےجب ان کے پاس سے گزرتے تو
آنکھیں مار مار کر ان کی طرف اشارے کرتے تھے ، اپنے گھروں کو جب پلٹتے تو بڑے
مزے لے لے کر پلٹتے تھے( تو دل میں اور زبان سے کہتے کہ آج تو بڑا مزہ آگیا
کہ فلاں مسلمان کا میں نے خوب مذاق اُڑایا۔۔۔) اورمسلمانوں کو دیکھتے تو
کہتےتھےکہ اِنَّ ھٰؤُلَائِ لَضَالُّوْنَ یہ (مسلمان) بہکے ہوئے لوگ ہیں ،
یعنی اپنے آبائی دین کو چھوڑ بیٹھے اور اپنے خاندانی معبودوں سے قطع تعلق
کرچکے، مسلمانوں کے ساتھ منکرین حق کے اس طرز عمل کو بیان کرنے کے بعد روز
قیامت میں ان مجرمین کاجوحشر ہوگا اسے بھی واضح کردیا گیا، چنانچہ اس سلسلہ
میں یہ بتلایا کہ دنیا میں یہ لوگ مسلمانوں کامذاق اُڑایا کرتےتھےلیکن آج
(یوم حساب) یہی مذاق اُڑانے والےاپنے کیفرکردارکو پہنچ کررہیں گے اور اہل
ایمان ان کی حالت پر ہنس رہے ہوں گے اورجہنم میں جلنے والے ان کافروں ( منکرین
حق ) کاحال دیکھ کر ہی دل میں یہ کہیں گے۔ ”ھَلْ ثُوِّبَ الْکُفَّارُ
مَاکَانُوْا یَفْعَلُوْنَ“
مل گیانا کافروں (انکار حق کرنے والوں)کو ان حرکتوں کاثواب جووہ کیا کرتےتھے۔
تفسیر ابن عباسؓ میں اس تشریح یوں ہے،”اور جو مشرک تھے یعنی ابو جہل وغیرہ
وہی ایمان والوں یعنی حضرت علی پر ہنسا کرتےتھےاورجب ایمانداروں کا حضور کے
پاس آنے کے لیے ان پر سے گزر ہوتا تھا تو آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے
اور جب یہ کافراپنےگھروں کو جاتے تھےتو اپنے شرک پر خوشی (مناتے)اورمسلمانوں
کا مذاق اڑایا کرتےتھےاور صحابہ کرام کو دیکھ کر یہ کافر(انکار کی روش پر
چلنے والے لوگ ) کہاکرتے تھے کہ یہ لوگ گمراہ ہیں۔حالانکہ یہ کافر (منکرین)
مسلمانوں پراورانکے اعمال پر نگراں نہیں بھیجے گئے، سوآج قیامت کے دن ایمان
والے کافروں (جھٹلانے والوں) پر ہنستے ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے کافروں کا حال
دیکھ رہے ہوں گے، واقعی کافروں کو آخرت میں ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا
پورا پورا بدلہ ملا۔“(اردو ترجمہ ومرتب حافظ محمد سعیداحمد عاطف حفظہ اللہ)

مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ اس آیت کی تشریح میں لکھتے
ہیں۔اس فقرے میں ایک لطیف طنز ہے۔ چونکہ وہ کفار ثواب سمجھ کر مومنوں کو تنگ
کرتے تھے، اس لیے فرمایا گیا کہ آخرت میں مومن جنت میں مزے سے بیٹھے ہوئے جہنم
میں جلنے والے ان کافروں کا حال دیکھیں گے اور اپنے دلوں میں کہیں گے کہ خوب
ثواب انہیں ان کے اعمال کا مل گیا۔ (تفہیم القرآن)
علامہ ابوالبرکات رحمہ اللہ متوفی 710ھ لکھتے ہیں
”(کافروں کو ان کے کیے کا خوب بدلہ ملا)ان کے ایمان والوں کے ساتھ استہزاء
کرنے کا آج یہ بدلہ جس کا
ذکر ہوا۔“(تفسیر مدراک التنزیل ترجمہ:فتح محمد جالندھریؒ)۔
(حاصل کلام)
ان آیات میں منکرین حق کو انتباہ ہے کہ غور فکر سے کام لو گے تو دنیا و آخرت
میں بھلائ پاؤ گے! دوسری طرف اہل ایمان کو تسلی ہےکہ آج دنیا بھرمیں جہاں پر
بھی تمہارے ساتھ جو کچھ زیادتی ہورہی ہے ستایا اور مذاق اڑیا جا رہا ہے قدم
قدم پرجو مشکلیں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں،اس پر ہرگز دل شکستہHeartbroken٫
اور دل برداشتہ Dejected نہ ہوں ٫اپنےحوصلہ بلند رکھتے ہوےاپنےحقیقی نصب العین
و موقف اور مذہبی تشخص پر ہمت سے قائم رہو۔اس بات پر یقین رکھو کہ آج جولوگ
اہل حق کا
مذاق اڑا رہے ہیں ،وہ کل خود مذاق بن جائیں گے، اوریہ بات بھی کچھ بعید نہیں
کہ اللہ تعالی ان میں کے بہت سوں کوہدایت سے نوازدے،جبکہ اللہ کے نیک
بندے”امربلمعروف والنھي عن المنکر“کا عظیم فریضہ بڑی حکمت ودانش مندی اور
دلسوزی کے ساتھ تمام اولاد آدم کی بھلائ کے لئےانجام دیتے رہیں،اور وہ
خودبھی اپنے ایمانی تقاضوںRequirements of faith کو پورا کرتے ہوے زندگی کےشب
وروز گزاریں ۔۔۔۔۔!

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

🌱 New Reporter ★★★★★
M

Mailer

📍 N/A

📰 9 پوسٹ 👁 76 قارئین 📊 8.4 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

DHARNA SIR PN 01-10-2026

HIFZ (JDH) PN WITH PHOTO

PN URDU & ENGLISH IICD 01-10-2026

مقبول ترین پوسٹس

صحافی ستیم مشرا پر حملہ کرنے والوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے - سراج احمد قریشی

👁 72 ویوز

नाना पाटेकर ने पेश की गंगा-जमुनी तहजीब की मिसाल, नाती के कान में मदरसे के उस्ताद से दिलवाई अज़ान

👁 47 ویوز

पत्रकारिता लोकतंत्र की रीढ़, कलम की स्वतंत्रता की रक्षा हम सभी की जिम्मेदारी - सरयू राय

👁 42 ویوز

والدین کی تربیت: اولاد کے لیے دنیا و آخرت میں رفعت و کامیابی کا عظیم الشان زینہ ہے

👁 37 ویوز

رویندر ناتھ ٹھاکر اور 'وشو بھارتی' یونیورسٹی

👁 35 ویوز